شہباز شریف لندن سے وطن واپس پہنچ گئے

  • اتوار 09 / جون / 2019
  • 5690

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف برطانیہ میں 2 ماہ قیام کے بعد واپس پاکستان پہنچ گئے۔

شہباز شریف لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے پی آئی اے کی براہ راست پرواز پی کے 758 کے ذریعے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے جہاں لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے استقبال کے لیے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری احسن اقبال، امیر مقام، پرویز ملک سمیت لیگی رہنماؤں، اراکین پارلیمان اور کارکنان کی بڑی تعداد آدھی رات کو ہی ایئرپورٹ پہنچنا شروع ہوگئی تھی۔

کچھ کارکنان نے ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کا حصار توڑا اور زبردستی ایئرپورٹ کے ارائیول لاؤنچ تک پہنچ گئے۔  کارکنوں نے شہباز شریف کو ریلی کی صورت میں ایئرپورٹ سے ماڈل ٹاون ان کی رہائش گاہ تک پہنچایا جبکہ اپنے پارٹی صدر کی وطن واپسی کی خوشی میں انہوں نے مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔

واضح رہے کہ شہباز شریف کی وطن واپسی سے متعلق یہ افواہیں گرم تھیں کہ وہ  پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لندن سے پاکستان روانہ ہونے سے قبل حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دیا۔

شہباز شریف نے پاکستان روانگی کے موقع پر لندن میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کی اور حکومت کے خلاف احتجاج کے حوالے سے کہا کہ ’کل قومی اسمبلی میں اجلاس ہوگا اس میں بات ہوگی‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی  کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک چلانے کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن جماعتیں مل کر مشاورت کریں گی اور فیصلہ کریں گی‘۔

اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سیئنر رہنماؤں کا ماڈل ٹاؤن میں اجلاس ہوا جس کے بعد پرویز ملک اور دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کارکن ایئرپورٹ جانا چاہتے ہیں تاہم باضابطہ طور پر کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے لیکن جو کارکن جانا چاہے وہ جا سکتے ہیں۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے لندن میں این آر او کی کوششوں کا الزام لگاتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’شہباز شریف کو وطن واپسی پر جی آیاں نوں، دو ہفتوں کی ریلیف اور 2 مہینے کی چھٹی میں تبدیل کرنے کے بعد واپس لوٹ رہے ہیں، اس عرصے میں این آر او حاصل کرنے کی کوشش میں لندن کی سڑکیں ناپتے رہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لندن کی سڑکوں پر جس برق رفتاری سے شہباز شریف چلتے پھرتے نظر آئے، اس سے نہیں لگتا کہ ان کو کوئی تکلیف ہے، امید ہے کہ اب وہ بیرون ملک نہیں جائیں گے اور عدالتوں میں باقاعدگی سے حاضری دیں گے‘۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’واپسی پراسحاق ڈار،بیٹے اور داماد کو بھی لے آتے تو قانونی تقاضے پورے ہوجاتے‘۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شہباز شریف کے خلاف متعدد بدعنوانی کے کیسز کی تحقیقات جا ری ہیں۔ جن میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل بھی شامل ہے۔ اس کیس میں ان پر قومی خزانے کو 19 کروڑ 30 لاکھ روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

اس کے علاوہ رمضان شوگر مل کرپشن کیس میں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر بد عنوانی کے ذریعے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے جبکہ انہیں اکتوبر 2018 میں نیب نے گرفتار کرکے اپنی حراست میں رکھا تھا تاہم عدالت نے بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

شہباز شریف لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ  سے نام نکالنے کے حکم کے بعد 9 اپریل کو لندن روانہ ہوئے تھے۔ شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز نے 6 جون کو ٹویٹر پر اعلان کیا تھا کہ شہباز شریف 8 جون کو پاکستان واپس روانہ ہورہے ہیں۔