کرائسٹ چرچ مساجد کے حملہ آور کا الزامات ماننے سے انکار
- جمعہ 14 / جون / 2019
- 4830
رواں برس 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملہ میں 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے حملہ آور نے خود پر لگائے گئے تمام الزامات کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ اس کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی ہے۔
کرائسٹ چرچ کی النوراور لین ووڈ مسجد پر آسٹریلوی نژاد 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ نے حملہ کیا تھا۔ برینٹن ٹیرنٹ کو نیوزی لینڈ پولیس نے حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی گرفتار کرلیا تھا، جسے بعد ازاں عدالت میں پیش کرکے ان پر الزامات عائد کیے تھے۔
برینٹن ٹیرنٹ پر رواں برس اپریل کے آغاز میں 51 افراد کے قتل، 40 افراد کے اقدام قتل اور ایک دہشت گرد حملے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ برینٹن ٹیرنٹ پر عدالت کی جانب سے الزامات عائد کیے جانے کے بعد عدالت نے ان کے دماغی معائنے کا حکم بھی دیا تھا، تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ملزم خود پر لگے الزامات کا دفاع کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے یا نہیں۔
عدالتی احکامات کے بعد حملہ آور کا دماغی معائنہ کیا گیا اور رواں برس مئی میں ڈاکٹرز نے عدالت کو بتایا کہ برینٹن ٹیرنٹ ذہنی طور پر بلکل درست ہے اور وہ اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کا دفاع کرنے کے قابل ہے۔
عدالت کی جانب سے ان پر الزامات عائد کیے جانے اور ان کے دماغی معائنے کی تمام رپورٹس آنے کے بعد 14 جون کو کرائسٹ چرچ ہائی کورٹ میں ان پر لگائے گئے الزامات کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران برینٹن ٹیرنٹ عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کی۔
ملزم کے وکیل نے عدالت کو اپنے مؤکل کا بیان پڑھ کر سنایا، جس میں اس نے خود پر لگے تمام الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ جس وقت ملزم کے وکیل نے عدالت میں اپنے مؤکل کا بیان پڑھ کر سنایا اس وقت برینٹن ٹیرنٹ بلکل خاموش تھا۔
ملزم کی جانب سے تمام الزامات سے انکار کرنے کے بیان پر عدالت میں موجود حملے میں زخمی ہونے والے 80 افراد اور شہید ہوجانے والے افراد کے اہل خانہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف اسی کیس کا ٹرائل آئندہ برس مئی میں شروع ہوگا اور ان کے خلاف باقاعدہ انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمہ شروع کیا جائے گا۔