جرمنی میں پناہ کن کے لئے ممکن ہے؟

کیا جرمنی میں داخل ہونے والا ہر شخص تحفظ یا پناہ لینے کا حقدار ہے کہ نہیں؟ یہ ایک اہم اور ایسا سوال ہے جس کا جواب جرمنی کے قانونی کاغذات میں پوشیدہ ہے۔

 اس وقت ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی جرمنی میں موجود ہیں اور وہ جرمنی میں پناہ لینے کی اپنی درخواستوں کے فیصلوں کے منتظر ہیں لیکن جرمنی کی موجودہ سیاسی صورتحال خصوصاً 2017  کے انتخاباتی  نتائج اور بعد کی سیاسی صورتحال نے پاکستانی کیسوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔2015  میں شام سمیت دیگر چند جنگ زدہ ممالک کے شہریوں کے لئے بارڈرز کھلنے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین و تارکین وطن کی یلغار سے جرمنی کے اندر جو سونامی کی سی کیفیت نے جنم لیا۔ اس کے نتیجے میں تیزی سے جرمنی کے قوانین میں تبدیلیاں رونما ہوئیں جس سے جہاں کچھ غیرملکیوں کو فائدہ بھی پہنچا ہوگا اور کچھ معاملات میں سخت قوانین کا بھی سامنا ہے۔

روزمرہ کی زندگی میں عمومی طور پر ”رفیوجی“ اور”اسائلم سیکرز“ کی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں اور دونوں کا مفہوم ایک جیسا تصور کیا جاتا ہے جوکہ قانونی طور پر یہ درست نہیں ہے۔ ”رفیوجی“ اور ’’اسائلم سیکرز“  دونوں کا مفہوم جرمنی کے قوانین اور عالمی انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق الگ الگ ہے اور دونوں کے معاملات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

 معاشی تنگی کی بنیاد پر یا بہترروزگار کے حصول کے لئے دوسرے ملک میں پناہ لینے کی جرمن قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اسی طرح  غربت اور دیگر قدرتی آفات کی بنیاد پر بھی جرمنی میں قیام کی اجات ممکن نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر ابھی تک ہزاروں ایسے لوگوں واپس ان کے آبائی ممالک میں بھجوایا جاچکا ہے۔جرمنی  کے ادارہ برائے  مہاجرین اور ہجرت (Federal Office for Migration and Refugees,BAMF)کے مطابق چار مختلف طریقوں سے دوسرے ممالک کے لوگ جرمنی میں قیام یا پناہ یاتحفظ کے لئے یہاں پہنچ کر درخواست جمع کراسکتے ہیں۔ان میں سرفہرست اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریق ریفیوجی پروٹیکشن ہے۔

یہ سب سے زیادہ قابل رحم لوگ ہوتے ہیں جو تحفظ کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے رفیوجی کنونشن جنیوا1951کے مطابق  ” ایسے لوگ جن کو اپنے ملک میں مختلف امتیازی قوانین کا، اور اس کی بنیاد مذہب یا عقیدہ ہو، رنگ و نسل ہو، قومیت ہو“ ایسے لوگ دوسرے ملک میں تحفظ کی درخواست دینے کے اہل ہیں اور ریفیوجی کہلاتے ہیں۔  اس کیس میں پہلے تین سال تک کا رہائشی ویزہ جاری کیا جاتا ہے۔  توسیع کا فیصلہ بعد کے حالات کی روشنی میں کیا جاتا ہے اور ان کو واپس ان کے ممالک میں نہیں بھجوایا جا سکتا۔ جہاں ان کی زندگیوں کو ان کے عقائد،رنگ،نسل کی بنیاد پر خطرہ لاحق ہو۔تاہم مجرمانہ ریکارڈ کے حامل افراد کو یہ سہولت میسر نہیں ہوتی۔ کسی جرائم کے مرتکب ہونے کی صورت میں وہ سبھی سہولتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔

دوسرا طریق اسائلم پروٹیکشن(Entitlement to Asylum) کہلاتا ہے۔ جرمنی کے قوانین کے مطابق یہ بھی تحفظ کی دوسری قسم ہے جو جرمنی مہیا کرتا ہے اور یہ صرف انہی لوگوں کے لئے مخصوص ہے جن کو اپنے ملک میں سیاسی بنیاد پر تشدد یا امتیاز کا سامنا ہو اور اس میں درخواست کنندہ کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس کو اپنے ملک میں سیاسی بنیاد پر مختلف خطرات کا سامنا تھا۔  اس کے  سیاسی حقوق سلب ہورہے تھے اس قسم کے کیسوں کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن اس بنیاد پر تحفظ ملنے کا قانون بہرحال موجود ہے۔شروع میں اس میں بھی تین سال کے لئے قیام کی اجازت دی جاتی ہے،بعد میں حالات کی روشنی میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ افغانستان کے لوگوں کے کیسز اسی قسم کے حقوق کے تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں۔

