قبائیلی عوام کے مسائل حل کئے جائیں

قائد اعظم نے نئی مملکت پاکستان کا گورنر جنرل بنتے ہی حکم جاری کیا کہ قبائلی علاقوں سے فوج نکال دی جائے۔

 پاکستان کے پہلے آرمی کمانڈر انچیف جنرل سر فرینک میسوروی نے قائد اعظم سے کہا کہ ہمیں ( انگریز فوج کو) قبائلی علاقوں میں قبضہ کرنے اور اپنی قلعہ بندیاں قائم کرنے میں دو سو سال لگے ہیں۔ وہاں سے فوج نکال لی تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ اس پر قائد اعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے فوج نکلنے سے ہی قبائلیوں کو معلوم ہو گا کہ پاکستان بن گیا ہے اور اب وہ آزاد ملک پاکستان کے شہری ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سرحد ( کے پی کے) بالخصوص قبائلی علاقہ جات کے قبائل کو پاکستان کا بازوئے شمشیر زن کہا جاتا تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر قبائلی اسلحے سے لیس ،مسلح لڑائی کی مہارت سے آراستہ اور دلیری کا حامل رہا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت قبائلی علاقوں میں ہر قسم کا اسلحہ بنانے کی دیسی فیکٹریاں بھی تھیں۔ قیام پاکستان سے پہلے صوبہ سرحد کے مسلم لیگی رہنماؤں ( جو پہلی اسمبلی میں رکن اسمبلی بھی بنے)  نے قبائلی علاقوں کی فیکٹریوں کے مالکان سے وعدہ کیا تھا کہ ان کو بہتر اسلحہ بنانے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور حکومت ان سے اسلحے بھی خریدے گی۔ لیکن قومی اسمبلی میں ان ارکان کے مطالبے کے باوجود ایسا نہ ہو سکا۔
پاکستان بننے کے دو ماہ بعد پاکستان کی طرف سے قبائلیوں کو ریاست کشمیر بھیجا گیا۔مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے قبائلی گروپوں سے کہا گیا کہ وہاں کافر کی حکومت ہے اور وہ مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں، ان کو مارو اور مال غنیمت تمہارا۔قبائلی لشکر ضلع ہزارہ کے بالاکوٹ علاقے سے ہوتے ہوئے براستہ برار کوٹ مظفر آباد داخل ہوئے اور پیش قدمی کرتے ہوئے بارہ مولہ تک پہنچ گئے۔قبائلی کشمیر میں مسلمان یا ہندو ہونے کی بابت یوں پوچھتے تھے '' کلمہ پڑھ یا گولی کھا''، یعنی مسلمان ہے تو کلمہ پڑھ ورنہ تیرے لئے گولی ہے۔اب یہ جملہ ایک ضرب المثال بن گیا ہے کہ '' کلمہ پڑھ یا گولی کھا''۔
بارہ مولہ میں دو قیمتی دن ضائع کرنے کے بعد سرینگر کی جانب پیش قدی کی تو انڈین فوج ہوائی جہازوں کے ذریعے سرینگر پہنچ چکی تھی۔ سرینگر کے نواحی علاقے( جو اب سرینگر کے اندر ہی واقع ہے) شالہ ٹینک کے مقام پر متعدد جھڑپوں میں کثیر تعداد میںجانی نقصان اٹھانے کے بعد قبائلی پسپا ہو گئے۔قبائلی لشکر کے کمانڈر اعلی جنرل اکبر خان اپنی کتا ب'' کشمیر کے حملہ آور'' میں لکھتے ہیں کہ شالہ ٹینگ میں انڈین فوج نے مشین گن لگا کر مضبوط مورچے قائم کر لئے تھے۔اس کے سامنے قبائلیوں کی یلغار بھی ناکام رہی۔اوپر سے انڈین آرمی کے ہوائی حملے بھی جاری تھے۔اس صورتحال میں وہ ہنگامی طور پر راولپنڈی آئے اور متعلقہ فوجی افسر سے دو بکتر بند گاڑیاں طلب کیں۔ اس نے کہا کہ لے جاؤ۔ لیکن ضابطے کی کارروائی مکمل کر نا ضروری ہے۔ ضابطے کی کارروائی میں بکتر بند گاڑیاں کشمیر لے جانے کی اجازت نہ مل سکی۔
افغانستان میں روسی فوج کی آمد ہوئی تو اس سے تقریباً دوسال پہلے ہی جنرل ضیاء الحق کی سربراہی میں فوج نے ملک میں مارشل لاء لگا کر ملک کے اقتدا ر پر قبضہ کر لیا تھا۔جنرل ضیاء حکومت نے روسی فوج کے خلاف مزاحمت کرنے والے افغان گروپوں کی ہر طرح سے بھر پور مد د کی۔افغانستان سے ملنے والے پاکستان کے قبائلی علاقے افغان مجاہدین کے بیس کیمپ بن گئے۔ امریکہ کی سربراہی میں یورپ،عرب ممالک نے روسی فوج کے خلاف برسرپیکار افغان مجاہدین کی ہر طرح سے بھر پور مدد کی۔
قبائلی علاقوں سے افغان مجاہدین  کے لئے ہر قسم کی رسد کا کام وسیع پیمانے پر جاری رہا۔قبائلی علاقوں اور ملحقہ افغانستان کے علاقوں میں مجاہدین کے ٹریننگ کیمپ قائم گئے گئے جہاں امریکی ترغیب اور سہولت کاری سے مسلم ملکوں سے لوگ افغانستان میں جہاد کرنے آنے لگے۔ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں امریکی آشیر باد میں بھر پور طور پر جہاد افغانستان کے بیس کیمپ میں مصروف عمل رہیں۔تقریباً نو سال کے بعد روسی فوج افغانستان سے نکلی تو قبائلی علاقوں میں یہ سرگرمیاںکم ہونے لگیں۔تاہم افغان جہاد کی بدولت افغان مجاہدین ہی نہیں ،عربوں ، پاکستانیوں اور کئی دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے بھی عسکری گروپ بھی سامنے آگئے ۔انہی میں القاعدہ بھی تھی، طالبان ، حقانی نیٹ ورک بھی تھا اور بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان بھی وجود میں آگئی۔

