ڈاکٹر شکیل آفریدی کا مقدمہ پشاور ہائی کورٹ منتقل
- منگل 11 / جون / 2019
- 7490
اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کا مقدمہ پشاور ہائی کورٹ منتقل کردیا گیا ہے۔
پاکستان میں قبائلی اضلاع کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت سزائیں پانے والے مجرموں کی اپیلیں پشاور ہائی کورٹ منتقل کر دی گئی ہیں۔ ان اپیلوں میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ اداروں سے تعاون کرنے کے الزام میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اپیل بھی شامل ہے۔ انہیں ایف سی آر قوانین کے تحت پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کی عدالت نے 33 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم نے ایف سی آر ٹربیونل میں گزشتہ کئی سال سے زیرِ التوا اپیل کے پشاور ہائی کورٹ منتقل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے بقول جلد اپیل سماعت کے لیے مقرر ہو جائے گی۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی فوج کی کارروائی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایک ماہ بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
جون 2012 میں پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کی عدالت نے انہیں ملک سے غداری کے الزام میں 33 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اپیل پر ایف سی آر ٹربیونل نے سزا کم کر کے اسے 10 سال کر دیا تھا۔ بعدازاں ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل نے ایک اور اپیل دائر کر کے سزا مکمل طور پر ختم کرنے کی استدعا کی تھی جو سات سال سے زیرِ التوا ہے۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایک وکیل سمیع اللہ آفریدی کو مئی 2017 میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر اور سیاست دان لطیف آفریدی بھی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے دفاع کے لیے قائم وکلا کے پینل میں شامل ہیں۔
پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں پولیو کے قطرے پلانے کی ایک جعلی مہم شروع کی تھی۔ جس کے بعد 2 مئی 2011 کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے ایبٹ آباد کے ایک مضافاتی علاقے میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