بیل اور بندر

اردو زبان کے محاوروں اور ضرب الامثال کی چاشنی اپنی جگہ لیکن کبھی کبھی ان میں منطق تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اب دیکھئے نا بیل تو بیل ہوتا ہے۔ کولہو کا ہو یا رہٹ کا۔ چکر دونوں ہی لیتے ہیں۔مشقت بھی ایک جیسی۔ کھوپے دونوں کی آنکھوں پر ہی چڑھائے جاتے ہیں۔

تو پھر کیا وجہ ہے کسی نے اگرنام کمایا ہے تو وہ صرف کولہو کا بیل ہی ہے۔کتابیں اس کے تذکروں سے بھری پڑی ہیں۔اور اگر کسی حوالے سے کوئی مثال بھی دی جاتی ہے تو صرف کولہو کے بیل کی۔ رہٹ کا بیل ہمیشہ سے گمنامی کے اندھیروں میں ڈوبا چلا آتا ہے۔

ہمیں تو اس کی  صرف ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے۔

وہ یہ کہ کولہو کا چکر چھوٹا ہوتا ہے۔ رہٹ کا بڑا۔

بڑے چکر کی وجہ سے رہٹ کابیل شاید یہ سمجھتا ہو کہ واقعی وہ کسی منزل کی جانب رواں دواں ہےاور جلد یا بدیر منزل تک پہنچ ہی جائے گا۔

چھوٹے چکر کے باعث جسم مسلسل کمان کی صورت بنے رہنے سے بیل کا دماغ رکھنے کے باوجود کولہو والا سمجھ جاتا ہو گا کہ منزل ونزل کچھ نہیں۔لنگوٹ باندھے یہ جو مونچھوں والا مریل سا بندہ اس کے  پیچھے پیچھے گھومتےتختے پر ہاتھ میں چھانٹا لئے بیٹھا ہے، یقیناٌ اسے چکر دے رہا ہے۔۔

حقیقت کچھ بھی ہو ہماری نظر میں تو رہٹ کا بیل اپنے کولہو والے ہمزاد کے مقابلے میں مقدر کا سکندر ہوتا ہے۔ کھلی فضاء۔ تازہ ہوا۔ہری ہری فصلوں کی اشتہا انگیز باس۔ڈولیوں سے نال میں گرتے پانی کی جلترنگ۔اور اس کے  پیچھے تختے پر دوہرے مقصد کے لئے گنا لئے بیٹھا کسان جو موج میں آ کر کبھی کبھی ماہیئے کی تانیں بھی اڑانے لگتا ہے۔تو پھر وہ کیوں نہ مقدر پہ اپنے ناز کرے۔

اور ایک بیچارہ کولہوی ہے کہ کسی بند کوٹھڑی میں تیل کے بھبکوں سے بھاری ہوتی فضاء میں گھن چکر بنتا رہتا ہے۔

ناریل توڑنے کیلئے دنیا کے کئی علاقوں میں آج بھی بندر سدھائے جاتے ہیں۔اگلے وقتوں میں وقت اور محنت بچانے کیلئے کچھ زیرک کسان رہٹ کے تختے پر گنا تھما کراپنی جگہہ کوئی سدھایا  ہوا بندر بٹھا دیتے تھےجو تیز رفتاری کا مزہ لینے کیلئےبیل کے پیچھے بیٹھا ایسے ایسے گر آزماتا کہ رہٹ کا پہیہ پھرکی کی طرح چلنے لگتا۔ظاہر ہے کسان ایسے بندروں کی خوب خوب سیوا کرتے تھے۔

اگلے وقتوں کے ہندوستان میں بندر تو بہت ہوتے تھے۔آج بھی ہیں اور خوب مزے میں ہیں۔قدرو منزلت اور مرتبہ بھی ان  کا  وہی ہے۔

پر تقسیم کے بعد جو بندر ہمارے حصے میں آئے اپنا مقام و مرتبہ کھو بیٹھے۔ بے مصرف سمجھے جانے لگے۔نہ عزت نہ توقیر۔نہ مندروں میں پرشاد کے مزے۔کچھ نے بن باس لے لیا۔جو ڈھیٹ اپنی جگہہ ڈٹے رہے  چڑیا گھروں میں پہنچا دیے گئے۔یہاں  دن بھر باسی چنے اور تماشبین لونڈے لپاڑوں کے پتھر کھا کھا کر ڈیپریشن کا شکار ہونے لگے۔لیکن بندر بھی بندر ہوتا ہے۔سماج میں اپنا جائز مقام پانے کیلئے کچھ بزرگ بوزنا سر جوڑ کر بیٹھے اور رہٹ بانی کے اچھے دنوں کو یاد کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے کہ  اگر کسی طرح ماضی کی اس شاندار روایت کو دوبارہ زندہ کر دیا جائے تو وہ توقیر و مرتبہ دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے جسے وہ امتداد زمانہ کے باعث کھو بیٹھے ہیں۔

چونکہ یہ ایک فضول سی کہانی ہے لہٰذا اس کی تفصیل میں کیا جانا۔قصہ مختصر مختلف حیلوں بہانوں سے بندر بالآخر رہٹ بانی کی بحالی اور اس میں کوچوان کا مرتبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔اور اب تجربہ کار بندروں سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ ہنکانے والا کوئی بھی ہو۔لنگوٹ باندھے کوئی مریل سا تیلی ہویا سرکار دربار کی وردی چڑھائے کوئی بانکا سجیلا کارندہ ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس ہاتھ میں اس  کے چھانٹا یا گنا ہونا چاہیئے۔ یہ ہو تو کھوپوں کی اوٹ سے سامنے کا منظر دیکھنے کی حسرت میں سر کو دائیں بائیں جھٹکے دیتےبیل ہر چکر کو آخری چکر سمجھتے ہوئے بس چکر پہ چکر کھاتےہی چلے جاتے ہیں۔اورپھر رفتہ رفتہ چکروں کا احساس ہی مٹ جاتا ہےاور انہیں لگتا ہےکہ ۔۔ارے ! سامنے تو صراط مستقیم ہے ۔

توصاحبو !  دانا بندراب گنا ہاتھ میں لئے بیلوں کے پیچھے گھومتے تختوں پر بیٹھے ہیں اور اور آنکھوں پر کھوپے چڑھے بیل گنے کے اشارے پر اپنے کمان بنے جسموں کا زور لگاتے منزل کی طرف رواں دواں ہیں اور لہک لہک کر گاتے ہیں ۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔۔