قومی ایکشن پلان پر نظر ثانی کی جائے گی

  • بدھ 29 / مئ / 2019
  • 5520

پاکستان کے وفاقی محکمہ داخلہ نے نیشنل ایکشن پلان کے چند نکات کو ضم کر کے اس کی ازسرنو تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ اونرشپ کے فقدان کی وجہ سے قومی ایکش پلان کی ذیلی کمیٹیاں، اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے والے رہنما اصول یعنی ٹرمز آف ریفرنس نہیں بن سکے تھے۔ واضح رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے سے قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا۔

اس کے تحت ملک بھر میں دہشت گردی میں ملوث تنظیموں اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جبکہ صوبائی سطح پر ایپکس کمٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت 28 مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ قومی ایکشن پلان کوئی جامع منصوبہ نہیں فراہم کر سکا جس کے پاس مالی وسائل  تھےاور نہ ہی ٹائم فریم تھا۔ اس کے شراکت داروں اور پلان پر عملدرآمد کرنے والوں کی نشاندہی تک نہیں کی گئی تھی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، عسکری فورسز نے اپنے طور پر کامیابیاں حاصل کیں۔

اس اجلاس کے نکات کے مطابق سیکریٹری داخلہ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ نیپ میں وفاقی سطح پر تعاون، مانیٹرنگ، تنقیدی جائزہ لینے کا کوئی طریقۂ کار واضح نہیں تھا۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں کے عدم تعین اور ٹائم لائن کی عدم دستیابی میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا ممکن نہیں۔

وزیر اعظم نے قومی سلامتی کمیٹی برائے داخلہ بشمول ٹرمز آف ریفرنس کی تشکیل کی منظوری دے دی۔ یہ کمیٹی نظر ثانی اور توثیق کی ذمہ دارہوگی۔ سیکریٹری داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان کا کوئی مرکزی ڈیٹا بیس ہونا چاہیے جس میں مشترکہ اسیسمنٹ فریم ورک ڈیٹا کی چھان بین کی جائے۔

سیکریٹری داخلہ نے بیس نکاتی قومی ایکشن پلان کے چند نکات کے انضمام کا مشورہ دیا تاکہ ان پر ایکسپرٹ گروپس بنائے جا سکیں۔ ماہرین کے یہ گروپس ٹرمز آف ریفرنس کی تشکیل، ان پر عملدارآمد، شراکت داروں کی نشاندہی، مانیٹرنگ کا میکنزم، ٹائم لائن اور وسائل کی نشاندہی کریں گے۔

قومی ایکشن پلان کے پہلے اور دوسرے نکتے کو ضم کرنے کی تجویز پیش کی گئی جس کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں سزا یافتہ ملزمان کی سزائے موت پر عمل درآمد اور فوج کے زیر انتظام عدالتوں کی مدت دو سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر انداز سے عملدرآمد کے لیے ماہرین کے 14 گروپ بنائے جائیں گے، جن میں کاؤنٹر ٹیررازم محکمہ کی مضبوطی، مذہب کی بنیاد پر ایذا رسائی، مدارس اور فاٹا میں اصلاحات، کراچی میں امن و امان کا قیام، بلوچستان میں سیاسی مفاہمت، افغان مہاجرین کی واپسی، عسکریت پسندوں سے مفاہمت اور آبادکاری اور تین ملکی بارڈر سکیورٹی پر ماہرین کے گروپس شامل ہوں گِے۔