بچھڑ جانے والے اسامہ قمر کی یاد میں
- تحریر افتخار بھٹہ
- جمعہ 31 / مئ / 2019
- 26930
سیاست،معیشت عمرانیات اور ادب پر بہت کچھ لکھتا رہا ہوں مگر آج مجھے ان موضوعات سے ہٹ کر لکھنا ہے۔میرے عزیز دوست قمر زمان کائرہ کے بیٹے کی یاد آ رہی ہے کہ وہ کس طرح ایک نا گہانی حادثہ میں ہم سے بچھڑ گیا۔
فضا کو یکسر سوگوار ہوگئی۔ پورا ملک غمزدہ اور اشکبار ہو گیا ۔ ایسا حادثہ والدین کو بے بسی کی تصویر بنا دیتا ہے وہ لمحہ کائرہ کو عمر بھر نہیں بھول پائے گا جس کے ساتھ اسامہ کا پیارا دوست کریم پورہ کا حمزہ بٹ بھی چلا گیا۔ حادثاتی موت شہادت کا مرتبہ رکھتی ہے۔ہم مسلمانوں کے نزدیک شہادت بہت افضل ہے رمضان المبارک میں ویسے بھی کوئی فوت ہو جائے تو اس کے درجات بلند ہو جاتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے موت کا ایک دن متعین ہے۔ ہمارا یقین ہے جسے اس دنیا میں ایک دن آنا ہے آخر کار اسے جانا ہے۔ خدا جب چاہتا ہے اپنی امانت واپس بلا لیتا ہے ایسا ہی اسامہ کے ساتھ ہوا ہے۔
ختم قل کی سوگوار فضا میں قمر زمان کائرہ نے بڑے حوصلے کے ساتھ چند جملے کہے’کہ بہت بڑا دکھ ہے، جوان اولاد کا جنازہ اٹھانا کتنا مشکل ہوتا ہے کل اس کا احساس ہوا۔بہر حال ہو اللہ کا انعام تھا کہ اتنے دن ہمارے پاس رہنے کے لئے آئے تھے۔ اللہ کی طرف لوٹ گئے۔ اللہ ان کی منزلیں آسان فرمائے، ہمیں صبر دے ہمارے یہ بیٹے نہیں واپس آئیں گے۔ لیکن آپ کے آنے سے ہمارا دکھ اور غم یقینا تھوڑا سا کم ہوا ہے۔ اور جا نے والوں کا غم ساری زندگی ہمارے ساتھ رہے گا۔کیونکہ یہ اللہ کی رضا ہے الحمد اللہ زندگی بڑی کمزور ہے۔ سنتے ہیں مگر یقین نہیں آتا زندگی کے بڑے لالچ ہیں ایک لمحے سے کم وقت میں زندگی کتنی بدل جاتی ہے۔ اس کا احساس مجھے بیٹے کے اچانک بچھڑ جانے کے بعد ہوا۔ اولاد اور جوان بہن بھائیوں کے صدمے دیکھنے والے سمجھ سکتے ہیں۔ چھوٹے بچے کے جنازے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان سے بھاری کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ جوان اولاد کے جنازے بڑھ کر بھلا کیا بھاری ہو سکتا ہے۔ یہ ماں باپ کی کمر توڑ دیتا ہے کائرہ صاحب کی فیملی پر یہ کتنا کٹھن وقت ہے ہماری دعا ہے کائرہ صاحب اور ان کے اہل خانہ کو بھاری صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے:
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت ہے کا گویا کوئی دن اور
قمرزمان کائرہ کے بیٹے کی وفات کو تقریباًتین ہفتے ہونے کو ہیں مگر ان کے گھر میں افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے جن میں پیپلز پارٹی کے علاوہ ملک بھر سے سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ ان میں بیشتر وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی کبھی کائرہ صاحب سے ملاقات ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی جان پہچان ہے۔ ہر مکتبہ فکر کے تعلق رکھنے والے صوفیا، علما، اینکرز، دانشور شعرا، مزدور، لیڈر، کسان رہنماؤں کے علاوہ ملک بھر سے افراد آ رہے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ کائرہ صاحب کی شخصیت سیاسی اور سماجی حوالے سے کتنی بلند تر ہے۔ یہ واقعہ الم ناک ہے جس پر جتنا غم اور دکھ کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ جس طریقے سے ہجوم در ہجوم افراد تعزیت کیلئے تشریف لائے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کائرہ صاحب انتہائی انسان دوست اور مہذب شخصیت ہیں۔ ان کا شمار پیپلز پارٹی کے چند چیدہ رہنماؤں جن میں خورشید شاہ، سید نوید قمر، رضا ربانی، راجا پرویز اشرف اور نیئر بخاری میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنی پارٹی اور لیڈر شپ کے ساتھ وفا کی ہے اور انہوں نے ذاتی مفادات کی خاطر کبھی پارٹیاں تبدیل نہیں کیں۔ وہ اپنے اصولوں اور کمٹمنٹ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
قمر زمان کائرہ بڑے ملنسار انسان اور شخصیت ہیں۔ہر آنے والا شخص ان کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کو جانتے ہیں اور صرف اسی کے دوست ہیں۔ بیٹے کی تعزیت کے لئے آنے والے لوگوں کو خود روازے پر جا کر رخصت کرتے تھے جبکہ ان کے قریبی دوست کامریڈ منظور احمد مہمانوں کو گیٹ سے ریسو کر کے فاتحہ کیلئے پنڈال تک لاتے تھے۔ کامریڈ منظور کئی روز تک کائرہ کے ہاں موجود رہے اور ان کے مہمانوں اور آنے والے لوگوں کو ریسیوکرتے رہے۔ قمر زمان کائرہ کی وجہ مقبولیت اور سیاسی اٹھان ان کے نظریاتی کمٹمنٹ کی وجہ سے ہے۔وہ ہمیشہ دلیل اور استدلال کے ساتھ بات کرتے ہیں۔کسی ٹی وی ٹاک شو میں شمولیت سے پہلے موضوع پر تیاری کرتے ہیں اور اپنی بات کو دلیل اور منطق کے ساتھ آگے بڑھاتے ہوئے اخلاق اور توازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ قمر زمان کائرہ اور کامریڈ منظور چوہدری پارٹی کا نظریاتی سرمایہ ہیں جنہوں نے جوانی میں مختلف بائیں بازوں کی تنظیموں کے ساتھ مل کر جدو جہد کی اور نظریاتی ادراک حاصل کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ان دونوں ترقی پسند رہنماؤں کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی روشن پاکستان کے قیام کے علاوہ سماج اور نظام کی تبدیلیوں کے حوالے سے اہم ہے۔
ابتدا میں قمر کائرہ اپنے چچا کی سیاست میں معاونت کرتے اور انتخابی مہم کا حصہ رہے۔ 2001میں انہوں نے لالہ موسیٰ کی یونین کونسل نمبر1سے ناظم کا انتخاب لڑا اور ضلعی اسمبلی می حزب اختلاف کا موثر کردار ادا کیا۔ کائرہ صاحب ایم اے فلسفہ اور ایم اے سیاسیات ہیں۔ دوران تعلیم ہی ان کا لاہور میں جدو جہد کرنے والے کئی گروپوں کے ساتھ رابطہ ہوا جس سے ان میں فکری نکھار پیدا ہوا۔ وہ فلسفہ، تاریخ اور سیاست کی کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں اور اس حوالہ سے اکثر و بیشتر بحث و مباحثہ کیلئے اپنے مقامی دانشور اور اہل قلم کے ساتھ مل بیٹھنے کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔ جہاں پر افضال محمود سید، شیخ ساجد محمود، عبداللہ خالد مرحوم،اظہر قریشی مرحوم وغیرہ موجود ہوتے تھے۔