پی ٹی ایم کے ایم این اے محسن داوڑ نے گرفتاری دے دی، 8 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

  • جمعرات 30 / مئ / 2019
  • 5260

بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کردیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے خصوصی جج بابر علی خان نے پولیس کی جانب سے محسن داوڑ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کی۔ انہیں 7 جون کو ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔  سی ٹی ڈی نے محسن داوڑ کی 30 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو حراست میں لیا تھا۔ 26 مئی کو بویا میں قائم خڑکمر چیک پوسٹ پر مشتعل ہجوم کی جانب سے حملے اور اس دوران 3 افراد کے ہلاک اور 15 افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کے تناظر میں رکن قومی اسمبلی کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے قبائیلی مشران کے مشورہ پر خود گرفتاری دی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا اس واقعہ کے بارے میں کہنا تھا کہ محسن داوڑ اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر، جو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما ہیں، چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والے گروہ کی سربراہی کررہے تھے۔ آئی ایس پی آر نے  بیان میں کہا تھا کہ 'مشتعل گروہ کچھ روز قبل گرفتار کیے جانے والے دہشت گردوں کے سہولت کار کو چھڑوانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتے تھے'۔

بعد ازاں رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنماؤں نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے فائرنگ نہیں کی جبکہ فوج پر مظاہرین پر فائرنگ کا الزام عائد کیا تھا۔ واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی اداروں نے علی وزیر سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا اور بعد ازاں انہیں ریمانڈ پر انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ کے حوالے کردیا گیا تھا، انہیں حملے کے دوران معمولی زخم آئے تھے۔

گزشتہ روز سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) اکرام الحق نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو آگاہ کیا تھا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کے تانے بانے گزشتہ ماہ فوجی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے سے مل رہے ہیں۔