اس خوف اور گھٹن کو جمہویت کیسے کہا جائے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 28 / مئ / 2019
- 5220
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اتوار کو شمالی وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم ) کے مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ البتہ یہ خبر دینے والے ادارے وائس آف امریکہ اردو سروس پر پاکستان میں پابندی عائد ہے اور اس کی ویب سائٹ کو کھولا نہیں جاسکتا۔ پی ٹی ایم کی طرف سے گزشتہ تین روز سے میران شاہ میں اتوار کو ڈوگا گاؤں میں ہونے والے سانحہ کے خلاف دھرنا جاری ہے جبکہ فوج اور سیکورٹی ادارے ملک بھر سے اس دھرنے میں شرکت کے لئے آنے والے لوگوں کو گرفتار کرنے میں مصروف ہیں۔ البتہ اس بارے پاکستانی میڈیا کو بولنے یا خبر دینے کی اجازت نہیں ہے۔
پشتو زبان کے سب سے بڑے ٹیلی وژن چینل خیبر نیوز کے ایک صحافی گوہر وزیر کو قومی اسمبلی کے رکن اور میران شاہ دھرنے کی قیادت کرنے والے پی ٹی ایم کے لیڈر محسن داوڑ کا ایک انٹرویو کرنے کے بعد گرفتار کرکے غائب کردیاگیا ہے۔ خیبر نیوز کا کہنا ہے کہ اس کے ایک نمائندے کو بنوں شہر میں پولیس کی طرف سے گرفتار کیا گیا ہے، لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ بنوں میں رپورٹر گوہر وزیر پیر کی شام پی ٹی ایم کے احتجاج کی کوریج کے بعد گھر جا رہے تھے کہ راستے میں پولیس نے گرفتار کر کے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ پولیس نے گوہر وزیر کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لاپتہ ہونے والے صحافی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ گوہر وزیر نے پیر کو ایم این اے محسن داوڑ کا ایک مفصل ویڈیو انٹرویو کیا تھا جو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا تھا۔
قومی اسمبلی میں اس حوالے سے دو واقعات دیکھنے میں آئے ۔ قائمہ کمیٹی برائے دفاعی امور نے ایک متفقہ قرار داد میں اتوار کو پیش آنے والے سانحہ کی مذمت کی ہے۔ اس موقع پر ڈیفنس سیکرٹری لیفٹینٹ جنرل (ر) اکرام الحق نے بتایا کہ ’گزشتہ ماہ کے دوران شمالی وزیرستان کے قصبہ ڈوگہ پر دو مرتبہ حملہ کیا گیا۔ 25 مئی کو اس حوالے سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 26 مئی کو پشتون تحفظ مومنٹ نے دھرنا دیا۔ دھرنا دینے والوں سے بات چیت کے نتیجے میں ایک مشتبہ کو رہا کرنے کا وعدہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں مظاہرہ ختم کرنے کا فیصلہ ہؤا۔ تاہم قومی اسمبلی کے ارکان علی وزیر اور محسن داوڑ نے دھرنا دینے والے لیڈروں کو مظاہرہ جاری رکھنے پر اکسایا۔ یہ دونوں موقع پر پہنچ گئے اور فوجی افسروں سے جھگڑنے لگے۔ ان دونوں نے مظاہرین کے ساتھ مل کر فوجی چیک پوسٹ پر پتھراؤ کیا اور فائرنگ بھی کی۔ اس کے نتیجے میں پانچ فوجی زخمی ہوگئے۔ فوج نے اس کے باوجود انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا لیکن بعد میں ہجوم نے چیک پوسٹ پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں جوابی کارورائی لازمی ہوگئی تھی‘ ۔ کمیٹی نے اس موقع پر خارقمر چیک پوسٹ پر حملہ کے خلاف قرار داد منظور کی اور متنبہ کیا کہ چند عناصر کو امن و امان کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انتہاپسندوں کو پوری طاقت سے کچل دیا جائے گا۔ قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ انتہاپسندوں کے خلاف مکمل آپریشن کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی میں ہی پیپلز پارٹی کے رکن نوید قمر نے علی وزیر کی گرفتاری پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں قومی اسمبلی کے قواعد پر عمل نہیں کیا گیا۔ اتوار کو فوج نے علی وزیر کو گرفتا کیا اور بعد میں بنوں میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے انہیں 8 روز کے ریمانڈ پر بھیج دیا۔ نوید قمر کا کہنا تھا کہ اس معاملہ پر پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو مطلع کیا جانا ضروری تھا۔ انہوں نے متعلقہ قواعد بھی اسپیکر کے سامنے پیش کئے۔ جس کے بعد اجلاس کی صدار ت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان کو اس معاملہ کو دیکھنے کی ہدایت کی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں منظور کی جانے والی قرار داد کا متن اور وہاں سیکرٹری دفاع کی بریفنگ ہی دراصل اس معاملہ پر حکومت کا جواب سمجھنا مناسب ہوگا۔ کیوں کہ عام طور سے معمولی سی بات پر متعلقہ اور غیر متعلقہ امور پر بیان جاری کرنے والے وزیر یا تحریک انصاف کے ترجمان شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے سانحہ اور اس کے بعد اس حوالے سے سیکورٹی حکام کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اتوار کو اس تصادم کی خبر سامنے آنے کے بعد پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرادری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے عوام کے ساتھ تصادم کو مسترد کرتے ہوئے اس واقعہ کی پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ سوموار کو مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف قومی اسمبلی میں بھی یہ تجویز بھی پیش کی تھی۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو خود ایوان میں آکر ڈوگا گاؤں سانحہ پر ارکان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ عمران خان نے اس حوالے سے ایک لفظ بھی کہنا ضروری نہیں سمجھا حالانکہ چند ہفتے پہلے ہی وہ خود کو قبائیلی علاقوں کے شناور قرار دیتے ہوئے ان کے تمام مسائل حل کرنے کے بلند بانگ دعوے کرچکے ہیں۔
