بے نامی اثاثے ظاہر کرنے کے لئے وزیر اعظم کی نئی وارننگ
- سوموار 10 / جون / 2019
- 5120
وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خصوصی پیغام میں پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ 30 جون تک اپنے تمام پوشیدہ اور بیرونِ ملک موجود اثاثے ظاہر کردیں کیوں کہ اس کے بعد مہلت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے تک جا پہنچا ہے جس کے باعث ٹیکس کی مد میں ملک میں جمع ہونے والے 4 ہزار ارب روپے کا نصف حصہ ماضی کے حکمرانوں کے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد جو رقم بچتی ہے اس میں ملک کے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستانی قوم دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتی ہے لیکن ان چند ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ خیرات دیتے ہیں۔ قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم میں صلاحیت موجود ہے۔ اس کے ساتھ جذبے کی ضرورت ہے جس کے بعد ہم 10 ہزار ارب روپے سالانہ ٹیکس جمع کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروائی ہے اس میں سب شمولیت کریں۔ اگر ہم ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک ترقی نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم ایک عظیم قوم بننا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑے گا۔
وزیراعظم نے قرآن پاک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے پاکستانی قوم کو تنبیہ کی کہ آپ کے پاس 30 جون تک کی مہلت ہے، اس وقت تک اپنے تمام اندرونِ و بیرونِ ملک اثاثے، بینک اکاؤنٹس ظاہر کردیں۔ اس کے بعد مہلت نہیں ملے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس اس حوالے سے وہ تمام معلومات موجود ہیں جو اس سے قبل کسی حکومت کے پاس نہیں تھیں۔ اس کے ساتھ ہماری حکومت کے بیرونِ ملک حکومتوں کے ساتھ معاہدے بھی کئے ہیں جن کے تحت پاکستانیوں کے بیرونِ ملک اثاثوں کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے پاس تمام اطلاعات ہیں کہ کس کا بے نامی اکاؤنٹ اور بے نامی جائیدادیں موجود ہیں۔ اس لیے اس اسکیم سے فائدہ اٹھا کر ملک کو فائدہ پہنچائیں اور اپنے بچوں کا مستقبل سنواریں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپیل کی کہ اسکیم کا فائدہ اٹھا کر اثاثے ظاہر کریں اور حکومت کو موقع دیں کہ اس ملک کو خود کفیل بنا کر عوام کو غربت سے نکالا جائے۔