ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین ضمانت پر رہا ہوگئے

  • بدھ 12 / جون / 2019
  • 4840

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)  کے بانی الطاف حسین ایک روز لندن پولیس کی  حراست  میں رہنے کے بعد رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں۔

برطانوی پولیس کے مطابق متحدہ کے بانی کو ناکافی شواہد کی بنا پر ضمانت پر رہا کیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ’الطاف حسین سے 2 روز تک پولیس اسٹیشن میں تفتیش کی گئی جس کے بعد ناکافی شواہد کی بنا پر انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا‘۔

سینٹرل لندن کے سدک پولیس اسٹیشن کے باہر ایم کیو ایم کے مقامی کارکن الطاف حسین کی رہائی کی خبر ملنے پر جمع ہوگئے اور اپنے قائد کے حق میں نعرے بازی کی۔ واضح رہے کہ الطاف حسین کو لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے گزشتہ روز اشتعال انگیز تقاریرکیس میں حراست میں لیا تھا۔

میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پاکستان میں کی گئی تقاریر سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ 60 سال سے زائد عمر کے شخص کو شمال مغربی لندن میں سنگین جرائم ایکٹ 2007 کی دفعہ 44 کے تحت دانستہ طور پر اکسانے یا جرائم میں معاونت فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔

رواں برس اپریل میں برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس کی 12 رکنی ٹیم نے ایم کیو ایم لندن کے قائد الطاف حسین کی 2016 کی متنازع تقریر سے متعلق کیس میں اپنی تفتیش مکمل کی تھی۔ اس سلسلے میں برطانوی پولیس کیس میں ثبوتوں کے حصول اور گواہوں کے بیانات قملبند کرنے پاکستان بھی آئی تھی۔

ایم کیو ایم کے قائد کی اس تقریر کے بعد ان کی جماعت کے حامیوں نے کراچی پریس کلب کے قریب میڈیا ہاؤسز پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا، پرتشدد کارروائیاں کی تھی اور گاڑیوں کو نذرآتش کیا تھا۔ تفتیش سے متعلق سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ برطانوی سی ٹی سی ٹیم کا مقصد 22 اگست 2016 کے واقعے کے ثبوت حاصل کرنا تھا۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف نہ صرف نفرت انگیز تقریر بلکہ دیگر مقدمات بھی ہیں۔ اس سے قبل سال 2013 میں لندن پولیس نے الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں چھاپے مارے تھے۔ اس موقع پر الطاف حسین کے گھر سے مبینہ طور پر بڑی تعداد میں نقدی برآمد ہوئی تھی جسے 'پروسیڈ آف کرائم ایکٹ' کے تحت قبضے میں لے لیا گیا تھا۔