جؤا بازی: گھر برباد کرنے والی سماجی لت
- تحریر آبیناز جان علی
- منگل 28 / مئ / 2019
- 8220
آج کل ذرائع ابلاغ کے توسط سے عوام کو لطف اٹھانے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کے لئے، آنکھ بند کر کے جؤا کھیلنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ ایسے اشتہارات عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں کہ محض تفریح کے لئے کھیلنے سے ان کے حالات زیادہ سازگار ہوجائیں گے۔
لیکن حقیقت اس کے بر خلاف ہے۔ قماربازی کی لت لگ جانے سے زندگی جہنم سے بدتر ہو سکتی ہے۔ ماہرِ سماجیات معاشرے کو متنبہ کرتے ہیں کہ جؤا خوشحالی نہیں لاتا بلکہ مستقل مفلسی میں مبتلا کردیتا ہے۔ جؤا کھیلنے سے زندگی بہتر کیسے ہوسکتی ہے جب خدا نے اپنی کتاب میں یاد دلایا ہے: ’اے ایمان والو! شراب اور جؤا اور بت اور پانسے ناپاک ہی شیطان کے گندے کام ہیں۔ تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤگے‘۔
یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں جواری عوام کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور اہلِ سیاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ 2015 میں 52 فی صد اہلِ موریشس جوئے باز تھے۔ ایک جواری ہفتہ میں اوسطاً سو روپے جؤا میں لگاتا ہے۔ صرف لوٹو کھیلنے کے لئے ہفتے میں کم و بیش پچھتر روپے لگائے جاتے ہیں۔
کیسینو، گیم ہاؤس، قمار خانے اور لاٹری فروخت کرنے کی جگہیں بڑھتی جارہی ہیں۔ 2015 میں اعلان کیا گیا تھا کہ کھیل کے لئے کوئی اجازت نامہ نہیں دیا جائے گا۔ پھر بھی بدیسی فٹ بال اور گھڑ دڑر کے لئے پچھتر پرمٹ دئے گئے۔ مزید شیطان اپنا جال وسیع تر کرتا جارہا ہے تاکہ انسانی بقا خطرے میں پڑجائے۔ لاٹری، لوٹو، پول، رولیٹ، پیسوں کی مشین، آن لائن بیٹنگ، ایس ایم ایس کے ذریعے جؤا کھیلنا، الیکٹرانک لاٹری جیسے کھیل سے شیطان نئے نئے طریقے سامنے لاتا جا رہا ہے۔ اب گھروں میں بھی لوگ ٹی وی پروگرام تجسس و اشتیاق سے دیکھتے ہیں جہاں پیسوں کے لئے کھیلا جارہا ہے اور ایسے کھیل مقبول ہوتے جارہے ہیں۔ قماربازیوں میں شراب کو خوب بیچا جاتا ہے۔ گویا یہ دونوں نقص لازم و ملزوم ہوجاتے ہیں۔ جؤا اپنی آغوش میں کئی سماجی برائیوں کو یکجا کرتا ہے۔
جؤا ایک ایسا سرطان ہے جو آہستہ آہستہ دھیمی آنچ میں سماج کو جلا رہا ہے۔ لیکن لوگ جؤا کیوں کھیلتے ہیں؟ جؤا کے نتائج پہلے سے سامنے نہیں آتے، اس لئے ایک اشتیاق اور قسمت آزمانے کا جوش پیدا ہوتا ہے۔ جوش میں خوشی و مسرت محسوس ہوتی ہے۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی وہ بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ خالی دماغ شیطان کا گھر ہے۔ چنانچہ جب آدمی کو کچھ نہیں سوجھتا تو وقت کی برباد ی کے لئے غلط راستے پر چل نکلتاہے۔ کچھ لوگ قرضے سے نکلنے کے لئے پیسے جیتنے کی امید سے کھیلتے ہیں۔ جو لوگ ایک بار جیت جاتے ہیں، دوسری بار اپنی تقدیر آزمانے کے لئے دوبارہ کھیلنے کے آرزومند ہوتے ہیں تاکہ کھویا ہوا پیسہ دوبارہ حاصل ہوسکے۔ دونوں صورتِ حال میں وہ ایک ایسے بھنور میں پھنس جاتے ہیں جن سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کسی چیز کی لت پڑنے سے انسان جھوٹ بولنے لگتا ہے، قرض میں غرق رہتا ہے، چوری کرتا ہے، دوسروں سے دور رہنے لگتا ہے۔ کچھ لوگ عصمت فروشی پر مجبور بھی ہوجاتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ 55 فی صد مقروض ہونے کی وجہ کھیل میں پیسے لگانا ہے۔ جؤا کا براہِ راست اثر خاندانی زندگی پر ہوتا ہے۔ پیسوں کے مطابق کوئی بھی بات چیت کا رخ گھر میں جواری کی طرف سے بحث و تکرار کی شکل اختیار کرتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ خاندانی حلقے سے علیحدگی اختیار کرنے لگتا ہے۔ اسے بس کھیل کی فکرستانے لگتی ہے۔ اس کا کھانا پینا اور راتوں کی نیند حرام ہوجاتی ہے۔ اب وہ سونے کی دوائی کا محتاج ہوجاتا ہے یا ایسی دوائیوں کا سہارا لینے لگتا ہے جو اسے مصنوعی راحت دیتے ہیں۔
اس طرح قماربازی سے میاں بیوی کے رشتے میں خلل پیدا ہوجاتا ہے اور بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ پیسوں کی پریشانی کے باعث وہ لوگوں سے ادھار لینے لگتا ہے۔ اس کا کام پر دھیان نہیں رہتا اور وہ صرف اپنے قرضے کے بارے میں سوچتا ہے۔ قرض داروں سے بھاگنے اور منہ چھپانے کی نوبت آجاتی ہے۔ گھر والوں کو بھی ذلت اور بدنامی کا حصّے دار بننا پڑتا ہے۔ آخرکار سب برباد ہوجاتا ہے۔ جؤا میں مبتلاانسان اپنے خاندان، اپنے دوستوں اور اپنے معاشرے کو ساتھ لے ڈوبتا ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی گھر پر بچے اور ان کے دوست بھی اسی راستے پر چل نکلتے ہیں اور ان کا بھی یہی حال ہو جاتا ہے۔
آج کل اشتہارات اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن بھی لوگوں کو پیسوں کے لئے کھیلنے پر اکساتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سماج اس بیماری کے بارے میں آگاہ ہو اور عوام کو اس خطرے سے متنبہ کیا جائے۔ کیونکہ جؤا صرف ایک مخصوص عمر کے لوگ ہی نہیں کھیلتے، یا ایک سماجی طبقہ یا ایک مخصوص قوم اس کی گرفت میں نہیں ہے بلکہ کوئی بھی اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ انسانیت کی بھلائی کی خاطر اور اپنے گھر اور بچوں کی حفاظت کے لئے عوام کو آواز اٹھانی چاہئے۔
اس کے علاوہ اپنے پیسوں کی طرف ذمے دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مشاہرہ خدا کی طرف سے رزق ہے جس سے ہماری اور بیوی بچوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ انہی پیسوں سے ہمارے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ چنانچہ ان پیسوں کا احترام کیا جائے اور سمجھداری اور اپنی چادر کے مطابق پیسے خرچ کئے جائیں اور لالچ جیسی بری بلا سے دور رہا جائے۔