سفر در سفر ۔ 13 ۔ ہمدمِ دیرینہ کا ملنا

چہرا انسانی نفس کے مندرجات کا دیباچہ ہوتا ہے، جسے اہلِ مغرب اس طرح بیان کرتے ہیں کہ :

چہرا انسان کا انڈیکس ہے ۔

 یعنی آدم زاد اپنے چہرے کے خدوخال کی تحریر میں پوری وضاحت اور جملہ تفصیلات  کے ساتھ موجود ہوتا ہے اور کھل کر جھلکتا ہے ۔

کچھ چہرے خیر مقدمی ہوتے ہیں جن میں خوش دلی ، ملن ساری اور دوطرفہ احترام لکھا ہوتا ہے جب کہ کچھ چہرے زنگ زدہ قفل کی طرح ہوتے ہیں جو صدق  و صفا اور تسلیم و تپاک کی چابی سے نہیں کھلتے ۔ اںہیں دیکھیں تو نقوش کی یبوست اور کھردرا پن آنکھوں میں چبھنے لگتا ہے ۔ لیکن آج میں جس خیر مقدمی چہرے کو لگ بھگ چالیس برس بعد دیکھنے جا رہا تھا ، اُس سے ملاقات کبھی میرے روز مرہ میں شامل تھی ۔  ستر کی دہائی میں ، جب میں روزنامہ " آزاد" کے نیوز ڈیسک پر کام کررہا تھا تو رات کی ڈیوٹی کے بعد ، صبح کو نیند کی شفٹ لگا کر ،  گھر کے کچن کے لوازمات لینے بازار کا رُخ کرتا تو گوالمنڈی کے ریلوے روڈ کے چوراہے کو کاٹتی سڑک فلیمنگ روڈ پر اُس چہرے کی زیارت اپنے آپ ہی ہو جایا کرتی تھی جو مہاتما بدھ کی سی پرسکون مسکراہٹ لیے کسان اینڈ کمپنی کے دفتر میں پھولوں کے بیجوں کے درمیان بیٹھا اپنے سفرناموں کی نوک پلک سنوارنے میں مگن ہوتا ۔ جی ، میں مستنصر حسین تارڑ کی بات کر رہا ہوں ۔ " پیار کے پہلے شہر " کا مکین مستنصر حسین تارڑ ۔ مستنصر کی  شخصیت  ہفت پہلو ہے ، جس کے طلسمی  رتن جیڈ کی طرح ان گنت شیڈ ہیں ۔میں نے پہلی بار اُن کے سفر نامے کا ایک حصّہ نئی ادبی تنظیم کے اجلاس میں سنا تھا ، جس کے سیکریٹری ، معروف افسانہ نگار فرخندہ لودھی کے شریکِ حیات  پروفیسر صابر لودھی تھے ۔

مستنصر حسین تارڑ کی نثر ایسی رنگ برنگی ہے جیسے دھنک کے ساتوں رنگوں سے لکھی گئی ہو ، جس میں جابجا آتش بازی چھوٹتی ہے تو اسلوب کے رنگین ستارے،  خواندگی کے آسمان کو چکا چوند کردیتے ہیں ۔ میں اس وقت اُن کی اداکاری یا پھولوں کے بیجوں سے اُن کے عشق کی بات نہیں کر سکتا ، کیونکہ اس طرح بات لمبی ہو جائے گی اور ممکن ہے کہ پورا فسانہ بن جائے ۔ لہٰذا بات اُس ملاقات تک ہی محدود رہنی چاہیے جو آج چالیس برس بعد ہو رہی تھی ۔

مستنصر اب لکشمی مینشن سے نکل کر ڈیفنس کے ایک کہانی جیسے گھر میں رہتے ہیں ۔ میں نے فون کر کے اُن کا ایڈریس نوٹ کر لیا تھا کیونکہ ڈیفنس کا یہ مضافاتی ٹاؤن میرے لیے اجنبی تھا ۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے رہنمائی درکار تھی ، چنانچہ میں نے اپنے بھانجے اُسامہ اور بھانجی عکاشہ کو اپنا رہنما بنایا اور ڈیفنس جا پہنچا ۔ مجھے یاد نہیں کہ جوہر ٹاؤن سے ڈیفنس تک کا سفر کتنے منٹوں میں طے ہوا ہوگا لیکن اندازہ ہے کہ یہ لگ بھگ  نصف گھنٹہ کی مسافت تھی ۔ یہ وہ بستی ہے جہاں میرے دو اور دوست بھی مقیم ہیں ۔ جی ہاں ، ڈاکٹر تبسم کاشمیری اور اصغر ندیم سید لیکن اُن دونوں سے اُس وقت تک رابطہ نہیں ہو سکا تھا ۔

تارڑ ہاؤس پہنچ کر دروازے کی گھنٹی بجائی تو چند لمحوں میں صدر دروازہ کھلا اور میں گھر کی خادمہ کی رہنمائی میں صاحبِ خانہ مستنصر حسین تارڑ تک پہنچ گیا ۔ وہی خیرمقدمی چہرا ، وہی مانوس سی مسکراہٹ ، وہی مسحور آنکھیں ۔ تب اچانک شاعری کا بٹن دبا اور یاد کی کتاب سے ایک شعر نکل کر ذہن میں گونجنے لگا :

