بجٹ کی وجہ سے عمران خان ٹرمپ سے ملنے نہیں گئے: شاہ محمود قریشی
- ہفتہ 15 / جون / 2019
- 7900
انڈی پنڈنٹ اردو نے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے جون میں عمران ٹرمپ ملاقات کا اشارہ ملا تھا لیکن بجٹ کی وجہ سے وزیر اعظم امریکہ نہیں جاسکتے تھے۔
کرغستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم میں شریک شاہ محمود قریشی نے انڈی پنڈنٹ کو بتایا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن اب نئی تاریخوں کے حوالے سے رابطے میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا فورم امن، سکیورٹی اور استحکام کی بات کرتا ہے اور پاکستان کے تمام ہمسایہ ممالک اس میں شامل ہیں۔ ’بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں پر سرمایہ کاری اور تجارت کی جا سکتی ہے پاکستان کے اس خطے میں مراسم تھے جس میں وقفہ آ گیا تھا جس کو ہم بحال کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا چین کے ساتھ تو پاکستان کے تعلقات ہیں ہی لیکن تنظیم کے باعث پاکستان کو روس کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کا موقع ملا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا اجلاس شروع ہونے سے قبل وزیراعظم عمران خان کی بھارتی ہم منصب کے ساتھ غیر رسمی ملاقات میں حال احوال پوچھا گیا اور حالیہ انتخابات پر بات چیت کی گئی۔
انہوں نے کہا پاکستان بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتا ہے اور پاکستان نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔ ’دہشت گردی کا مسئلہ ہو یا رابطوں کا فقدان، سب کا حل مل بیٹھ کر ہی نکالنا ہو گا لیکن پاکستان کو عجلت نہیں جب وہ تیار ہوں گے ہمیں تیار پائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کوئی معمولی ملک نہیں۔’آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاکستان بھارت کے سامنے ہاتھ پھیلائے گا یا گھٹنے ٹیک دے گا؟‘ ’ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ سفارتی آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کا حل ضرور چاہتے ہیں لیکن اگر بھارت یہ سوچتا ہے کہ پاکستان پیچھے دوڑے گا تو یہ خیال ذہن سے نکال دے۔‘
انڈی پنڈنٹ اردو کی نمائندہ نے جب سوال کیا کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ خوشگوار موڈ میں تصاویر تو آ گئیں لیکن دونوں کی باضابطہ ملاقات کیوں نہیں ہوئی؟ اس پر وزیر خارجہ نے جواب میں کہا یہ طے کیا گیا تھا کہ ظہرانے کے وقت وزیر اعظم عمران خان اور روسی صدر کی نشست ساتھ رکھی جائے گی اور مترجم بھی مہیا کیا جائے گا تاکہ وہ بات چیت کر سکیں۔ ’دونوں سربراہان مملکت نے ایک دوسرے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تمام اہم امور بشمول افغانستان، گلف اور مشرق وسطی کی کشیدگی، آپسی باہمی تعلقات بڑھانے پر بات چیت کی۔‘
انہوں نے بتایا کہ یہ طے پایا ہے کہ عنقریب چین میں ایک نشست کا انعقاد کیا جائے گا جس میں چین، روس، امریکہ، ایران، افغانستان اور پاکستان کے وزرا خارجہ شرکت کریں گے۔ اس میں افغانستان میں امن کے قیام پر بات چیت کی جائے گی۔