بریگیڈیئر کو پھانسی اور ایک لیفٹیننٹ جنرل کو چودہ برس قید کی توثیق
- جمعرات 30 / مئ / 2019
- 13750
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جاسوسی کے الزام میں 2 سابق فوجی افسران اور ایک سول افسر کی سزاؤں کی توثیق کردی ہے۔ ایک لیفٹیننٹ جنرل کو 14 قید اور ایک بریگیڈیئر کو موت کی سزا دی گئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سزا پانے والے افسران میں بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال اور سول افسر ڈاکٹر وسیم اکرم شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان کو سزائے موت اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ سول افسر ڈاکٹر وسیم اکرم کی سزائے موت کی توثیق کی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تینوں مجرمان کو غیر ملکی ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کرنے پر پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی۔ آئی ایس پی آر کے میجر جنرل آصف غفور کا ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں وہ دو فوجی افسران کی گرفتاری اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی تصدیق کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 'دونوں افسران بغاوت کے مقدمات میں فوج کی کسٹڈی میں ہیں۔ آرمی چیف نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے احکامات جاری کیے ہیں جن پر کارروائی ہورہی ہے'۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ دونوں علیحدہ کیسز ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں۔ اور اس طرح کا کوئی نیٹ ورک بھی موجود نہیں ہے'۔
انہوں نے کہا کہ 'اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں، کورٹ مارشل کا عمل جب مکمل ہوجائے گا تو میں آپ سے اس کے نتائج شیئر کروں گا'۔