آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد گرفتار

  • سوموار 10 / جون / 2019
  • 5690

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس میں درخواست ضمانت مسترد کردی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔  آصف علی زرداری اور فریال تالپور سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

سابق صدر کے وکیل نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں چیئرمین نیب کی جانب سے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ریفرنس جب احتساب عدالت کو منتقل ہوگیا تو چیئرمین نیب کے پاس اختیار نہیں اور اگر ریفرنس منتقل ہوگیا تو تفتیشی رپورٹ بھی اس کے ساتھ منتقل ہوگئی۔

فارق ایچ نائیک نے چیئرمین نیب کے خط کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا کہ ’چیئرمین نیب نے بینکنگ کورٹ سے درخواست کی تھی کہ یہ نیب کا کیس ہے اسے احتساب عدالت منتقل کیا جائے۔ اس کیس میں کافی مواد موجود ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ضمانت کی درخواست کو درخواست ہی رہنے دیں۔ اسے ٹرائل نہ بنائیں آپ پہلے ہی اپنے دلائل دے چکے ہیں۔ اگر کوئی چیز رہ گئی ہے تو صرف وہ بتائیں۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے  دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے۔ اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔ جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو بتایا کہ اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ ان اکاؤنٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ صرف ایک اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشن ہے جبکہ 29 میں سے 28 اکاؤنٹس کی تفتیش جاری ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے ان کی درخوستیں مسترد کردی گئیں۔

عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 2 ماہ 12 دن ضمانت پر رہنے والے سابق صدر اور ان کی بہن کو گرفتار کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ آصف علی زرداری اور ان کی بہن عدالتی فیصلہ سنائے جانے سے قبل ہی عدالت سے چلے گئے تھے۔  تاہم عدالتی فیصلے کے بعد نیب حکام نے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے لیے 2 ٹیمیں تشکیل دیں جن میں سے ایک ان کے گھر جبکہ ایک پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئیں۔

دوسری جانب ایک صحافی کے جعلی اکاؤنٹس کیس میں درخواست ضمانت کی سماعت سے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ’جو بھی ہوگا خیر ہوگا‘۔  آئندہ مالی سال 20-2019 کے بجٹ سے متعلق سوال کے جواب میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’ان (تحریک انصاف حکومت) کو بجٹ بنانا ہی نہیں آتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور کارکنان نے پارٹی کے شریک چیئرمین کی ممکنہ گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے جمع ہونا شروع ہوگئے جبکہ لاہور میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا بھی منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔

پی پی پی کے ایک کارکن عزیز الرحمٰن چن نے مظاہروں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہرے بھرپور ہوں گے۔ اس کے لیے کمیٹیاں بنادی گئی ہیں جبکہ مظاہروں کی جگہ پر ذمہ داران کی ڈیوٹیاں بھی لگادی گئی ہیں۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل میر کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان نے نیب کے ذریعے آصف زرداری کو گرفتار کروانے میں کامیاب ہوگئے تو وہ اپنی حکومت کے خاتمے کی بنیاد ہوگی۔