بجٹ اور قرض انکوائری کمیشن
- تحریر
- ہفتہ 15 / جون / 2019
- 4800
عجیب منفرد بجٹ تھا جس کا پیش ہونے سے پہلے تو خوب شہرہ رہا مگر عین پیش کئے جانے کے موقعے پر اس کی طرف توجہ بہت کم رہی۔ ایک روز قبل آصف علی زرداری کی گرفتاری کا ہنگامہ برپا ہو گیا۔
اس کے بعد حمزہ شہباز اور پھر لندن میں بانی ایم کیو ایم گرفتار ہوئے۔ عجیب ِ اتفاق تھا کہ جس بجٹ نے ہر طبقے کو متاثر کیا، اس کا ذکر اس دوران سیاست کی چکاچوند میں چندھایا رہا۔
رہی سہی کسر وزیر اعظم کی نیم شب کی تقریر نے پوری کر دی۔ یہ بجٹ غالباٌ پہلا بجٹ تھا جس کے پیش کئے جانے کے بعد وزیراعظم نے قوم سے براہ راست خطاب کیا۔ ٹائمنگ کے اعتبار سے قیاس آرائیوں کا زور رہا ہے۔ تقریر کے وقت میں بار بار تبدیلی نے ان قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دی۔ وزیر اعظم نے تقریر کے ابتدا تو ان کلمات سے کی کہ آج شام جو بجٹ پیش ہوا ہے وہ تحریک انصاف کے ریاستِ مدینہ بنانے کے وعدے کا عکاس ہے۔ اس کے بعد کچھ دلاسا کہ تکلیف تو ہو گی مگر کیا کریں آپ اور آپ کی آنے والی نسلوں کی خاطر یہ کڑوے گھونٹ پینے ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کڑوے گھونٹ کی اپنے تئیں کڑواہٹ کم کرنے کے لئے ایک نیا پلان پیش کیا۔
ابتدا اس پلان کی یوں کی: ’ابھی تک مجھ پر پریشر تھا ملک کو مستحکم کرنے کا، اب اللہ کا کرم ہے پاکستان مستحکم ہو گیا ہے۔ اب میرے اوپر سے وہ پریشر ختم ہو گیا ہے۔ اب میں نے ان کے پیچھے جانا ہے۔ میں اپنے نیچے ایک ہائی پاور انکوائری کمیشن بنانے لگا ہوں جس کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ دس سالوں میں انہوں اس ملک پر 24 ہزا ر ارب روپے قرضہ کیسے چڑھایا‘۔اس جذباتی انداز سے یہ پیغام واضح ہو گیا ہے کہ ملک کی معیشت اب مستحکم ہے، اس کا پریشر اب کیا لینا، معاشی ٹیم جانے اور ان کا کام، وزیر اعظم اب پچھلی دونوں حکومتوں کے اٹھائے گئے قرضوں کی چولی اٹھا کر ہم آپ سب کو دکھلائیں گے کہ چولی کے پیچھے کیا ہے؟ نہ صرف دکھلائیں گے بلکہ بقول ان کے ان قرضوں سے اپنی جیبیں بھرنے والوں کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے۔
وزیر اعظم نے سابق حکمرانوں کی کرپشن کو جس آسانی سے قرضوں کے بڑھتے حجم کے مساوی قرار دیا، وہ معاشیات کے کسی بھی طالب علم کے لئے ایک چونکا دینے والا انکشاف تھا۔ ان کے خیال میں جوں جوں ملکی قرضے بڑھتے گئے حکمرانوں کی دولت میں توں توں اضافہ ہوتا ہے گیا، پس ثابت ہوا کہ لئے گئے قرضے ان کی کرپشن اور جیبوں کی نذر ہوئے۔ کرپشن کے خلاف قانون کا شکنجہ کسنے کی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں لیکن ملکی قرضوں کے بڑھنے کو مبینہ طور پر چند حکمران خاندانوں کی دولت میں اضافے کے مساوی قرار دے کر اس مسئلے کو انکوائری کے اکھاڑے میں اتارنے سے ملکی قرضوں میں اضافہ رکنے والا نہیں۔
تسلیم کہ کرپشن اور مفادات پر مبنی حکومتی ترجیحات ملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ، بے جااستعمال اور استحصال گورننس اور ملکی معیشت کو کھوکھلا کر دیتی ہیں لیکن درحقیقت معاملات اس سے کہیں پیچیدہ، ہمہ گیر اور دیرینہ ہیں۔ ان مسائل کی جڑ ایک ایسے استحصالی نظام میں ہے جو پچھلی تین چار دِہائیوں سے پنپ رہا ہے اور اب اس کے آہنی شکنجے نے پوری معیشت اور ریاست کو یرغمال بنا لیا ہے۔ مفادات اور طاقت کے حصول اور ارتکاز کی اس جنگ میں سیاست دانوں کے علاوہ دیگر بالا دست طبقات یعنی Ruling elite بھی شریک کار رہی ہے۔
