فوج کا بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ، وزیراعظم کی تحسین
- بدھ 05 / جون / 2019
- 5180
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج نے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ نہ لینے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ قوم پر احسان نہیں ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر تعینات جوانوں کے ساتھ عید کا دن گزارا۔ آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول پر عیدالفطر کی نماز ادا کی۔ انہوں نے ملک میں امن، قومی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔
اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپاہی کی بہترین عید یہ ہے، فخر ہے کہ وہ تہوار کے دن پر بھی اپنے گھر والوں سے دور وطن کے دفاع کے فریضے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ' یاد رکھیں، ہمارے لیے، وطن کے محافظوں کا پہلا خاندان پاکستانی قوم ہے اور گھروں میں موجود اہلِ خانہ بعد میں ہیں'۔
آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافے نہ لینے کا فیصلے سے متعلق کہا کہ ' یہ اقدام قوم پر احسان نہیں ہے، ہم ہر قسم کے حالات میں ایک ہیں'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'بجٹ کٹوتی کو دفاعی صلاحیت اور جوانوں کے معیار زندگی پر اثرانداز کئے بغیر آنے والے مالی سال میں دیگر امور میں ایڈجسٹمنٹ سے پورا کیا جائے گا'۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ بھی صرف آفیسرز کا ہے جوانوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ خیال رپے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پاک فوج کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی اخراجات میں رضاکارانہ کمی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اس بچت کو بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں خرچ کریں گے۔
ٹویٹر میں اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’ہماری قومی سلامتی کو درپیش گوناں گوں چیلنجز کے باوجود افوجِ پاکستان کا آئندہ مالی سال کے دفاعی اخراجات میں رضاکارانہ طور پر کمی کا فیصلہ قابل تحسین ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’اس بچت کے نتیجے میں میسر آنے والا سرمایہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں صرف کیا جائے گا‘۔
رواں برس فروری میں وفاقی حکومت نے دفاعی بجٹ میں کسی قسم کی کٹوتی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