آمدنی میں اضافے کے لئے محصولات میں اضافہ اور سبسڈی ختم کرنے کا بجٹ منصوبہ

  • جمعرات 06 / جون / 2019
  • 6310

وفاقی حکومت آمدنی میں اضافہ کے لیے متعدد مصنوعات پر نئے سیلز ٹیکس عائد کرنے والی ہے۔ کئی شعبوں میں ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کی تجاویز کو بھی حتمی شکل دی رہی ہے۔

یہ منصوبہ ٹیکس کی شرح آسان بنا کر جنرل سیلز ٹیکس کی آمدنی میں کافی حد تک اضافے کے لیے ہے۔  موجودہ قوانین کے مطابق ٹیکس کے 272 ریٹس موجود ہیں۔ ٹیکس کا یہ طریقہ بالائی سطح پر عدم مساوات کا باعث ہے کیوں کہ کچھ ٹیکس دہندگان اپنی خریداری پر معمول کی شرح کے مطابق 17 فیصد جبکہ دیگر افراد کم شرح کی ادائیگی کرتے ہیں۔

صرف سیلز ٹیکس میں ایڈجسٹمنٹ کے باعث آمدنی میں 509 ارب روپے تک  اضافہ کا منصوبہ ہے۔ بقیہ رقم ٹیکس کی شرح میں ایڈجسٹمنٹ سے حاصل ہوگی۔ حکومتی منصوبے کی دستاویزات کے مطابق جی ایس ٹی میں کمی بین الاقوامی سطح پر جی ایس ٹی کے ذریعے آمدنی کے رائج طریقہ کار سے مطابقت رکھتی ہے۔ مجوزہ اقدامات کو آئندہ کچھ روز میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔

منصوبے کے مطابق مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں ان متعدد مصنوعات پر 7 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔ انہیں اس وقت ایس آر او 11025 کے تحت سیلز ٹیکس استثنیٰ حاصل ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کو ان اقدامات کے ذریعے آئندہ مالی سال کے دوران 88 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔

ایس آر او 1125 کے تحت دیے گئے ٹیکس استثنیٰ سے قومی خزانے کو تقریباً 150 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ ایف بی آر حکام کا ماننا ہے کہ صرف مینوفیکچررز کو دی گئی اس سہولت کا کمرشل درآمد کنندگان غلط استعمال کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ دودھ، کریم، مکھن، خوردنی تیل، کافی، چائے، برقی توانائی، بجلی سے چلنے والی مختلف مشینوں، گوشت اور مختلف کیمیکلز پر بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 7 فیصد ٹیکس عائد ہوگا جس سے حکومت کو 211 ارب روپے کی آمدنی ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت یہ تمام مصنوعات سلیز ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔

اسی طرح پولٹری، خوردنی تیل، کپاس اور کپاس کے کچرے پر بھی آئندہ بجٹ میں 7 فیصد ٹیکس لگنے کا امکان ہے جس سے حکومت کو 56 ارب روپے کی آمدنی کی توقع ہے۔ حکومت بالخصوص 3 شعبوں میں عملدرآمد کو بہتر کرنے اور آمدنی کو لیک ہونے سے بچانے کے لیے بھی حکمتِ عملی پر غور کررہی ہے۔

چینی سے بھی اضافی سیلز ٹیکس کی مد میں 16 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ اسی طرح سیمنٹ سے 4 ارب جبکہ لوہے کی صنعت سے 3 ارب روپے حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس کے نتیجے میں مالی سال 2019 میں جنرل سیلز ٹیکس کے لیے 7.25 فیصد سے 12.6 فیصد کی مؤثر شرح ٹیکس کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