جبکہ بزم نقد و نظر کی میٹنگوں میں گجرات سے پروفیسر سید شبیر حسین شاہ مرحوم اور راقم الحروف بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔ اسی علم دوستی اور شعور نے باہمی تال میل کو آگے بڑھایا۔ اکثر نا چیز کی دعوت پرگجرات میں حلقہ ارباب شعور، المیر ٹرسٹ لائبریری اور سٹی زن فرنٹ کی فکری نشستوں میں تشریف لاتے رہتے ہیں جہاں ان کی فکر انگیز گفتگو سننے کیلئے کافی نوجوان اہل قلم،سیاسی کارکن اور دانشور شرکت کرتے رہتے ہیں۔عاف علی میر، علی ابرار جوڑا، سید باقر رضوی، خالد پرویز منگااور پرویز اقبال رحمانی بھی ان کے مداحین میں شامل ہیں۔ یوں تو پورے پاکستان میں ٹی وی پر ان کے پروگرام پورے شوق سے سنے اور دیکھے جاتے ہیں۔ وہ پروگراموں میں موجود دوسرے تجزیہ نگاروں کی طرح بلند آواز میں شعور و غل کی بجائے تاریخی اور عمرانی پس منظر میں دلائل کے ساتھ اپنی بات کو خوبصورت انداز میں آگے بڑھاتے ہیں۔ جس سے نظریاتی اور فکری ابہام کو درست انداز میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
قمر زمان کائرہ نے 2002میں بطور اپوزیشن لیڈر اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ریاستی دباؤ کے باوجود پیپلز پارٹی کے دوسرے اراکین پارلیمنٹ کی طرح پیٹرائیاٹ میں شامل نہ ہوئے اور اپنا نظریاتی قبلہ تبدیل نہ کیا۔وہ پارٹی کے ساتھ جڑے رہے۔ 2008میں پیپلز پارٹی کے حکومت کے دوران مختلف عہدوں اور وزارتوں پر فائز ہو کر اپنی سیاسی اور قومی ذمہ داریانہ بہتر انداز میں ادا کیں۔وہ ایک با اصول دیانت دار اور ویثرنری سیاست دان ہیں اور یہی ان کی سیاسی اور سماجی حلقوں میں مقبولیت کا سبب ہے۔
اسامہ کی وفات پر اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی بیکن ہاؤس کی ننی لائبہ نے ویڈیو پر تعزیتی پیغام دیا اور والدین کو مجبور کیا کہ وہ لالہ موسیٰ میں کائرہ صاحب سے تعزیت کرنا چاہتی ہے۔ چنانچہ وہ یہاں آئی اس ننھی پری کا جذبہ قابل تحسین اور ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔کائرہ صاحب کیلئے بیٹے کا بچھڑ جانا نا قابل تلافی نقصان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسامہ ان پر اتنا بوجھ ڈال گیا ہے کہ وہ چاہنے کے باوجود اسے اتار نہیں سکے۔ قمر زمان کائرہ کو میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے مسلمانوں کے چالیس دن صبر کرنے والے الفاظ یقینا یاد آئے ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں جس تعداد میں لوگوں نے ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے وہ ان پر قرض رہے گا۔
سب سے آخر میں پاکستان کے کاریں بنانے والے اداروں سے درخواست ہے کہ گاڑیوں میں سیفٹی کے اقدامات کریں۔اور ائیر بیگز کی موجودگی کو یقینی بنائیں تا کہ حادثات میں کم از کم انسانی جانوں کا ضیاع ہو۔ حکومت کو بھی حفاظتی انتظامات فراہم کرنے کیلئے اس ضمن میں قانون سازی کرنی چاہیے:
شہر کی بے چراغ گلیوں میں زندگی تجھے ڈھونڈتی ہے ابھی