قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس ہنگامہ آرائی کے بعد پیر تک ملتوی
- جمعہ 14 / جون / 2019
- 5160
ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس اراکین اسمبلی کی ہنگامہ آرائی اور اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے پیر تک ملتوی کردیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان زیریں کے بجٹ سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے تنازع پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی۔ جس کی وجہ سے اجلاس 2 مرتبہ ملتوی کرنا پڑا۔
تیسری مرتبہ شروع ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی لیکن قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایوان میں خاموشی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تقریر کا باقاعدہ آغاز نہیں کرسکے۔ انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے بارہا استدعا کی ہاؤس ان آرڈر کریں اور جو اراکین اسمبلی میں ناموسِ صحابہ کے اہم موضوع پر بات کرنا چاہ رہے ہیں انہیں موقع دیں۔
شہباز شریف کا خطاب شروع ہوتے ہی ارکان اسمبلی نشستوں سے کھڑے ہوگئے، اس دوران حکومتی اراکین نے کہا کہ پوائنٹ آرڈر پر بات کرنی ہے، ڈپٹی اسپیکرنے اپوزیشن لیڈرکو مائیک دیا تو اسعد محمود اور مولانا واسع کھڑے ہوگئے جس پر شہباز شریف تقریر کیے بغیر دوبارہ نشست پر بیٹھ گئے۔
اس دوران ڈپٹی اسپیکر نے تنبیہ کی کہ ارکان اسمبلی اپنی اپنی نشست پر جاکر بیٹھیں اور شائستگی سے ایوان کو چلنے دیں۔ ڈپٹی اسیکر نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال اور رہنما پیپلزپارٹی حنا ربانی کھر کوایوان میں ویڈیو بنانے سے روکا اور تنبیہ کی کہ جو لوگ ویڈیو بنارہے ہیں ان کے موبائل فونز لے لیے جائیں گے۔
قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کے بارہا اصرار پر شہباز شریف نے تقریر کا آغاز نہیں کیا جس پر قاسم سوری نے کہا کہ قانون کے مطابق بجٹ سیشن پر بحث کا آغاز قائد حزب اختلاف سے ہوتا ہے۔ آپ کا مائیک آن ہے، تقریر کیوں نہیں کررہے ہیں میری سمجھ سے باہر ہے۔
شہباز شریف نے جیسے ہی اظہارِ خیال شروع کیا تو اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر شور شرابا شور ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ کاش یہ اجلاس آج صبح اپنی کارروائی شروع کرتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔
اسمبلی میں اراکین کا شور شرابا جاری رہا، شہباز شریف نے تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ اس شرط پر تقریر کا آغاز کررہا ہوں کہ اس کے بعد مولانا اراکین کو ناموس صحابہ کے اہم موضوع پر بات کا موقع دیا گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کی سب سے زیادہ دھاندلی زیادہ حکومت ہے جس پر حکومتی ارکان کی جانب سے احتجاجا شور شرابا کیا گیا۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دھاندلی زدہ حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا گیا، رواں مالی سال پی ٹی آئی حکومت 2 منی بجٹ لے کر آئی جن کے نتیجے میں معیشت تباہی کا شکار ہوئی ۔
شہباز شریف نے کہا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کے خطاب کے دوران ہم ایسا نہیں کریں گے۔ لیڈر آف دی ہاؤس کے آنے پر ہم بھی ایسا کریں گے،ان کا کہنا تھا کہ میں چاہوں گا کہ وزیراعظم تقریر کریں اور ہم انہیں بار بار بیٹھنے پر مجبور کریں۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ 10 ماہ میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی کا پول کھل گیا، جس طریقے سے آج سے کچھ عرصے پہلے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بلند و بانگ دعوے کرتے تھے اور چیخ چیخ کر قوم کو غلط اور بے بنیاد نعرے لگا کر گمراہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
اس دوران اپوزیشن بنچوں میں سے بعض اراکین ناموس صحابہ کے معاملے پر بولنے کی اجازت مانگتے رہے اور ڈپٹی اسپیکر شہباز شریف کو اپنی بجٹ تقریر جانے رکھنے پر اصرار کرتے رہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم گزشتہ 45 منٹ سے موجود ہیں اور ڈپٹی اسپیکر کا اختیار ہے کہ آپ ایوان کو ان آرڈر کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ مجھے بار بار اٹھانے اور بیٹھا کر میری کمر کا علاج کرارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی بدترین کارکردگی عوام سے نہیں چھپ سکتی اور بناوٹ کے اصولوں سے سچائی چھپ نہیں سکتی۔ اس پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا تو شبہاز شریف دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔
بعدازاں خورشید شاہ، راجا پرویز اشرف سمیت دیگر اراکین اسپیکر ڈائس پر پہنچ گئے جس پر ڈپٹی اسپیکر نے ایوان منظم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر تک ملتوی کردیا۔