ڈاکٹر انور سجاد:ہمہ جہت دانشور
- تحریر افتخار بھٹہ
- اتوار 09 / جون / 2019
- 17940
میں اس خبر پر کوئی حیران نہیں ہوا کہ ڈاکٹر انور سجاد کی نماز جنازہ میں بہت کم لوگوں نے شرکت کی۔ اس سے قبل بھی مجھے ممتاز کالم نگار اور دانشور ارشاد احمد حقانی کا جنازہ یاد ہے جس میں بہت کم لوگ شریک ہوئے تھے۔
جبکہ اسی دوران فوت ہونے والے ٹیپو ٹرکا ں والے کے جنازے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جس کی بنیادی وجہ اس کی دولت اورسیاسی شخصیت تھی۔ یہی صورتحال دوسرے کالم نگاروں، دانشوروں اور ادیبوں کے جنازوں کے حوالے سے ہے۔ یوں بھی ہمارے پڑھے لکھے طبقے میں کافی نظریاتی گروہ بندی اور ایک دوسرے کے بارے میں حسد ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ کبھی بھی ایک پلیٹ فارم زندگی ہو یا موت ہو ایک پیج پر دیکھائی نہیں دیتے۔ ہمارے دانشور، کالم نگار اور ڈرامہ نگار ایک وقت میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ڈرامہ نگاری، شاعری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں۔مگر وہ جوں ہی منظر عام سے ہٹ جاتے ہیں تو ان کی پذیرائی ختم ہونے کے ساتھ لوگ اور دوست بھلا دیتے ہیں۔
ادب، ثقافت، سیاست اور سماجیت کے افق پر وہی شخصیات دائمی شہرت حاصل کر پاتی ہیں جن کا کوئی نظریاتی بیانیہ اور اصول پسندی شامل ہوتی ہے۔ دوسرے انہیں ایسے حلقہ ادب کی حمایت شامل ہوتی ہے جو کہ ان کے حوالے سے مختلف پروگراموں اور اپنی تحریروں میں تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں بڑے بڑے شاعروں، کالم نگاروں افسانہ نگارو اور تخلیق کاروں جن کا تعلق بائیں بازو سے ہے انہیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ہمیشہ اپنی آنکھوں پر بٹھائے رکھا ہے آج بھی مختلف چینلوں پر ہونے والے پروگراموں میں دائیں بازو کے لکھاریوں کی اکثریت غالب دکھائی دیتی ہے۔ ان کی جذباتی اور رومانوی تحریریں بڑے شوق سے پڑھی جاتی ہیں مگر ان کی بحث اور تحریروں کا محض وقتی اثرہوتا ہے۔ کیونکہ سماج کے حقوق اور مسائل کے حوالے سے وہ کبھی نظام کی تبدیلی کے بارے میں گفتگو نہیں کرتے۔
آج ہمیں انسان دوست ادب اور فن کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ زیادہ تر ادب برائے ادب کی بحثیں اور غیر نظریاتی بیانیوں کے حوالے سے بے لاگ تبصرے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ہمارے ادبی حلقوں کو کسی تازہ مرنے والے ادیب دانشور اور شاعر کی تلاش ہوتی ہے کہ اس کے بارے میں تحقیقاتی مقالے تحریر کر سکیں یا ایم فل کرنے والے طالبعلموں کو تھیسز لکھنے کیلئے یونیورسٹی والے نئی شخصیت کے بارے میں کہیں۔یہی صورتحال مستقبل قریب میں ڈاکٹر انور سجاد کے بارے میں ہوگی۔ وہ شخص دس سال تک بستر علالت پر تھا اس کی عیادت کیلئے کوئی نہیں جاتا تھا۔سوائے چند ترقی پسند مصنفین کے متحرک اراکین کے۔ انہیں انجمن ترقی پسند منصفین کی طرف سے لائف اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔ حکومت نے ان کے وظائف بند کر رکھے تھے جس کی بحالی کیلئے ان کی بیگم نے صدر پاکستان عارف علوی کو خط لکھا تھا۔جبکہ ہمارے متحرک پولیٹیکل ادیب فرخ سہیل گوندی نے متعلقہ وزارت کے وزیر اور دیگر محکموں سے ملاقات کی۔ خیال تھا کہ انہیں وظیفہ مل گیا ہو گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ انہیں کوئی امدادی فنڈز نہیں دیئے گئے۔
ڈاکٹر انور سجاد کا انتقال عید کے دنوں میں ہوا جبکہ لوگ آنے جانے والے مہمانوں کی مہمانداری میں مصروف ہوتے ہیں۔ انسان صحت مند اور توانا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقی اور مجلسی سر گرمیاں جاری رکھتا ہے تو لوگوں کے سامنے رہتا ہے مگر ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ زیادہ ہی بے اعتنائی برتی گئی۔فرخ سہیل گوندی نے چند روز قبل ڈاکٹر انور سجاد کا انٹر ویو بھی کیا جو کہ گوئندی گروپس الیکٹرک میڈیا پر موجود ہے۔اس میں دلخراش صورتحال کے حوالے سے زمانے کی سر د مہری اور بے اعتنائی کا ذکر ہے۔ ڈاکٹر انور سجاد ایک ترقی پسند سوچ رکھنے والے لکھاری تھے۔ وہ پیپلز پارٹی سے اس لئے متاثر تھے کہ اس نے پاکستان میں محکوم طبقات کے حوالے سے عوام دوست منشور دیا تھا۔ وہ اس کے فکری ونگ سے وابستہ تھے۔ وہ نظریاتی رومانیت کے عشق میں مبتلا پاکستان میں طبقاتی جکڑ بندیوں سے آزادی کیلئے جدو جہد کرتے رہے۔ وہ کہتے تھے کہ میں اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے طبقے کیلئے لکھتا ہوں جو کہ محنت کشوں ہاریوں اور چھوٹے کسانوں پر مشتمل ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ ڈاکٹر انور سجاد کون ہے۔
