جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت 14 جون کو ہوگی

  • جمعرات 30 / مئ / 2019
  • 5000

اعلیٰ عدلیہ کے دو ججوں کے خلاف بھیجے گئے دو صدارتی ریفرنسوں کی سماعت 14 جون کو ہوگی۔ پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل ابتدائی سماعت کرے گی۔

اعلیٰ عدلیہ کے جن دو ججوں کے خلاف دو روز قبل صدارتی ریفرنس بھجوائے گئے تھے ان میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا شامل ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیرون ملک اثاثوں کو انکم ٹیکس کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔

صدر کی طرف سے بھجوائے گئے ان ریفرنسوں میں ان دونوں ججوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل کو نوٹسں جاری کر دیا ہے۔ اٹارنی جنرل ان صدارتی ریفرنسوں میں پراسیکیوٹر جنرل کا کردار ادا کریں گے اور اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ان کیمرہ ہوگی۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے  گرزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں صدر مملکت سے کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس کی کاپی انہیں فراہم کی جائے۔ واضح رہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہونے کی وجہ سے ایڈشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان بار کونسل نے اپنا ہنگامی اجلاس 12 جون کو طلب کیا ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرنس پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بار کونسل اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے کے حق میں ہے لیکن اعلیٰ عدلیہ کے ایک دو ججوں کو ٹارگٹ کر کے ان کا احتساب کرنا کسی طور پر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں بدعنوان اور نااہل ججوں کی بھرمار ہے جس کی نشاندہی پاکستان بار کونسل کرے گی۔ امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں اعلیٰ عدلیہ میں تعینات ایسے ججوں کی ایک فہرست تیار کی جا رہی ہے جو پاکستان کے چیف جسٹس کو پیش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جو فیصلہ تحریر کیا ہے اس سے حکمران جماعت ان کے خلاف بغض رکھتی ہے اور اس صدارتی ریفرنس کی بنیاد بھی یہی بغض ہے۔ انہوں نے کہا کہ  جوڈیشل کونسل میں ابتدائی سماعت کے بعد اگر ان ریفرنسوں کو جاری رکھنے کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوا تو پھر پاکستان بار کونسل وکلا کی دیگر تنظیموں کے ساتھ مشاورت کرکے اپنا لائحہ عمل تیار کرے گی۔

اس سے پہلے ماضی قریب میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے خلاف بیان دینے پر مس کنڈکٹ کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور محض دو سماعتوں میں ہی ان کے خلاف فیصلہ دے کر انہیں جج کے منصب سے فارغ کر دیا گیا تھا۔

شوکت صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس کو ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔ شوکت صدیقی کے خلاف فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا تھا جو اس وقت پاکستان کے چیف جسٹس ہیں۔