مہنگائی کی وجہ سے عید خریداری میں چالیس فیصد کمی

  • جمعرات 06 / جون / 2019
  • 6900

رواں برس مہنگائی کی شرح بلند رہنے کے باعث عوام کی قوت خرید کم رہی جس کی وجہ سے عید کے موقع پر خریداری میں بھی کافی حد تک کمی دیکھی گئی۔

پیٹرولیم کی مصنوعات اور یوٹیلیٹی بلز کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ  درآمدی مصنوعات مہنگی ہوگئی ہیں۔

ملک میں غذائی اشیا سے متعلق مہنگائی مئی میں 9.11 فیصد کی سطح تک پہنچ گئی جو اپریل میں 8.8 فیصد تھی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بچوں کے ہمراہ آنے والے بہت سے خریدار کپڑوں، جوتوں اور درآمدی زیور وغیرہ کی قیمتیں سن کر یا تو خالی ہاتھ لوٹ گئے یا کم کوالٹی پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوئے۔ فروخت کے ہدف میں ناکامی پر کچھ تاجروں نے خریداروں کو راغب کرنے کے لیے پرانا اسٹاک رعایتی قیمتوں پر فروخت کے لیے پیش کیا۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ جو لوگ 3 سے 4 سوٹ خریدتے تھے وہ بھی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ایک سے 2 سوٹ تک محدود ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے بازاروں میں خریداری میں تقریباً 33 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے جنرل سیکریٹری سید عبدالقیوم آغا کا کہنا تھا کہ صوبے کی مختلف مارکیٹس میں خریداری میں 30 سے 40 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ تاہم انہوں نے اس کا ذمہ دار کچھ لالچی قسم کے تاجروں کو قرار دیا جو خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے کے دوران قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کردیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ خود مختلف مارکیٹس میں گئے اور کچھ دکانوں کا جائزہ لیا جہاں انہیں مایوس چہروں کے ساتھ کئی والدین نظر آئے جو قیمت جاننے کے بعد اپنے بچوں کے لیے خریداری نہیں کرسکے۔ مرکز تاجران خیبر پختونخوا کے صدر شرافت علی کے مطابق عید کی خریداری میں 60 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

آل کراچی اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے بتایا کہ رمضان کے آخری عشرے کے دوران بازار میں خریداروں کا ہجوم مصنوعی ثابت ہوا کیوں کہ حقیقی خریداروں کے بجائے زیادہ تر افراد ونڈو شاپنگ والے تھے۔ جس کی وجہ سے کراچی میں فروخت کا ہدف 45 سے 50 ارب روپے ہونے کے باوجود 35 ارب روپے کی خریداری ہوئی۔

عتیق میر کے مطابق درآمدی اشیا کی قیمتوں میں 40-30 فیصد اضافے کے باعث مقامی مصنوعات کی خریداری میں 25-20 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