اسلامی دنیا کو اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنا چاہئے: عمران خان
- ہفتہ 01 / جون / 2019
- 7720
اسلامی تعاون تنظیم کے 14 ویں سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ او آئی سی کی ناکامی ہے کہ ہم دیگر ممالک پر یہ واضح نہیں کرسکے کہ ہم اپنے نبی ﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔
مکہ المکرمہ میں منعقد ہونے والے او آئی سی کے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب کسی نے مغرب سے ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو مجھے ہمیشہ مسلم امہ اور او آئی سی کے ردِ عمل کا فقدان محسوس ہوا۔ او آئی سی میں موجود اہم ریاستوں کے سربراہان پر مسلم دنیا کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ مغرب میں مذہب کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی مسلم دنیا میں اسلام کو دی جاتی ہے۔ ہماری زندگیوں میں ہمارا مذہب شامل ہے جبکہ مغربی دنیا میں مذہب کی جانب بالکل مختلف رجحان ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارا کام ہے کہ مغربی عوام کو بتائیں کہ جب ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے تو ہم مسلمانوں کو کتنی تکلیف پہنچتی ہے‘۔
اس لیے ہمیں اقوامِ متحدہ، یورپی یونین جیسے فورمز پر انہیں بتانا ہوگا کہ وہ آزادی اظہارِ رائے کے نام پر ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’یہودی عوام نے بڑی کامیابی سے دنیا کو بتادیا ہے کہ ہولوکاسٹ کی کوئی بھی غلط تشریح ان کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ اس لیے اب مغرب میں ہولوکاسٹ کا معاملہ نہایت حساس ہے لیکن یہ حساسیت اس وقت نہیں دکھائی جاتی جب قرآنِ پاک یا نبی ﷺ کی بات کی جاتی ہے‘۔
او آئی سی میں اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم نے اسلاموفوبیا کا مسئلہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی دنیا میں بڑی آسانی سے اسلام اور دہشت گردی کو جوڑ دیا جاتا ہے مجھے محسوس ہوتا ہے اس سے مسلمانوں میں بڑی حد تک مایوسی پھیلتی ہے۔ مذہب کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سے دو چیزیں جنم لیتی ہیں ایک اسلاموفوبیا، جب بھی کوئی مسلمان دہشت گردی میں ملوث ہوتا ہے تو اسلامی دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے۔ دوسرے مغربی عوام اعتدال پسند اور انتہا پسند مسلمان میں فرق نہیں کرتے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 9/11 سے قبل 80 فیصد خود کش حملے تامل ٹائیگرز نے کیے لیکن کسی نے بھی ہندو مت کو اس کا الزام نہیں دیا جو کہ درست ہے۔ وہ ایک سیاسی جدو جہد تھی۔ اسی طرح جب جاپانی سپاہی امریکی جہازوں پر خودکش حملے کرتے تھے تو کوئی جاپان کے مذہب کو الزام نہیں دیتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح اس کا دوسرا بڑا نقصان مسلم دنیا کی جدو جہدِ آزادی کو ہورہا ہے اور انتہا پسند اسلام کی بنیاد پر مسلم سیاسی جدوجہد کو غیر قانونی قرار دیا جارہا ہے مثلاً گیارہ ستمبر کے بعد کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو اسلامی بنیاد پرستی کہہ کر دبایا گیا۔ اسی طرح فلسطین میں گیارہ ستمبر کے بعد اسرائیلی حکومت، اسلامی دہشت گردی کا لفظ استعمال کرکے وہاں جاری جدو جہد کو دبا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’میں بھی یہ نکتہ اٹھانا چاہتا ہوں کہ مسلم دنیا کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی جانب زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں بہترین تعلیم اور یونیورسٹیز پر مزید توجہ دینی ہوگی، یہ شعبہ جس میں مسلم دنیا پیچھے ہے۔ مجھے خوف ہے کہ مسلم دنیا ایک مرتبہ پھر پیچھے رہ جائے گی اور یہ معاملہ اٹھانے کے لیے یہ فورم بہترین ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایک نئے صنعتی دور کے دہانے پر کھڑے ہیں اور مسلمان دنیا کو اس جانب مزید توجہ دینی ہوگی۔ تمام تر وسائل ہونے کے باوجود بھی مجھے ڈر ہے کہ ہم پیچھے رہ جائیں گے اس کے لیے او آئی سی پلیٹ فارم بہترین جگہ ہے جہاں ہم سائنس اور ٹیکنالوجی پر مزید خرچ کرنے کے بارے میں غور کرسکتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس تنظیم کا قیام کس طرح عمل میں آیا تھا کہ فلسطینوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا اور ان سے انسانی حقوق و جمہوری حقوق چھین لیے گئے جبکہ اس مسئلے کا 2 ریاستی حل کے علاوہ کوئی حل نہیں اور مشرقی یروشلم کو لازمی فلسطین کا دارالحکومت بننا چاہیے۔ گولان کی پہاڑیاں 1969 کے سرحد کے مطابق واپس کی جانی چاہیے، اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت نہیں دیا جارہا ہے جیسا کہ عالمی برادری نے وعدہ کیا تھا۔ کشمیر کے عوام کو بھی ان کا حقِ خود ارادیت حاصل ہونا چاہیے، اور بحثیت ایک تنظیم او آئی سی کو مسلم دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے جبر کی مخالفت کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا 14 واں اجلاس مکہ المکرمہ میں منعقد ہوا جس میں سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر 57 رکن ممالک کے وفود نے شرکت کی۔
سربراہی اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ گروہ کے سعودی پمپنگ اسٹیشن پر ڈرون حملے سے نہ صرف سعودی عرب اور خلیج کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوئے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور سمندری تحفظ کے لیے بھی دھمکی ہے۔ ان کارروائیوں سے سمندری تحفظ کے علاوہ خطے اور عالمی سیکیورٹی کے لیے خطرہ پیدا ہؤا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے خطے کے سربراہان کو مکہ المکرمہ میں بلانے کا مقصد مسلم اور عرب دنیا کا ایران کے معاملے پر یکساں موقف تشکیل دینا اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو کم کرکے عالمی سطح پر اسے مزید تنہا کرنا ہے۔