گزشتہ روز پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن نے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے ایک بیان میں شمالی وزیرستان میں ’فوجی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں پی ٹی ایم کے تین کارکنوں کی ہلاکت‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے تنظیم اور سکیورٹی اداروں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ریاست اور قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن نے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ایک پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے جو معاملے کی تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم ایک برس سے زیادہ عرصے سے قبائلی اضلاع کی مقامی آبادی کے مسائل کو اجاگر کرتی آئی ہے اور یہ خدشات دور کرنے اور مطالبات پورے کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے اور ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کو قبائلی اضلاع تک آزادانہ رسائی دی جانی چاہیے۔
اپوزیشن اور انسانی حقوق کمیشن کے مطالبہ اور تشویش پر حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی ہے۔ آج انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں اتوار کو فورسز کی مبینہ فائرنگ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے تین کارکنوں کی ہلاکت کے واقعہ کی فوری آزادانہ تحقیقات کروائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس وقت فائرنگ ہوئی اس وقت پی ٹی ایم کے دو رہنما اور رکن پارلیمنٹ شمالی وزیرستان میں افغان بارڈر سے متصل علاقے خرقمر میں ایک جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔ اس دوران اچانک فائرنگ شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں تین کارکن ہلاک ہو گئے۔
اس دوران شمالی وزیرستان میں کرفیو کا سلسلہ جاری ہے اور سڑکوں کو آمد و رفت کے لئے جزوی یا مکمل طور سے بند کیا گیا ہے۔ پی ٹی ایم کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر سے ان کے کارکن میراں شاہ دھرنے میں شرکت کے لئے آرہے ہیں لیکن سیکورٹی فورسز انہیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔ اس مقصد کے لئے پی ٹی ایم کے سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاری کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ علاقے میں موبائل سروس اور ٹیلی فون سہولتیں مسلسل بند ہیں اور فوج غیر رہائشیوں کو علاقے میں جانے سے منع کررہی ہے۔ بی بی سی اردو کی خبر کے مطابق پیر کو عوامی نیشنل پارٹی کے ایک وفد کو بھی شمالی وزیرستان جانے سے ضرور روکا گیا تھا۔ اے این پی کے ذرائع کے مطابق وفد پارٹی کے سربراہ کی خصوصی ہدایت پر خارقمرکے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کے لئے جا رہا تھا تاہم اس وفد کو ضلع کی حدود سیدگئی پوسٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔
معلومات کی فراہمی کے اس دور میں جبکہ پاکستان کا میڈیا باخبر اور بے باک قرار دیا جاتا ہے اور آئی ایس پی آر کے سربراہ اس سے قومی تشکیل نو کا کام بھی لینا چاہتے ہیں لیکن اس میڈیا کو پشتون تحفظ موومنٹ کا مؤقف سامنے لانے یا واقعات کی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کا حق حاصل نہیں ہے۔ بنوں میں خیبر نیوز کے صحافی کی پر اسرار گرفتاری سے یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اس ریڈ لائن کو عبور کرنے ولا عتاب کا شکار ہوگا۔ آخر وہ کون سے اسباب ہیں کن کی وجہ سے ملک کی فوج ملک کے نوجوانوں کی ایک تحریک کے خلاف اس قسم کا معاندانہ اور جابرانہ برتاؤ درست سمجھتی ہے۔ اور ملک کی حکومت یا پارلیمنٹ کو اس پر رائے دینے یا مداخلت کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔
مسلم لیگ (ن) کی لیڈر مریم نواز نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان پر شمالی وزیرستان کے سانحہ سے پہلو تہی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ بطور وزیر اعظم ان کا فرض تھا کہ وہ اس معاملہ پر قوم کو اعتماد میں لیتے لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا اپوزیشن بھی صرف ایک ایسے وزیر اعظم کو تختہ مشق بناکر تنقید کرنے اور کسی معاملہ پر احتجاج کا شوق پورا کرلے گی جسے نامزد یا خفیہ طاقتوں کا نمائیندہ قرار دیا جاتا ہے۔ ان قوتوں کی چیرہ دستیوں پر کھل کر کون بات کرے گا جو اس وقت پاکستان میں کھلم کھلا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہیں اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اس یک طرفہ مؤقف کی تائد کرکے اپنے قومی فرض سے سبکدوش ہونے کی کوشش کررہی ہے۔
اس سناٹے اور گھٹن کو جمہوریت کا نام نہیں دیاجاسکتا۔ ملک میں انتشار، بد اعتمادی اور خوف کی فضا پیدا کی جاچکی ہے۔ اگر ملک کی سیاسی قیادت بھی اس خوف سے نجات دلانے کے لئے قدم آگے نہیں بڑھائے گی تو وہ کس برتے پر قیادت کا دعویٰ کرسکے گی؟