اسرائیلی تاریخ میں پہلی بار پارلیمان نے خود کو تحلیل کر لیا
- جمعرات 30 / مئ / 2019
- 5810
اسرائیل میں بن یامن نیتن یاہو کی طرف سے حکومت سازی میں ناکامی کے بعد کنیسٹ نے خود کو تحکیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی پارلیمان نے خود کو تحلیل کیا ہے۔ اب نئے انتخابات ستمبر میں ہوں گے۔
نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اسرائیلی پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کراکثریتی بلاک بنانے میں ناکام رہی۔ جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار پارلیمان نے خود کو تحلیل کر لیا ہے۔ کنیسٹ میں ہونے والی رائے شماری میں پارلیمان کو تحلیل کرنے حق میں 74 جبکہ مخالفت میں 45 ووٹ ڈالے گئے۔ ملک میں نئے انتخابات 17 ستمبر کو ہوں گے۔
نو اپریل کو ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ بينی گینٹز کے درمیان ذبردست مقابلہ ہوا اور دونوں نے اپنی اپنی فتح کے دعوے کیے تھے۔ تاہم وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت زیادہ نشستیں جیتنے کے باوجود حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
موجودہ ڈیڈ لاک اس وقت سامنے آیا جب لیکوڈ پارٹی کے اتحادی اور سابق وزیر دفاع ایوگڈور لیبرمین اور نیتن یاہو کے درمیان جبری فوجی بھرتی کے بل پر اختلافات سامنے آئے۔ ایوگڈور لیبرمین نے اس متنازع بل کو مسترد کرتے ہوئے حکمران جماعت کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کر دیا۔ یوں نتن یاہو کا پانچویں بار وزیراعظم بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔
10 اپریل کو سامنے آنے والے نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں دوسری دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مل کر65 نشستوں کا بلاک بنانے کی پوزیشن میں آ گئی تھی۔ تاہم ایوگڈور لیبرمین کے فیصلے سے سیاسی بحران نے جنم لیا جس کا اختتام پارلیمان کی تحلیل پر ہوا۔