ڈاکٹر انور سجاد اندرون لاہور وارڈ سٹی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق لدھیانہ اور والدہ امر تسر سے تھیں۔ سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے انور سجاد نے اپنے نام کے ساتھ کبھی سید نہیں لکھا تھا۔ وہ کہتے تھے میری عادات سیدوں والی نہیں لہذا اپنے نام کے ساتھ سید لکھنے سے گریز کرتا ہوں۔ ان کے والد لاہور کے جانے پہچانے ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے کنگ ایڈوٹ کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔ بچپن سے ہی ریڈیو پاکستان کے پروگرام میں جانے لگے اور لاہور آرٹ کونسل کے مختلف ڈراموں میں کام کیا۔ 1964میں پاکستان ٹیلی ویژن پر آئے۔ یاد رہے 1950سے1975تک پاکستان میں بڑا تخلیقی ماحول تھا۔ہر قسم کی ثقافتی اور سماجی سر گرمیاں ہو رہی تھیں۔ تھیٹر ہو رہا تھا، فکشن لکھا جا رہا تھا۔
انور سجاد کی ہمہ جہت خوبیوں والی شخصیت نے تخلیق کے ہر میدان میں قلم اٹھایا۔ فکشن، ڈرامہ نگاری اور شاعری کے علاوہ آرٹ اور رقص ان کے شعبے تھے۔ جب ڈاکٹر صاحب 16برس کے تھے تو انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس ہوئی۔ اس زمانے میں پیپلز ڈیمو کریٹ سٹو ڈنٹس فیڈریشن کے نام کی ایک بائیں بازو کی تنظیم ہوتی تھی جس کے ناطے سے ان کا مزدور یونینوں اور مرزا ابراہیم سے رابطہ ہوا۔ انور سجاد نے جس عہد میں سیاسی اور نظریاتی بلوغت حاصل کی تھی، اس وقت دنیا کے بڑے بڑے ایشوز تھے جس میں ویت نام جنگ نے ساری دنیا کو متاثر کیا ہوا تھا۔
انہوں نے تاریخ کو بنتے بگڑتے اور دائیں بازو کے دانشوروں کے بقول تاریخ کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا۔ ڈاکٹر انور سجاد کو سعادت حسن منٹو پسند تھے۔ وہ سمجھتے تھے کارل مارکس کا بہت زیادہ کنٹری بیوشن ہے، کیونکہ انقلاب کا مطلب مسلسل تغیر اور تجربے کرتے رہنا ہے۔ مگر یہ بد قسمتی ہے کہ پاکستان کے بائیں بازو کے لیڈر ابھی ستر کی دہائی میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی نئی بحثیں نئی گروپ بندیوں اور دھڑوں کو تشکیل کر رہی ہیں۔ وہ انتظار حسین کو نظریاتی معاملات سے قطع نظر ایک بڑا فطری اور ماہر کہانی کار سمجھتے تھے۔ انہوں نے انتظار حسین کے ناول بستی پر مضمون لکھتے ہوئے کہا کہ انتظار حسین لاکھ چاہیں کہ وہ ترقی پسند ہو جائیں لیکن ان کی نسل کا پرابلم ہے وہ اپنے نظریاتی بیانیہ کے دائرہ کار سے باہر نہیں نکل سکتے۔ وہ کلاسیکل سوچ کے حامل ہیں۔ یہ لوگ نئے تجربات کرنے سے ڈرتے ہیں۔
ڈاکٹر انور سجاد کہتے ہیں انسان پیدائشی طور پر ثبات چاہتا ہے۔ اس نے غاروں میں تصوریں بنائیں جسے جادو کا نام دیا گیا۔ ان لکیروں کے ذریعے انسان نے کائنات میں اپنی موجودگی کا اظہار کیا۔ عہد حاضر کی ممتاز دانشور اور نقاد ڈاکٹر شاہین مفتی کے بقول انور سجاد کی تحریروں میں خاص قسم کا اضمحلال ہے اور منتشر خیالی ہے جو کہ پڑھنے والے کو ہیجان اور افسردگی میں مبتلا کرتی ہے۔ ان کے کرداروں کی فکری اٹھان چھوٹے چھوٹے ہیجانی جھٹکوں میں مبتلا کر دیتی ہے اور وہ ایک خاص فکری آسودگی حاصل کرتے ہیں۔ افسانی ادب کے تنقید نگار ان کے علامتی افسانوں کو پاکستان کے طویل مارشل لائی نظام کا مسلسل جائزہ قرار دیتے ہیں۔
اپنے جدید نظریات کا انہوں نے خوب پر چار کیا۔ ادب میں کئی تنازعات کو جنم دیا۔زندگی کے آخری سالوں میں انہوں نے تند و تیز انٹر ویو ریکارڈ کروائے۔ نظریاتی لگن ان کا سرمایہ تھی۔ وہ محبت اور سرمایہ کے میدان میں ہمیشہ خالی ہاتھ رہے۔ ایسے سچے اور کھرے لوگ خال خال ہی ملتے ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