دھیرے دھیرے اس نظام نے خوشہ چینی اور مفادات پانے والوں کی ایک کلاس پیدا کر لی ہے جس میں رئیل اسٹیٹ ، انفرا سٹرکچر کے ٹھیکے دار، ٹریڈنگ اور سرمایہ کار ی سمیت بہت سے دیگر شعبہ جات سے وابستہ لاکھوں لوگ ہیں جن کی خوشحالی اس نظام کی مرہونِ منت ہے۔ چند حکمران اور سیاسی خانوادوں پر ہاتھ ڈالنے سے یہ نظام نہیں لپیٹا جا سکتا کیونکہ اسی نظام کی بدولت سیاسی اور انتخابی مہمیں سرانجام پاتی ہیں۔ اسی نظام کے طوطے میں حکومتی پالیسیوں، پوسٹنگ، ٹرانسفر، سبسڈیز اور لاتعداد دیگر ایسے فوائد کی جان اٹکی ہوتی ہے۔ جب تک اس نظام کی بنیادوں کو از سرِ نو ترتیب نہیں دیا جاتا، قرضوں کا بوجھ اسی طرح بڑھتا رہے گا۔
دور کیا جانا، اسٹیٹ بنک کے مطابق جون 2017 میں کل قرضے اور مالیاتی ذمہ داریاں یعنی Liablities 25 ہزار ارب روپے سے کچھ زائد تھیں جو جون 2018 میں بڑھ کر تیس ہزار ارب کے لگ بھگ ہو گئیں، مارچ 2019 میں یہ غبارہ مزید پھول کر 35 ہزار ارب روپے ہو گیا۔ نو ماہ کی مدت میں پانچ ہزار روپے کے اضافے پر موجودہ حکومت کا یہ سکہ بند جواب ہے کہ پچھلی حکومت نے خزانے میں کچھ چھوڑا ہی نہ تھا، سو ان کی بد اعمالیوں کے سبب مجبوراٌ یہ قرض لینا پڑا ورنہ ملک دیوالیہ ہو جاتا۔
گزشتہ سال کے اکنامک سروے کا پہلا پیرا یہ واضح کرتا ہے کہ معیشت کا نظام ایک تکلیف دہ دائرے میں گھوم رہا ہے، تین چار سال بڑھوتری اور پھر اس کے بعد بڑھوتری کا یہ بلبلہ پھٹ جاتا ہے۔ سو یوں بڑھوتری اور مندی کی دھوپ چھاؤں کا کھیل کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس کھیل میں بنیادی کردار تجارتی خسارے کا ہے کہ برآمدات زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق بڑھنے کا نام ہی نہیں لیتیں مگر دوسری طرف معیشت میں تصرّف یعنی Consumption کی مسلسل حوصلہ افزائی ہے۔ یوں تجارتی خسارہ بڑھتا گیا جو بالخصوص گزشتہ حکومت کے دور میں ہر سال ریکارڈ بناتا گیا۔
دوسری تشخیص مشیر خزانہ نے بجا طور پر یہ کی کہ انکم ٹیکس گزاروں کی تعداد بمشکل تیرہ چودہ لاکھ ہے جن میں سات آٹھ لاکھ صحیح معنوں میں ٹیکس ادا کرتے ہیں باقی تو بس سالانہ گوشواروں کی خانہ پری کرتے ہیں۔ دوسری طرف کاروباری دنیا میں غیر دستاویزی پھیلاؤ بہت وسیع اور ٹیکس گزاری کے نیٹ سے باہر ہے، پچھلی حکومت کی نان فائلر والی سزا اور اضافی اخراجات کی چھڑی بھی اس طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں خاص کامیاب نہیں ہوئی۔ اس لئے بقول مشیر خزانہ امیر طبقہ ناراض ہوتا ہے تو ہو ہم ہر صورت ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے محاصل اکٹھے کرکے رہیں گے۔
معیشت کی جھولی میں ایسے ایسے چھید ہیں کہ خدا کی پناہ! بجلی اور گیس کے مجموعی نقصانات کا حجم سولہ سو ارب روپے اور پبلک سیکٹر اداروں کے مجموعی نقصانات تیرہ سو ارب روپے سے متجاوز ہیں اور ہر سال بڑھ رہے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ معیشت اور گورننس کا موجودہ نظام نااہلی، استحصال اور مفادات کی بنیادوں پر استوار ہے، اس کی بنیادوں کو ازسرِ نو تعمیر و تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
نئے کمیشن سے ایک نئے لاحاصل مگر باہمی مناقشت اور مخالفانہ دور کا آغاز تو ہو سکتا ہے، بگڑا ہوا نظام ٹھیک نہیں ہوگا۔ بجٹ محصولات کی ٹارگٹ پورے کرنے کے لئے حکومت کو یکسوئی سے معیشت اور گورننس کی تنظیمِ نو پر تمام توانائیاں صرف کرنے کی ضرورت ہے ورنہ پانچ دس سال بعد شاید ایک اور انکوائری کمیشن تشکیل پائے کہ پہلے نو مہینے اور بعد والے سوا چار سال میں اس حکومت نے قرضوں میں اضافہ کرکے اپنی جیبوں کو کتنا بھرا اور کتنی دولت سمیٹی!
احتساب کے جاری کام کو متعلقہ اداروں کے ذمے رکھتے ہوئے حکومت اس نظام کی تشکیل ِ نو پر توانائیاں لگائے تو شاید ہر تین سال بعد بہتری اور مندی کے تکلیف دہ چکر سے قوم اور ملک کو نجات مل سکے۔ منیر نیازی یاد آئے:
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے