خیبر پختون خوا میں منگل کو عید کرنے کا دفاع

  • منگل 04 / جون / 2019
  • 5400

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے ایک دن پہلے عید رکھنے کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے اس معاملہ پر تنازعہ کھڑا کرنے پر وزیر سائنسی امور فواد چوہدری اور رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتہ منیب الرحمانپر تنقید کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مفتی منیب نےایک روز تاخیر سے روزہ رکھوایا تھا۔ اب ہم  ایک روزے کا کفارہ ادا کریں گے اور روزہ دوبارہ رکھیں گے۔۔ انہوں نے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’مفتی فواد کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے کام پر توجہ دیں، حکومت اور علما کو ٹارگٹ نہ کریں‘۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں عید کے اعلان سے قبل وزیراعظم عمران خان کو اطلاع دی گئی تھی جس پر انہوں نے جواب دیا کہ آپ کا معاملہ ہے آپ بہتر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مفتی منیب کے کہنے پر روزہ رکھا مگر ایک دن پہلے والا روزہ ٹھیک تھا۔ اب ایک روزے کا کفارہ ادا کریں گے اور روزہ دوبارہ رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی میں اختلافات ہیں۔ ہر شعبے میں ریٹائرمنٹ ہوتی ہے۔ مفتی منیب کو بھی کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں آج عید مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے کہنے پر نہیں منائی گئی ہے۔

قبل ازیں جیو نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا ایک روز قبل عید منانے کا فیصلہ نامناسب ہے اور اس سے جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں کو مسلک اور مقامی لڑائیوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔ جو جب چاہے عید منائے مگر جھوٹ کی بنیاد پر ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹر صارف کو جس نے ملک میں ایک عید نہ منائے جانے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جواباً ٹوئٹ میں کہا تھا کہ فکر نہ کریں یہ بات سمجھانے میں پرنٹنگ پریس حرام نہیں ہے، نہ ہی ٹرین کا سفر اور نہ ہی لاؤڈ اسپیکر کفر ہے کوئی دو سو سال لگے۔ یہ موضوع تو ابھی شروع ہوا ہے زیادہ عرصہ نہیں درکار انشا اللہ۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز چاند نظر آنا بالکل بھی ممکن نہیں تھا۔ مذہبی تہوار کی بنیاد بھی جھوٹ پر رکھ دی گئی ہے۔ دنیا میں ایسے تاثر گیا کہ جیسے جھوٹ کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا حکومت نے 4 جون بروز منگل کو سرکاری طور پر عید منانے کا اعلان کردیا تھا۔

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسف زئی نے بیان میں کہا تھا کہ مسجد قاسم علی خان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی سربراہی میں کمیٹی کو چاند کی 110 سے زائد شہادتیں موصول ہوئیں جبکہ صوبائی حکومت کو بھی صوبے کے مختلف حصوں سے چاند نظر آنے کی شہادتیں ملیں۔ اس لیے پورے صوبے میں عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے خیبر پختونخوا میں منگل کو عیدالفطر منائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ منگل کو سرکاری سطح پر عیدالفطر منانے کا فیصلہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے کیا ہے۔ وہ اور گورنر شاہ فرمان بھی 4 جون کو عید منائیں گے اور گورنر ہاؤس میں عید کی نماز ادا کریں گے۔