ایران کے خلاف عرب ممالک کے اجلاس میں عراق کی وارننگ، جنگ چھڑ سکتی ہے
- جمعہ 31 / مئ / 2019
- 8830
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بحری جہازوں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد عرب ممالک نے بین الاقوامی کمیونٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا جائے۔
یہ مطالبہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدل عزیز نے مکہ میں جاری عرب ممالک کے ایک ہنگامی اجلاس میں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کے’ ہمارے معاملات میں دخلاندازی کے باعث ہمارے ممالک کی سکیورٹی اور سالمیت کو مسلسل خطرات لاحق ہیں‘۔
سعودی فرماں روا کے مطابق ’ایران کے دہشت گردانہ عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک موثر دفاعی حکمت عملی کی عدم موجودگی نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔‘ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے کہا کہ ’وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تاکہ ایرانی ریاست کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کے سلسلے کو روکا جا سکے‘ جو کہ نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہے۔
عرب ممالک نے اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ عالمی برادری کو ’ایران کی طرف سے خطے کو غیر مستحکم بنانے کی کوششوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔‘
اجلاس کے اختتام پر جارے ہونے والے مشترکہ بیان میں تمام فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یمن سے داغے جانے والے ایرانی ساختہ میزائلوں سے بچاؤ سعودی عرب کا حق ہے اور یہ حملے عرب ممالک کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔
تاہم عراق، جس کے ایران سے بہتر تعلقات ہیں، نے اس بیان سے اختلاف کیا۔ اپنے خطاب میں عراقی صدر ابراہیم صالح نے خبردار کیا کہ اگر حالیہ بحران سے صحیح طرح نہ نمٹا گیا تو جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔ سعودی عرب کی دعوت پر مکہ میں منعقد ہونے والے عرب ممالک کے اس اجلاس سے پہلے خلیج تعاون کونسل کی بھی ایک میٹنگ ہوئی۔
عرب ممالک کے اجلاس کے حتمی بیان میں رکن ممالک نے خطے میں حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مشترکہ دفاع کے معائدے پر زور دیا، جس سے کسی بھی ایک پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔
بیان میں ایران کو خطے کے دوسرے ممالک کے ’اندرونی معاملات میں دخل اندازی، دہشت گرد گروہوں کی حمایت روکنے، بحری راستوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کی سیکورٹی کو دھمکانے سے روکنے پر زور بھی دیا گیا۔