وزیراعظم نے زرتاج گل کی بہن کی تقرری کا نوٹس لے لیا

  • اتوار 02 / جون / 2019
  • 9670

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کہا ہے کہ عمران خان نے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کو اپنی بہن کی تقرری کے لیے قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (نیکٹا) کو تحریر کردہ مراسلہ واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔

نعیم الحق نے ایک  ٹوئٹ میں کہا کہ ’تحریک انصاف کی حکومت میں کوئی بھی حکومتی رہنما  اپنے اخیتارات کے تحت رشتے داروں یا دوستوں کو ترقی نہیں دے سکتا‘۔  خیال رہے کہ گزشتہ روز سے وفاقی وزیر زرتاج گل کی بہن اسسٹنٹ پروفسیر شبنم گل کی نیکٹا میں بطور ڈائریکٹر تعیناتی پر پی ٹی آئی کی حکومت کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اس حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق شبنم گل لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں بطور اسسٹنٹ پروفسیر (گریڈ 18) فرائض انجام دے رہی تھیں۔ تاہم انہیں نیکٹا میں بطور ڈائریکٹر (گریڈ 19) تین سال کے لیے ڈیپیوٹیشن پر تعینات کردیا گیا۔  نیکٹا کے ٹوٹیفکیشن کے مطابق ’ایل سی ڈبلیو یو کی اسسٹنٹ پروفیسر شبنم گل کی خدمات نیکٹا میں بطور ڈائریکٹر (گریڈ19) ڈیپیوٹیشن پر درکار ہیں‘۔

واضح رہے کہ ڈان اخبار میں 2 فروری 2007 میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق پنجاب یونیورسٹی نے سرقہ نویسی کے الزام میں وفاقی وزیر کی بہن شبنم گل کا ایم فل پروگرام برائے کشمیریات منسوخ کردیا تھا اور انہیں آئندہ جامعات میں تدریس کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔  اس ضمن میں سوشل میڈیا پر ایک مراسلہ زیر گردش ہے جس میں وقافی وزیر زرتاج گل نے سیکریٹری داخلہ میجر (ریٹائرڈ) اعظم سلیمان خان سے تحریری درخواست کی کہ ان کی بہن شبنم گل کو نیکٹا میں تعینات کیا جائے۔

سوشل میڈیا پر یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شبنم گل نے تاحال اپنا پی ایچ ڈی مکمل نہیں کیا۔ ایک ٹوئٹر ہینڈلر نے لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی کے مراسلے بتاریخ 2 اپریل 2019 کا عکس شیئر کیا جس میں ’خصوصی اقدامات اٹھاتے ہوئے شبنم گل کو اپنا تحقیقی مقالہ مکمل کرنے کے لیے مزید توسیع دی گئی۔ ہینڈلر نے لکھا کہ مذکورہ مراسلے سے واضح ہوتا ہے کہ شبنم گل کا پی ایچ ڈی مقالہ تاحال زیر تکمیل ہے۔

علاوہ ازیں زرتاج گل نے اپنی بہن کی نیکٹا میں تقرری سے متعلق گزشتہ شب ٹوئٹ میں نیکٹا کی پریس ریلیز کا عکس جاری کرتے ہوئے ان کی تعیناتی کو میرٹ کے مطابق قرار دیا۔