پاکستان سرمایہ کاری کیلئے پرکشش مقام ہے: وزیراعظم

  • جمعہ 14 / جون / 2019
  • 5280

وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام اور وسائل سے بھرپور ایک بڑی تجارتی منڈی ہے۔

کرغزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 19ویں اجلاس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو بھرپور توانائی کے حامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دیگر مثبت پہلوؤں میں ہنرمند انسانی وسائل کی بڑی تعداد شامل ہے۔ وسیع زرعی زمین، سیاحت کی زبردست صلاحیت، کثیرالجہت معدنی دولت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا منظم ڈھانچہ موجود ہے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام، مساوات، خود مختاری اور باہمی مفادات کی بنیاد پر اپنی اشتراکیت قائم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری چینی صدر شی جنگ پنگ کے وسیع النظر بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم ترین حصہ ہے جو تیزی سے ثمر انگیز ہو رہا ہے۔

خطاب میں عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا اتنے زمانوں میں پہلی مرتبہ کثیرالقطبی عالمی نظام کی آمد دیکھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا اقتصادی مرکز اور ترقی کی رفتار تیزی سے مشرق کی جانب منتقل ہورہی ہے۔ مقامی سطح پر تیزی سے انضمام اور بکھری ہوئی ٹیکنالوجی پختہ ہورہی ہے۔

وزیراعظم کاکہنا تھا کہ دنیا کو دہشت گردی سے لے کر ماحولیاتی تبدیلیوں، منشیات اور بیکٹیریا کے مسائل کا سامنا ہے۔ اور آزادانہ تجارت میں رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ جدت اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت، اسلامو فوبیا میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان غیر قانونی قبضے کے تحت عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی سمیت ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

ہم ان چند ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف لہر کو کامیابی سے تبدیل کیا اور پاکستان انسداد دہشت گردی کے لیے اپنے تجربات اور مہارت سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نے امن و مفاہمت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کو دہراتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں حتمی طور پر اس بات کا دراک کرلیا گیا ہے کہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کو جن دشمنوں کا سامنا ہے ان میں غربت، جہالت، بیماریاں اور ترقی پذیریت شامل ہے۔ سیاسی اختلافات اور غیر حل شدہ تنازعات مزید مشکل حالات پیدا کردیتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ طویل عرصے سے  جاری تنازعات کے پر امن حل کے لیے مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور خطے کی سالمیت کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔

اس دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان نے چینی صدر شی جنگ پنگ سے ملاقات کی جس میں باہمی تعلقات، سی پیک پر گفتگو ہوئی۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ملاقات میں چینی صدر نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستانی کوششوں کو سراہا۔

دونوں ممالک کے سربراہان نے نئے دور میں پاکستان اور چین کے مابین مشترکہ اہداف میں تعاون کی وسعت اور گہرائی کومزید اجاگر کرنے کا عزم ظاہر کیا۔