کیا مودی ایک نئے دور کی ابتدا کرسکیں گے؟
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 27 / مئ / 2019
- 4540
اس بات کا اندازہ تو سب کو ہی تھا کہ بھارتی انتخابات میں مودی اوران کی جماعت جیتے گی مگر سیاسی پنڈتوں کے بقول اس بار انتخابی نتائج عملی طور پر ماضی کے نتائج سے مختلف ہوسکتے تھے۔ منطق یہ دی جارہی تھی کہ جیت تو مودی کی ہوگی مگر بھار ت میں مخلوط او رکمزور حکومت بننے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔۔
ایک دلیل یہ بھی دی جاتی تھی کہ بھارت میں حکومت بنانے میں کلیدی کردار وہاں کی علاقائی جماعتیں ادا کریں گی اور وہ بی جے پی اور کانگریس میں سے جس کی حمایت میں اپنا پلڑا ڈالیں گی وہی حکومت بناسکے گا۔ مگر نریند ر مودی کے جادواور سحر نے سب کچھ بدل ڈالا او ر2014کے نتائج کے مقابلے میں زیادہ برتری حاصل کرکے ثابت کیا کہ وہ مشکل حالات میں بھی بڑا سیاسی معرکہ جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے سیاسی مخالفین جن میں کانگریس اور علاقائی جماعتیں شامل تھیں پانی کا بلبلہ ثابت ہوئیں۔
بھارتی انتخابات کے نتائج کی اچھی بات یہ ہے کہ اس نے بی جے پی اور نریندر مودی کو واضح اور شفاف مینڈیٹ دے کر ثابت کیا کہ وہ عملاً بھارت میں کسی بھی طرح کی کمزور حکومت کے مقابلے میں ایک مضبوط حکومت کے خواہش مند تھے۔ اب جو واضح اور بڑا مینڈیٹ مودی کو ملا ہے جسے خود تمام حزب اختلاف کی جماعتوں نے نہ صرف قبول کیا بلکہ مودی کو مبارکباد دی، وہ یقینی طور پر بھارت کے انتخابی و جمہوری عمل اور نظام کی سیاسی ساکھ کو یقینی بناتاہے۔ خطہ کی سیاست کے تناظر میں بھی اچھی بات یہ ہے کہ مودی ایک بڑے مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ اقتدار کا حصہ بنے ہیں او راس وقت بھارت میں ایک مضبوط حکومت ہی بھارت اور خطہ کی سیاست کے لیے اہم ہے۔ کیونکہ کمزور طرز پر مبنی جمہوری حکومتیں عملی طور پر داخلی بحران کا شکار ہوتی ہیں اور بھارتی ووٹرز کو داد دینا ہوگی کہ وہ کسی ذہنی الجھاؤ اور مودی مخالف مہم کا حصہ بننے کی بجائے مودی کے ساتھ کھڑے نظر آئے جو مودی مقبولیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
مودی کا یہ انتخابی معرکہ 2014کی انتخابی جیت سے بڑا معرکہ ہے۔ کیونکہ 2019کا سیاسی ماحول دیکھیں تو بظاہر اس میں مودی کو ماضی کے مقابلے میں بڑا چیلنج تھا۔ بڑا نعرہ سیکولر بھارت اور ہندوتوا پر مبنی بھارت کے درمیان تھا۔ یقینی طور پر سیکولر سیاست کے حامیوں کو شکست ہوئی اور بھارت کے ووٹرز نے مودی کے سیاسی بیانیہ اور ہندوتوا پرمبنی سیاست کی حمایت کرکے ثابت کیا کہ وہ سیکولر سیاست کے اب حامی نہیں رہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ مودی کی جیت کو محض ہندوتوا پر مبنی سیاسی ایجنڈے کے تناظر دیکھتے ہیں مگر یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اسی ایجنڈے میں مودی سرکار کے کچھ عوامی خدمات سے جڑے منصوبے او رترقی کا عمل بھی ان کی بڑی کامیابی کی ضمانت بنا ہے۔ کیونکہ بہرحال ووٹرز کے سامنے جہاں نظریاتی سوچ کا غلبہ ہوتا ہے وہیں وہ اپنی مقامی سیاست سے جڑے مسائل کو بھی بنیاد بنا کر ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس جیت کی اہم بات یہ بھی کہ گزشتہ برس پانچ ریاستوں کے انتخابات میں مودی جماعت کی شکست کے بعد ایسا لگتا تھا کہ مودی کی شکست کی لہر آگے بڑھے گی مگر یہ اندازے مودی نے غلط ثابت کردیے۔
میں بھارت کے انتخابات کو محض بھارتی انتخابات تک محدود ہوکر نہیں دیکھتا۔ یہ انتخابی نتائج فطری طور پر جنوبی ایشیا، خطہ سمیت پاکستان کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ بھارت کے انتخابی نتائج اور حکومت سازی سے ہم خطہ کی سیاست اور پاک بھارت تعلقات کی عملی سیاست کا بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے تو انتخابات سے قبل ہی مودی کی جیت کی نہ صرف پیش گوئی کی تھی بلکہ اپنی اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ مودی جیتیں گے اور ہم مل کر خطہ کی سیاست کو امن اور ترقی میں لے کر آگے بڑھیں گے۔ خود وزیر اعظم سے جب بھی پاک بھارت کشیدگی پر بات ہوتی تو وہ یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ انتخابات کے نتائج کے بعد مودی حکومت کو پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی پیش قدمی کرنا ناگزیر ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ مودی دوبارہ اقتدار کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کے سامنے جہاں بھارت کی داخلی سیاست کے مسائل ہیں وہیں ان کے سامنے خطہ سے جڑے مسائل جس میں کشمیر، پاک بھارت تعلقات اور خطہ کے دیگر مسائل شامل ہیں۔ عمومی طور پر انتخابی مہم اور اس سے جڑے مسائل اور طرز عمل کافی مختلف ہوتا ہے۔ لیکن انتخابات کے بعد کا ماحول انتخابی مہم کے ماحول سے کافی مختلف بھی ہوتا ہے۔ کیا واقعی ہم مودی کا دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئے نریندر مودی کو دیکھ سکیں گے جو محض انتخابی سیاست کے ماحول سے زیادہ ایک مدبر اور فہم فراست پر مبنی سیاست کی قیادت کرسکے گا۔
نریندر مودی کے سامنے تین بڑے چیلنجز ہیں۔ اول کیا وہ ایسے کسی ماحول کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں جو پاک بھارت ڈیڈ لاک کو تو ڑ کر باضابطہ مذاکراتی عمل کو شروع کرسکے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان مسائل اپنی جگہ مگر بڑا مسئلہ ڈیڈ لاک اور بداعتمادی کی فضا ہے جو ماحول کو اور زیادہ کشیدگی کی طرف بڑھاتا ہے۔ اس کے لیے مودی کو ماضی اور ہندوتوا سے جڑے انتہا پسند مودی کے خول سے باہر نکل کر ایک بڑے سیاست دان کا کردار ادا کرنا ہے جو ماضی کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔ دوئم ایک عمومی تصور جو درست بھی ہے کہ مودی سیکولر سیاست کی بجائے ہندوتوا اور انتہا پسندی کی سیاست کے حامی ہیں۔ ان کے مخالفین بھی اسی بڑے مسئلہ کو ہتھیار بنا کر ان کے خلاف مخالفانہ مہم چلاتے ہیں کہ وہ بھارت کی مذہبی بنیاد پر تقسیم کے ذمہ دار ہیں۔ کیا اب جیت کر مودی اسی ہندو توا کی سیاست میں شدت پیدا کریں گے یا اس میں بند باندھ کر کچھ نیا کر دکھائیں گے۔ سوئم کشمیر کے مسئلہ پر ان کی جارحانہ پالیسی اور بالخصوص آئین میں ترمیم کے نکتہ کو آگے بڑھاتے ہیں یا وہاں جاری کشیدگی میں کمی کی سیاست کرکے خود کو قابل قبول بناتے ہیں۔
سیاسی پنڈت مودی کی مستقبل کی سیاست کے بارے میں تقسیم ہیں۔ ان کی مستقبل کی سیاست کے تناظر میں حمایت اور مخالفت دونوں پہلو موجود ہیں۔ ایک طبقہ کا خیال ہے کہ مودی زیاد ہ شدت کے ساتھ اپنی ہندوتوا کی سیاست کا پرچار کرے گا اور یہ بڑا مینڈیٹ اسی بنیاد پر ملا ہے کہ وہ اپنے ہندوتوا پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھائے۔ کیونکہ ماضی میں بھی مودی سرمایہ داروں کے ترقی سے جڑے ایجنڈے سے ہٹ کر انتہاپسندی پر مبنی سیاست کے ساتھ جڑے نظر آئے۔ان کی انتہا پسند پالیسیوں نے خطہ کی سیاست کو بھی متاثر کیا۔ ان کے بقو ل جو لوگ مودی میں بڑی تبدیلی دیکھ رہے ہیں وہ مودی کے اس بڑے مینڈٹ کو نہ بھولیں جو اسے اسی پالیسی کی بنیاد پر ملا ہے جو اس نے بھارت و خطہ میں اختیار کی ہوئی تھی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اگرچہ کم ہیں لیکن وہ اس دفعہ مودی کی جیت سے زیادہ توقع ماضی کے ایجنڈے سے مختلف دیکھتے ہیں۔ اس میں جہاں داخلی سیاست ہے وہیں امریکہ سمیت عالمی ایجنڈا بھی ہے جو پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے عمل کو دیکھنا چاہتا ہے۔ مودی کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ اس دفعہ ماضی کے مودی سے مختلف نظر آئے۔ کیونکہ اگر مودی نے محض سیاست دان خود کو ثابت کرنا ہے تو وہ سابقہ ایجنڈے تک بھی محدود رہ سکتے ہیں۔ مگر اگر وہ سیاست دان کے مقابلے میں وہ خطہ میں ایک بڑے راہنما کے طور پر سامنے آنا چاہتے ہیں تو اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
خطہ اور بالخصوص پاکستان اور بھارت کے معاملات پیچیدہ ہیں لیکن کسی نے تو اسے بریک کرنا ہے۔ اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ذہنی طور پر بھارت سے بہتر تعلقات چاہتی ہے تو اس کا ہر سطح پر فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مودی اگرچہ باھری اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں مگر ان کے مخالفین موجود ہیں اور مودی کا بڑا پیغام بھی بھارت اور خطہ کی ترقی ہی ان مخالفین کو ہوسکتا ہے کہ میں بھارت اور خطہ کی کشید گی کو کم یا ختم کرنا ہے ۔یہ کا م مودی کرسکتے ہیں اور ان کے پاس صلاحیت بھی ہے او رایک بڑا مینڈیٹ بھی جو مودی سے بڑے کردار کی توقع رکھتا ہے۔