مہا سیانے اور ہم
- تحریر
- جمعہ 31 / مئ / 2019
- 5620
مثل مشہور ہے کہ جس گھر میں دانے ہوں اس گھر کے ناسمجھ (کملے) بھی سیانے ہو تے ہیں۔ اس کا الٹ کچھ یوں ہے کہ جس گھر میں دانے کم ہوں یا ہر وقت ختم ہونے کا دھڑکا لگا رہے اس گھر کے سیانے (اگر ہوں تو۔۔۔) مہا سیانے ہو جاتے ہیں۔ اور گزشتہ ایک ماہ سے اس کا تجربہ تو آپ اور ہم سب کو صبح شام ہو رہا ہے۔
یادش بخیر اسد عمر نے اپنے سیانے پن سے ادھر ادھر سے جمع جتھا کرکے ہمیں مطمئن کر رکھا تھا کہ فکر نہ کریں، بندو بست ہو چکا۔ کچھ دوست ممالک کی مہربانیاں تھیں اور باقی آئی ایم ایف کی طرف سے آسانیاں لیکن پھر یوں ہوا کہ اسد عمر اپنی وزارت پہ قائم رہے اور نہ ان کی تسلیاں وزارت میں جگہ پا سکیں۔ نئے مشیرِ خزانہ اور ان کی نئی ٹیم نے جب سے چارج سنبھالا ہے روپیہ سنبھل رہا ہے نہ کاروباری یقین۔ آئے روز ان کی باتیں سن سن کر اندازہ ہو رہا ہے کہ اب کی بار ہمارا واسطہ ایک مہا سیانے سے پڑا ہے۔
یوں تو ہر سال مالیاتی بجٹ سے قبل حاضر وزارت وزیرِ خزانہ ہمیں طعنے دیتے ہیں کہ ہمارے ہاں ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب نو دس فیصد ہے جو خطے کے باقی ممالک کے تیز گامی کے سبب سب سے کم ہے۔ اس تناسب کی درستگی کے لئے اب تمام معاشی ٹیم پروفیشنل پسِ منظر سے لائی گئی ہے اور ان پر منتخب ’نمائیندگی‘ کا بوجھ بھی نہیں۔ اس لئے وہ بات کو سیاسی ضرورتوں کے تحت گھما پھرا کر اور شوگر کوٹڈ (Sugar coated) کرنے کے مکلف ہیں نہ انہیں اس تردد کی ضرورت۔ صاف گوئی عمدہ وصف ہے لیکن ایسی صاف گوئی کہ سننے والوں کی سٹّی گم ہوجائے، ایسی صاف گوئی سے بقول ہمارے دوست عبدل وہ فلمی ڈائیلاگ بار بار یاد آتا ہے: صاحب تھپڑ سے نہیں پیار سے ڈر لگتا ہے!
مشیر ِ ِخزانہ کی صاف گوئی سے اب کچھ ایسا ہی ڈر لگ رہا ہے۔ اب تک کی خبریں، تجزئے اور پریس کانفرنسیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس سال کا بجٹ کا ’حسب معمول‘ والا معاملہ نہیں ہوگا یعنی Business as usual نہیں ہوگا۔ ملک کی معاشی ٹیم کے بقول اس بجٹ میں ہماری تاریخ کا غالباً سب سے بڑا ریونیو ایڈجسٹمنٹ ہو گا یعنی جی ڈی پی کے تین فیصد کے برابر، حجم جس کا سکہ رائج الوقت میں کئی سو ارب روپے ہو گا۔ اس قدر بڑی ریونیو ایڈجسٹمنٹ سے ملک کے موجودہ کاروباری، تجارتی اور صنعتی ڈھانچے کے لئے فوری طور پر کافی مشکلات ہوسکتی ہیں، اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اگلے سال کی شرح نمو کا تخمینہ تین ساڑھے تین فی صد کے لگ بھگ ہے۔ اس کے ساتھ ہی البتہ ملکی معیشت میں پہلی بار ان مشکل مگر دلیرانہ پالیسی اقدامات کا ڈول ڈالے جانے کی توقع ہے جو بہت پہلے اٹھا ئے جانے کی ضرورت تھی۔
ان نمایاں اقدامات میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی کئی ترکیبیں رو بہ عمل لائی جائیں گی۔ بجلی اور گیس کی تمام صنعتی اور انفرادی صارفین کا ڈیٹا کام آئے گا، بنکوں میں کروڑوں کرنٹ اکاؤنٹس میں رقوم کے لین دین کی تفصیلات سے بھی مدد لی جائے گی۔ ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم OECD سے بھی پاکستانیوں کے بنک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی تفصیلات بھی مددگار بنیں گی۔ ایک اور ایمنسٹی کا دروازہ بھی اسی لئے کھولا جا رہا ہے کہ آخری اعلان ہے، پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے مختلف ذرائع سے جمع اس ڈیٹا کے تجزئے اور تقابل سے ٹیکس نیٹ کے شکنجے سے آزاد پنچھیوں کو صیاد کے دام میں لانے کا پروگرام ہے۔ اب تک کے آثار یہی ہیں کہ مہا سیانے کچھ نہ کچھ کرنے کا مصمم ارادہ کئے ہوئے ہیں تاکہ سال بہ سال کی سینہ کوبی کا سلسلہ ختم ہو کہ ہم پورے خطے میں سب سے کم ٹیکس گزار قوم ہیں۔
