مسلم ممالک بیت المقدس سفارتہ خانہ منتقل کرنے والے ملکوں کا بائیکاٹ کریں: او آئی سی
- ہفتہ 01 / جون / 2019
- 8400
اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے رکن ملکوں پر زور دیا ہے کہ ان ریاستوں کا بائیکاٹ کریں جنہوں نے اسرائیل میں واقع اپنے سفارت خانے تل ابیب سے یروشلم منتقل کیے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور گوئٹے مالا وہ ملک ہیں جنہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنے سفارت خانے وہاں منتقل کردیے ہیں۔ مکہ میں ہونے والے او آئی سی سربراہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا حق تسلیم کرنے کے امریکی اقدام کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حال ہی میں امریکہ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو بھی تسلیم کیا تھا۔
فلسطین کے حوالے سے او آئی سی کا یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر اس ماہ کے آخر میں امریکی صدر کے مشرق وسطٰی مجوزہ امن منصوبے کے معاشی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے بحرین میں ہونے والی کانفرنس کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس منصوبے کو امریکی صدر نے 'ڈیل آف دی سینچری' کا نام دے رکھا ہے۔ لیکن فلسطینی اسے پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ فلسطینی حکام کا الزام ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل نواز پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ فلسطینی حکام نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے تمام رابطے بھی ختم کر دیے تھے جو تاحال بحال نہیں ہوئے ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ خلیج میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات تیل کی بین الاقوامی ترسیل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ شاہ سلمان نے سربراہ اجلاس کو بتایا کہ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حالیہ حملے نہ صرف سعودی عرب اور خلیج بلکہ بین الاقوامی تیل کی سپلائی پر براہِ راست حملے تھے۔
مکہ میں بلائے گئے خلیج تعاون کونسل، عرب ممالک اور او آئی سی کے سربراہ اجلاسوں کے بارے میں ایران کا یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ سعودی عرب خطے کے دیگر ممالک کو ایران کے خلاف متحد کرنا چاہتا ہے اور ایسا ہوا تو یہ دراصل اسرائیل کی کامیابی ہوگی۔ البتہ مشترکہ اعلامیے میں حالیہ واقعات میں ایران کو براہ راست موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا اور نہ ہی ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کا ذکر کیا گیا ہے۔