نائن الیون کے بعد القاعدہ، حقانی نیٹ ورک کے خلاف امریکی کارروائیاں شروع ہو گئیں اور دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کے خلاف مسلح حملے شروع کر دیئے۔سالہا سال پہلے ایک عزیز فوجی افسر سے قبائلی علاقوں میں موجود باغی مسلح گروپوں کے بارے میں بات ہوئی تو وہ عزیز کہنے لگا کہ '' آپ یوں سمجھیں کہ وہ پہلے ہمارے ملازم تھے، ہم نے انہیں نکال دیا تو وہ دشمن کے ملازم بن گئے''۔جب ان باغی گروپوں کی سرگرمیاں تیز ہوئیں تو پہلے سوات اور پھر قبائلی علاقوں میں ان گروپوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہوئے۔اب تک غالب ترین علاقوں سے ایسے گروپوں کا صفایا کیا جا چکا ہے تاہم افغانستان میں موجود ایسے گروپ وہاں سے پاکستانی فورسز کے خلاف اور پاکستانی شہروں میں بم دھماکوں وغیرہ کی کاروائیاں اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فوجی آپرشنز کے سلسلے میںلاکھوں کی تعدا د میں قبائلی عوام کو اپنے علاقوں سے چند سالوں کے لئے اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔ آپریشن کی تکمیل پر قبائلی واپس تو آگئے لیکن ان انہیں مختلف نوعیت کے کئی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔قبائلی علاقوں کو قانون سازی کے ذریعے صوبہ کے پی کے میں شامل تو کر لیا گیا لیکن وہاں فوجی کاروائیوں اور بحالی کی کاروائیوںکے علاوہ دیگر امور بھی فوج کے پاس ہی ہیں۔اس سے ایک بڑا سیاسی خلاء پیدا ہوا۔ اس صورتحال میں مقامی مسائل و امور کے حوالے سے مقامی قبائل میں سیاسی بیداری پیدا ہوئی  اور انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔

26 مئی کو وزیرستان میں فوج اور قبائلی مظاہرین کے درمیان فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ یہ کہ قبائلی ہمارے جسم کا حصہ ہیں، وہ قیام پاکستان سے اب تک اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر پاکستان کے لئے بھر پور کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ ان کے مسائل فوری اور ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا از حد ضروری ہے۔  قبائلی عوام پاکستان کے بازوئے شمشیر زن ہیں۔ سب کا مفاد اسی میں ہے کہ قبائلی علاقوں میں با اختیار سول انتظامیہ کے دائرہ اختیار کو قائم اور مضبوط بنایا جائے۔ ان کو عسکری قوت کے بجائے سیاسی طور پر ڈیل کیا جائے۔

حکومت، سول انتظامیہ جنگی صورتحال سے متاثرہ ان علاقوں کے بہادر پاکستانی قبائلی عوام کی تشویش دور کرنے کو یقینی بنائے اور قبائلی عوام کی تعاون سے دہشت گردوں کے خلاف حکمت عملی اختیار کی جائے۔ پاکستان کے ہر صوبے ، ہر علاقے کے عوام قبائلی عوام کی مشکلات و مسائل اور موجودہ سنگین صورتحال پر پریشان ہیں اور اپنی تشویش بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ قبائلی نہ تو پاکستان کے دشمن ہیں اور نہ ہی ایسا سمجھنا چاہئے۔کیا کوئی اپنے جسم کے صحت مند حصے کو خود سے کاٹ سکتا ہے۔