دیر آید درست آید، ایسے کئی کٹھن فیصلے کرنے اور انہیں منطقی انجام تک پہنچانے کی بہت پہلے ضرورت تھی۔ ایسے بڑے بول بھی کئی بار سن چکے کہ بہت ہو چکی اب حکومت بہت کچھ کر گزرے گی لیکن پھر وہی صبح شام کے معمول جاری رہتے ہیں۔ دیکھئے اس بار Tough talks سے عملاً کیا برآمد ہوتا ہے۔ اچھے کی امید ہے اور رکھنی بھی چاہئے لیکن کچھ خدشات ہیں کہ ابھی سے سر پر مسلط ہو رہے ہیں۔
سیلز ٹیکس حکومتی محاصل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے لیکن اس کے تحت اس کی شرح دھیرے دھیرے بڑھتی گئی اور ریفنڈ مشکل بنا دئے گئے۔ حکومت کی سدا کی تنگ دستی نے سیلز ٹیکس ریفنڈز کو ایک سدا بہار مطالبہ بنا دیا ہے۔ اسی پسِ منظر میں چند سال قبل پانچ برآمدی شعبوں کو سیلز ٹیکس اسکیم میں زیرو ریٹ کردیا گیا۔ لیکن اب شنید ہے کہ ایک بار پھر ان پانچ برآمدی شعبوں کے لئے یہ استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ ہو چکا۔ برآمدات پہلے ہی جمود کا شکار ہیں، اب انہیں ایک بار پھر انہیں ٌ خرابات ٌ کا سامنا کرنا پڑے گا جو وہ کئی سال پہلے بھگت چکے اور ان کی جان کی امان ایک بار پھر سے قہربر مالیاتی درویش کا شکار ہونے کو ہے۔
سات سو ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تیاری ہے۔ ریونیو ٹارگٹ 5,550 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے نظر ِ ثانی ٹارگٹ سے 35% زیادہ ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں cost recovery کے حساب سے اضافہ کیا جائے گا۔ دِہائی در دِہائی ملک کی معیشت میں ٹریڈنگ، اصراف یعنی Consumption اور تمام تر ڈیویلپمنٹ کا ارتکاز رئیل اسٹیٹ، میگا انفرا سٹرکچر منصوبوں اور حکومت در حکومت کرنسی کی ویلیو کو مصنوعی طور پر منجمد کرکے درآمدات کی مسلسل حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ مسلسل سکڑ تا گیا اور اب جی ڈی پی میں اس کا حصہ فقط 12% رہ گیا ہے۔
ڈی انڈسٹریلائزیشن کے نتیجے میں براآمدی اشیاء لے دے کر بقول ڈاکٹر قیصر بنگالی چادر، چاول اور چمڑے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ نئی اندسٹری لگ نہیں رہی، جو لگی ہوئی ہے اسکی پیداوار میں گذشتہ دس ماہ میں دس فی صد سے زائد کمی ہو چکی ہے، اس کے باوجود یہ شعبہ اپنے بارہ فی صد حجم کے مقابلے میں کل محصولات کا 58% ادا کرتا ہے۔ نئے ٹیکس گذار تو جب ملیں گے سو ملیں گے، ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ٹیکس حکام ان پر شکنجہ مزید کس دیں گے جس سے پہلے سے منفی نمو کا شکار شعبہ مزید بوجھ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسے میں نئے روزگار کے مواقع بھی محدود رہنے کا اندیشہ ہے۔
مشیر خزانہ پر ریونیو ایڈجسٹمنٹ کا دباؤ واضح ہے۔ انہیں اس دباؤ میں عوام، تنخواہ دار ٹیکس گزار، بجلی اور گیس کے صنعتی اور بڑے انفرادی صارفین اور بنکوں کے اکاؤنٹ ہولڈرز جیتے جاگتے افراد اور ادارے کم اور محصولات کے ہندسے زیادہ لگ رہے ہیں۔ ان کی اپنی مجبوری اور ہم عوام کی اپنی بے زاری۔ اردو کے 18ویں صدی کے بے مثل شاعر نظیر اکبر آبادی کی ایک نظم کا یہ بند اس کشمکش کی کیا خوب نقشہ کشی کرتا ہے:
پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے سے
وہ سن کر بولا، بابا خدا تجھ کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے
بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں