افغان امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف

  • سوموار 03 / جون / 2019
  • 5090

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار اطمینان بخش ہے تاہم پاکستان اس ضمن میں مزید اقدامات کر سکتا ہے۔

اسلام آباد میں امریکہ کے سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق زلمے خلیل زاد نے دورے کے دوران پاکستانی حکام سے افغانستان کے معاملات پر بات چیت کی ہے۔ بیان کے مطابق سفیر زلمے خلیل زاد نےاتوار کو وزیر عمران خان اور وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل آفتاب کھوکھر اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خلیل زاد نے پاکستان عہدیداروں کو گزشتہ ماہ طالبان کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا ہے۔ خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امریکہ امن عمل میں پاکستان کے کردار کو حوصلہ افزا قرار دیتا ہے ان کے بقول پاکستان اس ضمن میں اضافی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے دورے کے دوران اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر بھی پاکستانی حکام سے بات چیت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات افغانستان میں پائیدار امن کے لیے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

بیان کے مطابق زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن سے علاقائی رابطوں، تعاون کے فروغ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور اس کے لیے امریکہ مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

ماہر افغان امور طاہر خان کہتے ہیں کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اب بھی طالبان پر اثر رسوخ رکھتا ہے جسے استعمال کرکے وہ افغانستان میں امن معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرت ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ جامع امن معاہدے کے بغیر فوج کا انخلا نہیں کرنا چاہتا اور طالبان فوج کے انخلا سے قبل تحریری معاہدہ کرنے کو تیار نہیں۔

خلیل زاد کے دورے سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ دورہ امن عمل کو آگے بڑھانے اور افغانستان میں تنازع کے خاتمے کے لیے معاون ثابت ہو گا۔ ترجمان کے بقول زلمے خلیل زاد کابل میں افغان حکومت اور دیگر افغان فریقین سے مشاورت کریں گے جن میں افغان معاشرے کے نمائندے، خواتین اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد بھی شامل ہوں گے۔

امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی یہ خواہش رہی ہے کہ طالبان امریکہ کے علاوہ افغان حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات شروع کریں تاہم طالبان اس سے انکار کرتے آئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد، برسلز، برلن، قطر اور ابو ظہبی کے دورں کے ذریعے زلمے خلیل زاد افغان تصفیے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