اے دوست ! کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا

بہت ہے ، مُلاقاتِ مسیحا و خضر سے

مگر یہ مسیحا و خضر کی نہیں مستنصر حسین تارڑ اور مسعود مُنّور کی ملاقات تھی ۔ نشست کے کمرے میں نہایت سلیقے سے رکھی انتہائی سادہ الماریوں میں کتابیں ترتیب سے رکھی تھیں اور ایک خانے میں کتابوں کے درمیان بنے فریم نما خلا میں سے مہاتما بدھ کی سینکڑوں سال پرانی مورتی جھانک رہی تھی ۔ مہاتما بُدھ خُدا کے پیغمبروں میں ایک عظیم اُپدیشک ہیں ۔ اقبال نے بابا گرو نانک پر جو نظم نانک کے عنوان سے کہی ہے ، اُس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:  

قوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کی

قدر پہچانی نہ اپنے گوہرِ یک دانہ کی

آہ ، بدقسمت رہے آوازِ حق سے بے خبر

غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر

مہاتما بُدھ میرے روحانی سفر کا بھی ایک بڑا اہم باب ہیں ۔ جب میں سکول کا طالب علم تھا تو اُس وقت پاکستانی سکولوں کا تعلیمی نصاب  وہی تھا جو برطانوی ہند کے زمانے میں مرتب ہوا تھا  ۔معاشرتی علوم کی کتاب میں ایک باب تھا جس کا عنوان تھا " سکاؤٹنگ کے آٹھ اصول جو  بدھ کی تعلیمات سے ملتے جلتے ہیں ۔ "  اُس مضمون میں یہ بھی درج تھا کہ بُدھ خُدا کی ہستی کے بارے میں خاموش رہے ۔ کیوں خاموش نہ رہتے ۔ خُدا کا وجود نا قابلِ بیان جو ہوا ۔ خُدا کو لفظوں میں  بیان ہی کب کیا جا سکتا ہے؟

مستنصر تارڑ کے نشست کے کمرے میں کسی سٹوپے کی سی خامشی تھی جس میں دو پرانے شناسا خاموشی کی زبان میں ایک دوسرے کا حال دریافت کر رہے تھے کہ اتنے میں گھر کی خادمہ کھانے کے لوازمات اور چائے کی ٹرے لے کر داخل ہوئی اور کمرا ٹی ہاؤس کی کی میز میں تبدیل ہو گیا ۔ وہ ذائقہ دار چائے جو کسان اینڈ کمپنی کے دفتر میں پی گئی تھی ، آج ڈیفنس میں پی جا رہی تھی ۔ چائے کے ساتھ ادبی سرگرمیوں کی بات چلتی رہی ۔ مستنصر کی دو درجن کتابوں کی بات ہوئی تو اُن میں سے  دو کتابوں کا تحفہ آٹوگراف کے ساتھ  مجھے عطا ہوا ۔ ان میں سے ایک کتاب میں اُن لوگوں میں میرا بھی ذکر ہے جو کسان اینڈ کمپنی میں مستنصر کے ملاقاتی رہے ۔

مستنصر کی زندگی میری نظر میں پانچ کونوں والا ایک ستارہ ہے جو نثر نگاری ، اداکاری ، ٹی وی کامپئرنگ ، کالم نویسی اور تصوف پر مشتمل ہے، جس پر اُن کی تجارت پیشگی کے اثرات نظر نہیں آتے ۔  کسان اینڈ کمپنی کے دفتر میں مستنصر کے والدِ گرامی چودھری رحمت خان تارڑ صاحب کو بھی  میں نےبارہا دیکھا اور اندازہ ہوا کہ وہ ساری روایات جن کا مرقع مستنصر ہیں ، وہ  سب کی سب موروثی ہیں جن کا اظہار مستنصر کی شخصیت میں پوری شد و مد اور فصاحت و بلاغت سے ہوا ہے ۔ کہانیاں اور ناول مستنصر کے شجرِ تخلیق پر اُسی طرح آتے ہیں جیسے چنبیلی کی شاخوں میں چنبیلی کے پھول ۔ یہی وجہ ہے کہ یاسمین کی مہک مستنصر کی شخصیت میں ر چی ہوئی ہے ۔

ہماری دوطرفہ گفتگو میں  وقت کا پتہ چلا نہ باہر کے موسم کی خبر ہوئی اور جب میرے رُخصت ہونے کا وقت آیا تو باہر چھما چھم بارش ہو رہی تھی ۔ جب واپسی کا گجر بجا تو بڑی تیز بارش میں بھیگتے گاڑی تک جانا پڑا ۔ اُس بھیگے موسم میں اُس افسانوی شخصیت مستنصر حسین تارڑسے ملاقات کا نشہ اب بھی طاری ہے ۔

مستنصر ! میرے بڑے بھائی ! آپ مجھے سے پانچ سال سینیئر ہیں ۔ آپ کو اتنی قابلِ رشک ، خوبصورت اور بھرپور تخلیقی زندگی مبارک ہو!