ہمیں پہلے سے عید کا تعین قبول نہیں

چاند رات پاکستانی اور ہندوستانی مسلم تہذیب میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے ۔ اس شام لڑکیاں بالیاں چوڑیاں پہننے، منہدی لگوانے اور زیورات خریدنے بہت شوق سےبازار جاتی ہیں اور عید کی بقیہ خریداری جیسے چپل  اور سلے ملبوسات وغیرہ خریدنے کے ساتھ ساتھ چپٹے کھانے، چھولے چاٹ، دہی بھلے اور پانی پوری وغیرہ سے بھی محظوظ ہوتی ہیں۔

اس شام عید کی صبح مہمانوں کے سامنے پیش کی جانے والی مٹھائیوں کی خریداری کے لیے حلوائی کی دکانوں پر خاصا رش بھی لگا ہوتا ہے۔ یہ شام زمانہ قدیم سے منائی جارہی ہے۔ جب لڑکیاں دوپٹے رنگوانے، چنوانے اور گوٹا کناری لگوانے کے لیے بھی چاند رات کا ہی انتخاب کیا کرتی تھیں۔

چاند رات کی اہمیت اور مقبولیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ صبح نماز عید سے قبل وعظ کے دوران ہمارے محلے کی جامع مسجد کے مولوی صاحب ہمیشہ ہی یہ فرماتے تھےکہ جن حضرات نے چاند رات دیر تک اپنی اپنی بیگمات یا بچیوں کو خریداری کروائی ہو یا اپنی اپنی دوکانیں رات بھر کھلی رکھیں ہوں اور اس وجہ وہ فجر کی نماز میں نہ اٹھ سکے ہوں تو وہ ابھی عید کی نماز سے پہلے فجر کی قضا نماز پڑھ لیں ۔

مولوی صاحب کا کہنا تھا کہ چونکہ بغیر فجر ادا کیے نماز عید نہیں ہوگی۔ وہ تو لوگوں کو سمجھاتے بھی تھے کہ آپ نہ شرمائیں ہم سب سمجھتے ہیں کہ چاند رات کی وجہ سے آپ سے یہ کوتاہی ہوگئی ہوگی۔ جس میں آپ کا کوئی قصور بھی نہیں ۔

 چاند رات کی اہمیت اور اس شب کی رونق چاند نکلنے کے ساتھ ہی جلوہ افروز ہوتی ہے۔ اور عید کی ہلچل، خوشی اور تام جھام کا لطف دراصل چاند رات سے ہی دوبالا ہوا کرتا ہے۔ اسی چاند رات کو مزید خوشگوار و دلچسپ بنانے اور اس میں تجسس پیدا کرنے کے لیے چاند کے نکلنے پر چہ میگوئیاں سہ پہر سے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔ اور  چاند رات کے تعین ہونے کی قیافہ شناسی دراصل رمضان کے آخری دنوں سے ہی شروع ہو چکی ہوتی ہے۔

ایسے میں جب بھی چاند رات کا ذکر ہو لڑکیوں بالیوں کی آنکھوں میں ایک خاص خوشی کی چمک عود آتی ہے۔ چاند نکل آنے کی اطلاع موصول ہوتے خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بچے، جوان، عورتیں اور بوڑھے چھت پر جاکر چاند دیکھتے ہیں۔ چاند دیکھ کر دعائیں مانگی جاتی ہیں، گلے ملا جاتا ہے۔ ایک شام قبل تک جو مرد حضرات تروایح کو مسجد جارہے ہوتے تھے اور اس دوران خواتین سحری کی تیاری میں لگ جایا کرتی تھیں ان دونوں کے معمولات میں یکدم تبدیلی آجاتی ہے ۔  دونوں مل جل کر بچوں کو لے کر بازار کا رخ کرتے ہیں ۔ کاروبار میں بھی یک دم اضافہ ہوجاتا ہے ۔ دوکانوں اور خریداری کے مال میں رونق بڑھ جاتی ہے۔
ایسی خوشگوار شام کو دوام تب ہی ملتا ہے جب چاند نکلنے کا اعلان ہوتا ہے۔ اب بھلا پہلے سے مقرر کردہ جدول سے عید کی تاریخ کا تعین کر دینے سے چاند رات کی گہما گہمی کیا ماند نہ پڑجائے گی؟

 اس لیے ہم اس، پہلے سے متعین عید کے قطعی حامی نہیں ۔ ہاں البتہ اس کا تعین کرکے اسے صیغہ راز میں رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ بس چاند کے نکلنے کا اعلان شام کے دھندلکے کے پھیلتے ہی کر دیا جائے اور اس بات کے لیے مولوی حضرات میں باہم اتفاق ہونا چاہیئے۔

چاند اور عید کے چاند کے متعلق کئی محاورے اور تشبیہ بھی مشہور ہیں۔ جیسے چاند سا مکھڑا، چاند کا ٹکڑا، چاند سورج کی جوڑی اور خاص کر عید کے چاند کے متعلق، کیا تم عید کا چاند ہوگئےہو وغیرہ۔

پہلے سے متعین کردہ عید سے یہ بھی احتمال ہے کہ یہ محارہ اپنی اہمیت کھو دے گا۔