سفر در سفر ۔ 14 ۔ خاور نعیم ہاشمی کا سندیسہ
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 04 / جون / 2019
- 19740
اور اچانک مجھے سندیسہ ملا کہ روزنامہ 92 نیوز میں ایک کالم چھپا ہے جس میں مجھے کوئی پیغام دیا گیا ہے ۔ کون ہے یہ جس نے پیغام بھیجا ہے اور پیغام کا متن کیا ہے ؟ اوہ ، یہ خاور نعیم ہاشمی ہیں :
"زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا"
کہ مجھ پہ وا ہوئے آدھی صدی کے دروازے
اساطیری کہانیوں کا کردا ر ، باغی ، آتش زباں خاور نعیم ہاشمی ۔ اس سے پہلے کہ میں یہ بتاؤں کہ خاور کون ہے ، میں واضح کردوں کہ خاور سے راہ و رسم دو چار دن کی بات نہیں ، "حفیظی" محاورے میں نصف صدی کا قصّہ ہے ۔ یہ ستر کی دہائی تھی ۔ تب تک مشرقی پاکستان جو مغربی پاکستان کا جُڑواں بھائی تھا ، رُوٹھ کر جُدا نہیں ہوا تھا ۔ اُنہی دنوں خاور نے بھی اپنی صحافتی زندگی کا آغاز اُسی اخبار سے کیا جہاں میں نیوز ڈیسک پر کام کر رہا تھا ۔ یہ روزنامہ آزاد تھا جو جب سے اب تک اپنی ایک دہائی سے کم کی صحافتی زندگی میں ، صحافت کی تاریخ میں اپنی معروف سُرخی " اِدھر ہم ، اُدھر تُم " کی وجہ سے برِ صغیر میں اپنی صحافتی معاملہ فہمی اور اپنی ثقہ خبر نویسی کا نہ صرف لوہا منوا چکا ہے ، بلکہ اخباری دنیا میں ایک مثال بن چکا ہے ۔
اخبار کے نیوز ایڈیٹر ، اخباری سُرخیوں کے بادشاہ سید عباس اطہر تھے ۔ چیف رپورٹر عبداللہ ملک تھے اور مجلسِ ادارت میں حمید اختر اور آئی اے رحمان تھے ۔ منیر نیازی " خواب و خیال" کے عنوان سے کالم لکھتے تھے اور کبھی کبھی ان کی پراکسی مجھے بھی لگانا پڑتی تھی ۔ اور پھر یہ بھی ہوا کہ جب ڈاکٹر مہدی حسن کو کچھ عرصے کے لیے یونیورسٹی نے جبری تعطیل پر بھیجا تو وہ " آزاد" کے فیچر نگار بھی رہے ۔ اسی اخبار نیوز ڈیسک پر عارف وقار بھی تھے اور رپورٹنگ میں شاہد محمود ندیم بھی اسی اخبار کے عملے میں شامل تھے ۔ یہ اخبار اپنے عملے میں شامل بھاری بھرکم شخصیتوں کی وجہ سے اپنے وقت کا ایک باقاعدہ تھنک ٹینک تھا ۔
خاور نعیم ہاشمی ایک دُبلا پتلا ، ذہین آنکھوں والا ، تیز طرار اور خود سری کی حد تک خود اعتماد نوجوان تھا جو برِ صغیر کی فلم انڈسٹری کے نامور اور منفرد وِلن نعیم ہاشمی کا بیٹا ہے ۔ جہاں تک فلموں سے میری دل چسپی کا تعلق ہے ، میرے علم کے مطابق اور جو فلمیں میں نے لڑکپن دیکھی ہیں ، نعیم ہاشمی ، سنتوش کمار کے مقابلے میں ولن کے طور پر بہت معروف رہے ہیں ۔ وہ بہت خوبصورت شاعر بھی تھے ۔ مجھے معلوم نہیں کہ اُن کا سارا کلام کتنا ہے اور یہ کہ خاور نے اُن کا کوئی شعری مجموعہ بھی مرتب کیا ہے یا نہیں مگر نعیم ہاشمی کی وہ نعت بھلا کس نے نہیں سُنی ، جو آج بھی میلاد کی محفلوں میں بڑی عقیدت سے گائی جاتی ہے :
شاہِ مدینہ ، یثرب کے والی
سارے نبی ، تیرے در کے سوالی
اور یہ میری خوش نصیبی کہ میں نے اُن کے سمن آباد والے گھر میں اُن کی خدمت میں حاضری کی سعادت اُس وقت حاصل کی جب وہ ایک شام صحن میں چارپائی پر بیٹھے تسبیح و تہلیل میں مصروف تھے اور وہاں پردہ ء سیمیں کا فلمی ولن تو کہیں موجود نہ تھا البتہ ایک صوفی گیان دھیان میں غرق تھا جن کی انگلیوں میں پروئے تسبیح کے دانے حق ہو کر تے چلے جا رہے تھے ۔
