نواز شریف کی زندگی خطرے میں ہے: ڈاکٹر عدنان

  • منگل 04 / جون / 2019
  • 5460

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے جیل میں ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے اور یہ ایک وارننگ ہے جبکہ مریم نواز نے والد سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر حکومت کو تنقید نشانہ بنایا ہے۔

ایک ٹویٹر میں  پیغام میں ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ ’سابق وزیر اعظم نواز شریف سے جیل میں ملاقات کی اور معائنہ کیا، انہیں گزشتہ روز صبح 4 بجے کے قریب تکلیف ہوئی اور سانس لینے میں دشواری پیش آئی۔ جب انہیں سانس لینے میں زیادہ مشکل پیش آئی تو گارڈ سے سیل کا دروازہ کھولنے کی درخواست کی اور انہیں بحالی میں اسپرے کے بعد کچھ وقت لگا۔ ڈاکٹر عدنان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے اور یہ ایک وارننگ ہے ۔

نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ڈاکٹر عدنان کے ٹویٹ کے جواب میں کہا ہے حکومت انہیں اپنے والد سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ جعلی و سیاسی مقدموں میں قید نواز شریف کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔ ایسے میں جو بیٹی کو ملنے کی اجازت نہ  دیں ان سے بڑا ظالم کون ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ظلم، نفرت اور انتقام کی غلیظ سیاست کرنے والوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ دنوں کو الٹتا پھیرتا رہتا ہے اور ہمیشہ کی بادشاہی اسی کی ہے‘۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے مریم نواز کو اپنے والد ملاقات کی اجازت نہ دینے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ میاں صاحب کی صحت سے متعلق تشویش ناک خبریں مل رہی ہیں۔ مریم نواز ہر روز پنجاب حکومت سے اپنے والد سے ملنے کی اجازت مانگ رہی ہیں اور پنجاب حکومت عمران صاحب کو خوش کرنے کے لیے اجازت نہیں دے رہی ہے۔۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو عید کے موقع پر بھی اپنی والدہ، بیٹی اور گھر والوں سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ نوازشریف سے ملاقات کے لئے جمعرات کا دن مقرر ہے لیکن اُس دن بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا پر جیل میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے 27 مارچ کو ان کی درخواست پر 6 ہفتوں کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی جس کے اختتام پر وہ دوبارہ 7 مئی کو کوٹ لکھپت جیل منتقل ہوگئے تھے۔

سابق وزیراعظم نے ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی اجازت کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست جمع کرائی تھی جس کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مسترد کردیا تھا۔