 تیسری قسم کا تحفظ جو جرمن قانون مہیا کرتا ہے وہ  Subsidiary پروٹیکشن کہلاتا ہے  اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو  ریفیوجی اور اسایلم دونوں قسم کے تحفظ کے حقدارنہ ہوں لیکن ان کو ان کو اپنے ملک میں واپس بھیجنے پر ان کی جان کو مختلف طریقوں سے شدید خطرات لاحق ہوں، مثلا سزائے موت، تشدد یا دیگر غیر انسانی جسمانی تشدد کی سزا وغیرہ کا،تو پھر ایسے افراد کو اس قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں قیام کی اجازت  ایک سال کے لئے ہوتی ہے۔

چوتھی قسم  جس کے تحت کسی شخص کو جرمنی میں قیام کی اجازت مل سکتی ہے وہ انگریزی میں National ban on forced return کہلاتی ہے اس قسم کی سہولت بہت کم اور مخصوص حالات میں فراہم کی جاتی ہے اور اس میں حکومت جبری بیدخلی پر پابندی لگادیتی ہے۔ کیونکہ جرمن حکومت کو یہ یقین ہوجاتا ہے درخواست کنندہ کو واپس بھیجنے پر اس کے ملک میں اس کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس قسم کے افراد پر پہلے تینوں قسم کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔

جرمنی میں کسی بھی قسم کی پروٹیکشن کے حصول میں ہر بالغ فرد کا کیس الگ اور انفرادی سطح پر دیکھا جاتا ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ جرمن ادارے پہلے درخواست دینے والے کا تعلق کس ملک یا خطے  کے بارے میں دیکھتے ہیں اور پھر مزید کاروائی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے کیونکہ ادارے نے پہلے یہی دیکھنا ہے کہ اس ملک کی اندرونی سیاسی و مذہبی صورتحال کیا ہے۔لیکن اگر جرمن ادارے کو یقین ہوجائے کہ اس ملک کے حالات تسلی بخش ہیں یا یہ کہ درخواست کنندہ صرف مالی حالات کی بہتری کے لئے جرمن پہنچا ہے تو پھر ان کی وطن واپسی یقینی ہوتی ہے۔

2015کے بعد مہاجرین سے متعلق جرمن قوانین میں بہت سختی دیکھنے میں آئی ہے جس میں ڈبلن معاہدہ کا ازسرفعال ہونا سرفہرست ہے۔ یعنی جس ملک کا ویزہ لے کر یورپ میں داخل ہوئے ہوں صرف اسی ملک میں اسائلم اپلائی کرسکتے ہیں۔موجودہ حالات میں اداروں نے تحفظ کی درخواست دینے والوں کے بارے میں مزید زیادہ کچھ جاننے کے لئے نئے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں۔اسی وجہ سے کیسوں میں تاخیر بھی ہو رہی ہے اور ان میں شناخت اہم ترین ہے۔ شناخت ظاہر نہ کرنا درخواست کنندہ کے لئے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستانیوں نے اگر دیگر غیر ملکی لوگوں کا ہر شعبہ میں مقابلہ کرنا ہے اور اپنا معیار زندگی بلند کرنا ہے تو اس کے لئے ان کو جرمن زبان سیکھنی ہوگی۔ اس پر جتنی جلدی عبور حاصل کریں گے ان کے  مسائل میں بھی اتنی ہی تیزی سے کمی بھی واقع ہوگی۔

جرمنی کی حکومت نے گزشتہ سال2018میں 23بلین یورو کی غیرمعمولی رقم انہی ایک ملین سے زائد مہاجرین کے معاملات پر صرف کی ہے۔ جو کہ بیس بلین پونڈ کے برابر ہے اور یہ رقم2017 کی نسبت گیارہ فیصد زیادہ ہے اس کے باوجود جرمن لوگوں میں مہاجرین کے

خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہاہے۔

ان تمام حالات و واقعات میں بھی قانونی طریقے سے جرمنی میں آنے اور یہاں قیام کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ جرمن حکومت کو لاکھوں تعلیم یافتہ اور ٹیکنیکل افراد کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے جرمن پرمٹ ورک حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک الگ تفصیلی لیکن اہم اور قابل عمل سہولت موجود ہے۔  یہ معلومات جرمن  اداروں کی ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ان سائٹس کو بغور پڑھتے رہنا چاہئے۔