ایران نے ٹینکروں پر حملوں کے بارے میں امریکی الزام مسترد کردیا
- جمعہ 14 / جون / 2019
- 5710
ایران نے خلیجِ عمان میں جمعرات کو دو آئل ٹینکرز پر حملوں میں ملوث ہونے کے امریکی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی یقینی بنانا ایران کی ذمہ داری ہے جسے وہ پوری طرح نبھائے گا۔
ایران کے سرکاری ریڈیو نے وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا ایک بیان نشر کیا ہے جس میں ترجمان نے آئل ٹینکروں پر حملے میں ملوث ہونے کے امریکی الزام کو سختی مسترد کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے حملوں کا نشانہ بننے والے دونوں آئل ٹینکرز کے عملے کو کم سے کم وقت میں امداد پہنچائی اور انہیں جہازوں پر سے نکالا۔
ترجمان نے کہا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کے مشتبہ اور افسوس ناک واقعات کا الزام ایران پر لگانا امریکی حکام کے لیے کتنا آسان ہے۔ لیکن ایسے الزامات خطرناک رجحان ہیں۔ اس سے قبل امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے خلیجِ اومان میں جمعرات کو دو آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا۔
حملوں کا نشانہ بننے والے جہازوں کا تعلق ناورے اور جاپان کی شپنگ کمپنیز سے تھا جن پر ہونے والے دھماکوں کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔ دونوں جہازوں میں دھماکوں کے بعد ان کے عملے کو جہازوں سے ساحل پر منتقل کردیا گیا تھا جس کے بعد سے یہ جہاز ایران اور خلیجی عرب ملکوں کے درمیان کھلے سمندر میں موجود ہیں۔
حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی ہیں جب کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید شدت آنے کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ خلیجِ اومان آبنائے ہرمز کے نزدیک واقع ہے جو تیل کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والی خام تیل کی کل تجارت میں سے 20 فی صد آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے۔ یہ مقدار لگ بھگ 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل روزانہ بنتی ہے۔
ایران ماضی میں بارہا دھمکی دے چکا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں نہ اٹھائیں تو وہ آبنائے ہرمز بند کردے گا اور اس راستے سے تیل کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس علاقے میں تیل لے جانے والے بحری جہازوں پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل مئی میں بھی متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ کے نزدیک کھلے سمندر میں چار آئل ٹینکرز پر حملہ ہؤا تھا۔