خاور نعیم نے روزنامہ جنگ لاہور میں نیوز ڈیسک کی سربراہی بھی کی اور کچھ عرصہ کے لیے " جنگ" لندن کے ایڈیٹر بھی رہے مگر وہ واقعہ جو اُن کی زندگی کو اساطیری بناتا ہے ، مارشل لاء کے قیدی کے طور پر کوڑے کھانے کا ہے ۔ خاور وہ آتش زبان ہے جو سچ کو جھوٹ کے مونہہ پر مارنے کا ہُنر جانتا ہے اور پھر مکافاتِ عمل سے بھی نہیں ڈرتا ۔
بات "92 نیوز " کے کالم کی تھی جس میں مجھے پیغام دیا گیا تھا کہ اگر پاکستان آ ہی گئے ہو تو اب واپس نہ جانا ۔ میں خاور کی محبت کی قدر کرتا ہوں مگر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ میں تو پاکستان کو چھوڑ کر کبھی بھی کہیں نہیں گیا ، میں تو اب بھی ہر شام زاہد ڈار ، ڈاکٹر غفار اور ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کے ساتھ لاہور میں مال کے فٹ پاتھوں پر مال گردی کرتا رہتا ہوں :
آرزو دل کی یہی ہے کہ صبا کے مانند
شہرِ لاہور ! تری گلیوں میں آوارہ پھروں
ایک شام میں خاور سے ملنے اُس کے گھر پہنچا تو وہ رائل ٹی وی کے کسی ٹاک شو میں جا رہے تھے ، اور مجھے بھی ساتھ ہی لے لیا ۔ سٹوڈیو میں پہنچے تو مجھے تجزیہ کار سمجھ کر ایڈوکیٹ اظہر صدیق صاحب کے پہلو میں بٹھا دیا گیا ۔ میری داہنی طرف خود خاور تھے ۔ ہر چند کہ اینکر نے مجھے بھی بحث کے دوزخ میں جھونکنا چاہا مگر مجھے لگا کہ میں اس ٹاک شو کا بندہ نہیں ہوں ، تاہم خاور کی دوستی کا بھرم رکھنے کے لیے پروگرام میں شریک رہا ۔
خاور نعیم ہاشمی ! اس محبت کا شکریہ
واپسی پر خاور کے گھر بیٹھے مجھے الطاف قریشی کا خیال آیا ۔ الطاف اپنی رعب دار مونچھوں کی وجہ سے ٹی ہاؤس کے ماحول میں میر انیس محسوس ہوتے تھے ، کبھی استاد بڑے غلام علی کی یاد دلاتے تھے اور اپنی جاندار شخصیت اور وجاہت کی وجہ سے الگ پہچانے جاتے تھے ۔ میرا جی چاہا کہ دو گھڑی اُن کے ساتھ بھی گپ شپ کروں ۔ خاور سے نمبر لے کر اُن کو فون کیا ، اُن کی خیریت دریافت کی لیکن احساس ہوا کہ عمر رسیدگی کی وجہ سے اب حرکت میں برکت کم ہے ۔ اگرچہ وہ بھی جوہر ٹاؤن میں کہیں آس پاس ہی قیام پذیر تھے مگر نہ جانے اُن سے ملاقات کیوں نصیب میں نہیں لکھی تھی اور میں چاہتے ہوئے بھی اُن سے نہ مل سکا ۔ مگر ، اب یہ ملاقات موسمِ سرما میں سہی ۔ ملاقات ہوگی ۔ ضرور ہوگی ۔
خاور کی طبیعت میں درد مندی اور دوستی تو ہمیشہ سے تھی لیکن اس بار گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اس کی دریا دلی کا مشاہدہ بھی ہوا کہ وہ چوراہوں اور برقی سگنلوں پر کھڑے مانگنے والوں کا حق بھی ادا کرتا جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اُس کی صحافتی آنکھ بھی کھلی تھی کیونکہ اُس نے ایک چوک میں کھڑے درمیانی جنس کے مانگنے والے سے جنسی تبدیلی کے بارے میں بھی سوال کر ڈالا ۔ جی ہاں ، صحافی کو ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ صحافی اپنی کارگاہ میں ہو م یا سڑک پر ڈرائیو کر رہا ہو ، تحقیق کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتا ہے ۔ اڑتالیس برس پرانے دوست سے یہ ملاقات میری لاہور یاترا کا ایک خوبصورت باب ہے ۔ خاور نعیم ہاشمی ! مہمان نوازی اور دریا دلی کا بہت شکریہ !
( جاری ہے )