فریال تالپور کا 9 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا

  • ہفتہ 15 / جون / 2019
  • 4910

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹ کیس میں گرفتار پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو  کے حوالے کردیا ہے۔

نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار فریال تالپور کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کے روبرو پیش کیا تھا اور 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا تھا کہ فریال تالپور زرداری گروپ کی ڈائریکٹر ہیں۔ ہائی کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر نیب نے فریال تالپور کو گزشتہ روز گرفتار کیا۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ زرداری گروپ کے اکاؤنٹ سے 3 کروڑ روپے کی رقم اویس مظفر کے اکاؤنٹ میں بھی منتقل ہوئی اور یہ رقم فریال تالپور کے دستخط سے اویس مظفر کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی تھی۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ فریال تالپور پر کرپشن کا الزام ہے۔ عدالت ان کا ریمانڈ منظور کرے۔

ملزمہ کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ فریال تالپور موجودہ رکن صوبائی اسمبلی، سابق رکن قومی اسمبلی اور میئر رہی ہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے فریال تالپور کو آن کے گھر میں نظر بند کیا ہے۔ عدالت حکم دے کہ نیب تفتیش کے لیے پہلے اس عدالت سے اجازت لے۔

گزشتہ روز نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی  آصف علی زرداری کی بہن اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کو گرفتار کرلیا تھا۔ ترجمان نیب کے مطابق بیورو نے گزشتہ روز ہی فریال تالپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق فریال تالپور کو ایف ایٹ سیکٹر میں قائم زرداری ہاؤس میں ہی نظر بند رکھا گیا ہے اور اسے ذیلی جیل بھی قرار دے دیا گیا ہے۔ نیب کی جانب سے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بھی ان کو گھر میں نظر بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