سینئر ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استعفی دے دیا

  • بدھ 29 / مئ / 2019
  • 4780

ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین ابراہیم نے حکومت کی طرف سے بعض سینئر ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنے پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

ڈان نیوز کو حاصل ہونے والی استعفے کی کاپی کے مطابق زاہد ابراہیم کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ ججز کا احتساب نہیں بلکہ عدلیہ پر حملہ ہے۔ انہوں نے اپنے استعفے میں بتایا کہ ایسا کرنا عدلیہ کی آزادی کو بے تحاشہ نقصان پہنچائے گا جبکہ عدلیہ بنیادی انسانی حقوق اور جمہوریت کی اساس ہے۔

مستعفی ہونے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین ابراہیم نے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نومبر 2018 میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا جو ان کے لیے ایک اعزاز کی بات تھی۔  جس کا مقصد صوبہ سندھ میں بحیثیت وکیل وفاق کی نمائندگی کرنا تھا۔

انہوں نے اپنے استعفے میں مزید کہا کہ گزشتہ روز انہیں میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا کہ وفاق نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ججز کے خلاف بے ضابطگیوں سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے۔ جس کی تصدیق مجھے ایک سرکاری عہدیدار نے بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس اقدام کے بعد میں اپنے دفتر میں کام جاری نہیں رکھ سکوں گا اور اس لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے عہدے سے مستعفی ہورہا ہوں، میرے استعفے کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے ہائی کورٹس کے 2 اور سپریم کورٹ کے ایک جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر کئے ہیں۔  رپورٹس میں مزید بتایا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے ریفرنسز میں ججز پر بیرون ملک جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے الزام لگائے گئے ہیں۔