یوم تکبیر یا یوم تدبیر
- تحریر سرور غزالی
- جمعہ 31 / مئ / 2019
- 7450
آج کا اخبار اٹھائیں یا فیس پر جائیں لوگ ایک ہی موضوع پر گفتگو کرتے نظر آئیں گے۔ یوم تکبیر کے نام پر لوگ اس ایٹمی دھما کے کو یاد کر رہے ہیں جو پاکستان نے ہندوستان کے ایٹمی دھماکے کے جواب کیا تھا۔
لوگ یہ بھی طے کر رہے ہیں کہ دھماکا کس نے کروایا تھا ۔ نواز شریف یا فوج نے۔ محسن ایٹمی دھماکا کون ہے۔ اور ڈاکٹر قدیر خان کو قوم کے رہبروں نے بھلادیا یا عوام نے ان کی ناقدری کی۔
جو لوگ دھماکے اور جنگ کو مسائل کا حل سمجھتے ہیں، غربت بھوک و افلاس کا مدوا جانتے ہیں انہیں نہیں معلوم کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ اپنی سرحد کے اردگرد اور اپنی سرحد کے اندر آگ و آتش کسی بھی ملک کو ترقی نہیں تباہی و بربادی کی جانب دھکیل دیتے ہیں۔ اپنا دفاع کرنا ہر ملک کا فرض ہے۔ مگر اپنا دفاع صرف جنگ کرکے ہی نہیں کیا جاتا۔ اچھی خارجہ پالیسی اور دوست ممالک سے بہترین تعلقات اور خطے کے امن کی کوشش وہ بڑے ہتھیار ہیں جس سے نہ صرف اپنے ملک کی سلامتی و بقا کو دوام دیا جاسکتا بلکہ خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کو بھی فروغ دے کر بھوک افلاس اور غربت کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان میں اسلحہ کی دوڑ تو ہمیشہ سے جاری ہے اور اب یہ دوڑ ایٹمی دوڑ میں بھی شامل ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہوں کو اصولی طور پر تو یہ کرنا چاہیے تھاکہ وہ اپنی قوم کو اس مالی شیطانی چکر سے نکال کر بہتر اور پرامن و خوشحال زندگی مہیا کرنے کی کوشش کرتے۔ ہندوستان نے گرچہ کے غربت پر قابو پانے کی کافی کامیاب کوشش کی ہے۔ مگر اب بھی وہاں لاکھوں افراد غربت کے عالمی معیار سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی اور غربت دونوں ملکوں کے عوام پر کسی عفریت کے سائے کی مانند تنے ہوئے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ان ممالک کوایٹمی طاقت بنانے کی بجائے ان ممالک کی عوام کو بہتر خوراک، پانی اور علاج معالجے کی بنیادی سہولیات پہنچا کر ان میں غربت کے مارے افراد کو انسانیت پر شرمسار زندگی سے نجات دلایا جاتا۔
اسی مہنگائی کو ختم کرنے کی عجیب و غریب تجاویز پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ جن میں ایک ڈالر کا بائیکاٹ یا سر عام نذر آتش بھی شامل ہیں۔ ڈالر کو جلانے سے زیادہ اس سے ایندھن خریدنے سے پرہیز کرنا مسائل کا حل ہے۔ اس سے قبل بھی نواز شریف حکومت نے فارن کرنسی اکاؤنٹ ضبط کرکے معیشت کی بحالی کا سندیسہ سنایا تھا۔
خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور بولڈ اقدامات کرنے ہوں گے۔ دہشت گردی کی بیخ کنی، اس کو جڑوں سے اکھاڑنے میں پوشیدہ ہے نہ کہ اس کی پھنگیوں کی تراش خراش میں۔
یوم تکبیر اور ایٹمی طاقت ہونے کی شہ زوری دکھانا کوئی بہادری نہیں۔ دنیا آپ سے یہ ضرور سوال کرے گی کہ آپ نے ایٹمی قوت حاصل کر نے سے قبل اپنے عوام کو کیا کیا سہولیات بہم پہنچائیں۔ ان کا معیار زندگی کتنا بلند کیا۔ کیا اس کا جواب ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کے پاس ہے۔