امریکی الزام تراشی کے بعد خلیج میں تصادم کا خطرہ بڑھ گیا
- ہفتہ 15 / جون / 2019
- 6370
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس کے باس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ جمعرات کو خلیجِ اومان میں تیل کے دو ٹینکروں پر حملوں کا ذمہ دار ایران ہے۔ اس امریکی الزام کے بعد خلیج میں بحران مزید بڑھ گیا ہے۔
پینٹاگون کی طرف سے ایک دانے دار مبہم ویڈیو جاری کی گئی ہے۔ اس ویڈیو کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی ایرانی کشتی اس ٹینکر سے بارودی سرنگ اتار رہی ہے جو اس وقت تک نہیں پھٹی تھی۔ اس ٹینکر پر جمعرات کو حملہ کیا گیا تھا۔ ابھی تک ایران کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے حوالے سے یہ پہلا ٹھوس ثبوت ہے۔
ایران اس امریکی الزام کو مسترد کرچکا ہے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ان حملوں کا الزام مکمل طور پر ایران پر عائد کیا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی اس الزام کو دہرا چکے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے ان کے الزام کی بنیاد انٹیلی جنس معلومات، ان حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی قسم اور ان کو انجام دینے کے لیے مہارت، ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حالیہ حملے اور یہ حقیقت ہے کہ اس علاقے میں متحرک کسی پراکسی گروپ کو یہ وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ اور نہ ہی وہ اس مہارت سے یہ کام سر انجام دے سکتے ہیں۔
ایران نے جمعرات کو ہونے والے اس واقعے میں کسی بھی طور پر ملوث ہونے سے فوری انکار کیا ہے۔ ایک ایرانی اہلکار نے زور دیا کہ ’کوئی ایران اور بین الاقوامی برادری کے درمیان تعلقات کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔‘
اس بات کا قوی خطرہ موجود ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ ہائبرڈ جنگ شروع کر سکتا ہے۔ یعنی کے براہ راست اور اپنی پراکسیز کے ذریعے جہازوں پر بڑے پیمانے پر حملے ہو سکتے ہیں۔ اس طرح تیل کی قیمتوں اور انشورنس پریئمیم میں اضافہ ہو گا اور شاید سخت جوابی کارروائی کا راستہ بھی ہموار ہو جائے۔
تنازعہ کے تمام فریق اس خطرے سے آگاہ ہیں۔ اس لئے اس امکان کو مسترد کیا جارہا ہے کہ ایران یا امریکہ میں سے کوئی واقعی معاملات کو انتہا پر لے جا کر کھلی جنگ چاہتا ہے۔ فوجی طاقت کے باوجود امریکیوں کے لیے ایران سے جنگ ہر طرح کے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تمام جنگی بیانات کے باوجود ابھی تک بیرون ملک کوئی بڑی فوجی کارروائی کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ ایک خطرہ یہ ہے کہ ایران صورتِ حال کو غلط طریقے سے سمجھ کر امریکی انتظامیہ میں جنگجو سوچ رکھنے والوں کو ایسی شے نہ دے دے کہ وہ کسی قسم کی کارروائی کا سوچنے لگیں۔ یہ اندیشہ بھی موجود ہے کہ حادثاتی طور پر کوئی جنگ شروع ہوجائے۔
ایران سمجھتا ہے کہ امریکہ اسے ڈرا دھمکا کر اپنی شرائط ماننے پر مجبور کررہا ہے جو اس کے لیے ناقابل قبول ہے۔