سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے روز دھرنا دے گی
- ہفتہ 08 / جون / 2019
- 5090
پاکستان میں وکلا کی تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرینس کے خلاف 14جون سے سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے داخلی راستوں پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے ملک بھر کے وکلا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دھرنے کی حمایت کریں اور اس میں بھر پور انداز سے شرکت کریں۔ یہ اعلان انہوں نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر بلوچستان بار کونسل، بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلا تنظیموں کے عہدیدار بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرینس کے حوالے سے بلوچستان کے وکلا تنظیموں کا اجلاس جمعہ کو کوئٹہ میں منعقد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں اس ریفرینس کی مذمت کرتے ہوئے اسے امتیازی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ وکلا اسے بدنیتی پر مبنی سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تمام کاروائیاں خفیہ ہوتی ہیں لیکن قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سماعت سے پہلے ہی ریفرینس کو اوپن کر کے ان کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے۔
ان کے بقول میڈیا ٹرائل ان لوگوں کی جانب سے شروع کیا گیا جو کہ حلف کے تحت اس بات کے پابند ہیں کہ وہ کوئی راز افشا نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بدنیتی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے 350 شکایتیں موجود ہیں۔ 22 کروڑ عوام میں سے کسی کو پتہ نہیں کہ ان شکایتوں میں کس کس کے نام ہیں اور ان کے خلاف کیا کیا الزامات ہیں۔ لیکن قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الزامات کو پہلے ہی مباحث کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے 17ججوں میں سے بلوچستان سے واحد جج ہیں جو کہ آئندہ انتخابات تک سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنیں گے۔ اس لحاظ سے یہ ریفرینس بلوچستان کو چیف جسٹس کے حق سے محروم رکھنے کی سازش بھی ہے۔ اس ریفرینس کے خلاف 14جون کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔
امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کا یہ دھرنا اس وقت جاری رہے گا جب تک حکومت اس ریفرنس کو واپس نہیں لیتی یا سپریم کورٹ یا سپریم جوڈیشل کونسل اسے بدنیتی کی بنیاد پر ختم نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ خواہ اس دھرنے میں ایک دن لگے، ایک ہفتہ لگے، ایک ماہ لگے یا ایک سال یا اس سے زائد کا عرصہ لگے، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ اس روز اس ریفرینس کے نقول کو بھی بطور احتجاجاً نظر آتش کیا جائے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ احتساب کے خلاف نہیں لیکن احتساب تمام اداروں کا بلا امتیاز اور انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