حمزہ شہباز کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا
- منگل 11 / جون / 2019
- 4420
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو قومی احتساب بیورو نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمات میں گرفتار کرلیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت میں توسیع مسرتد کردی تھی۔ حمزہ شہباز کی ضمانت آج 11 جون کو ختم ہوگئی تھی، جس میں توسیع کے لیے انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ضمانت میں توسیع کا معاملہ احتساب عدالت دیکھے گی جس پر لیگی رہنما نے اپنی درخواست واپس لے لی اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کے 38 کروڑ 80 لاکھ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 2018 تک حمزہ شہباز نے اثاثے ظاہر نہیں کیے اچانک حمزہ شہباز نے 2019 میں کہا کہ ان کے اثاثے 5 کروڑ سے 20 کروڑ ہو گئے ہیں۔
نیب وکیل نے یہ بھی کہا کہ حمزہ شہباز سے پوچھا گیا کہ بیرون ملک سے جو پیسے آتے ہیں ان کا زریعہ بتا دیں لیکن حمزہ شہباز نہیں بتا سکے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حمزہ شہباز عدالت میں موجود ہیں، جس پر ان کے وکیل سلمان بٹ نے بتایا کہ جی حمزہ شہباز کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب نے جاری کیے ہیں جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ چیئرمین نیب نے ان کے موکل کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز نے متعدد بینک اکاونٹس سے مشکوک ٹرانزیکشنز کیں اور ان کے خلاف درخواست بھی موصول ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ حمزہ شہباز سے آف شور کمپنیوں کے بارے میں پوچھا گیا جس کے وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔
حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی ان کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو منظور کیا جائے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک آئینی درخواست ہے جس میں توسیع کا اختیار احتساب عدالت کے پاس ہے۔
جس پر لیگی رہنما کے وکیل نے درخواست واپس لے لی اور جس کی بنیا پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں۔ ضمانتیں خارج ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز نے اپنے وکلا سے مشاورت کی اور پھر نیب کو گرفتاری دے دی۔
نیب کی ٹیم عدالت میں موجود تھی جس نے کمرہ عدالت سے باہر آتے ہی حمزہ شہباز کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔
واضح رہے کہ حمزہ شہباز کے خلاف نیب کی جانب سے رمضان شوگر ملز، آمدن سے زائد اثاثہ جات اور صاف پانی کیس میں ریفرنس دائر کیے گئے ہیں۔
عدالت میں پیشی کے لیے آتے ہوئے لیگی نائب صدر حمزہ شہباز نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے خلاف ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہوگئی تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