سماجی ہم آہنگی،رواداری اور مکالمہ کا کلچر
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 16 / جون / 2019
- 32970
تعلیم کا ایک بنیادی مقصد نوجوان نسل میں سماجی اہم اہنگی،رواداری،برداشت،قبولیت اور مکالمہ کے کلچر کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ کیونکہ تعلیمی اداروں کی سطح پر یہ سوچ او رفکر نئی نسل میں ایک نئی سوچ، متبادل بیانیہ اور معاملات میں تنقیدی پہلوؤں کو اجاگر کرکے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
آج کا تعلیمی ماحول بیک وقت صنفی بنیادوں پر تقسیم ہے، وہیں مختلف مذاہب، برادری،فرقہ، رنگ، زبان، علاقہ کی بنیاد پر بھی تقسیم ہے۔ ایسی تقسیم میں جب مختلف لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو ان میں سماجی بنیاد پر رواداری کو پیدا کرنا ضروری امر ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ عمل ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے مسائل میں مدد پدنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔تعلیم بنیادی طور پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی بجائے جوڑتی ہے۔
آج کا تعلیمی منظرنامہ دیکھیں تو لگتا ہے کہ نئی نسل میں نہ وہ استاد ہیں او رنہ ہی وہ طالب علم ملتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے سماجی قبولیت پیدا کریں۔ ہمیں تعلیمی اداروں کی سطح سے اٹھنے والے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں تو ان میں نفرت،تعصب،غصہ،مایوسی ، او رمختلف فکر کی بنیاد پر لڑائی جھگڑے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاص طو رپر مختلف حوالوں سے مختلف لوگ تقسیم پیدا کرکے سیاسی تنہائی میں رہتے ہیں اور دوسروں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے ہیں۔ معاشرے میں عدم برداشت کا کلچر عام ہے اس میں جہاں بہت سے اور عوامل ہیں وہیں ہمارا تعلیمی نظام بھی ہے۔لگتا ایسا ہے کہ ہم مسائل کو طاقت اور غصہ کے انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں جو نتیجہ کے طو رپر اور زیادہ مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
مکالمہ اول تو معاشرے میں نہیں ہورہا او رجو کچھ مکالمہ کے نام پر ہورہا ہے وہ بھی توجہ طلب مسئلہ ہے۔ کیونکہ ہم مکالمہ کے نام پر اپنی اپنی فکر اور خیالات ایک دوسرے پر مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ہماری کوشش ہوتی ہے کہ صرف وہی سچ ہے جو ہمارا سچ ہوتا ہے اور باقی لوگ جھوٹے ہیں۔دوسروں کی رائے کا احترام کرنا اور ان کو عزت دینے کا درس یہاں کمزور ہوگیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ مکالمہ کے نام پر الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ٹاک شوز کا کلچر بھی مکالمہ سے زیادہ بحرانوں کو پیدا کرنا او ر ماحول میں شدت پیدا کرنا ہوتا ہے۔اس لیے پہلے تو تعلیمی اداروں کی سطح پر اساتذہ کو خود مکالمہ کے کلچر کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا او را س کے لیے ہمیں طلبہ و طالبات کو نہ صرف سننا ہوگا بلکہ ان کو بولنے کا موقع بھی فراہم کرنا ہوگا۔ ایک طرف مکالمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور لوگ اس کو مکالمہ نہیں سمجھتے جو یہاں کچھ مکالمہ کے نام پر ہورہا ہے۔
ہم عمومی طور پر ان ہی افراد سے مکالمہ کررہے ہوتے ہیں جو پہلے ہی سے ایک دوسرے کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔حالانکہ مکالمہ کا ایک پہلو دوسروں نکتہ نظر کے لوگوں سے مکالمہ کرنا اور ان کے سامنے دلیل اور شواہد کی بنیاد پر اپنا مقدمہ پیش کرنا ہوتا ہے۔مکالمہ کا مقصد محض کسی پر اپنی رائے مسلط کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ مکالمہ کا عمل مزید بات چیت یا مکالمہ کو پیدا کرتا ہے جو خود ایک مثبت سوچ اور فکر کی عملی عکاسی کرتا ہے۔مکالمہ کے دوران ہمارے مزاج میں شدت پسندی آتی ہے اور ہم غصہ کی کیفیت میں آجاتے ہیں اس کی وجہ بھی وہی فکر ہے جو دوسروں کی سوچ اور فکر کو نہ سننے کی سوچ کو ابھارتی ہے۔سماجی اہم آہنگی سے مراد یہ ہی ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے اپنے اندر احترام کا جذبہ پیدا کریں اور سب کو مقدم سمجھیں۔ضروری نہیں کہ آپ کسی کے کہنے پر اپنی سوچ او رفکر کو تبدیل کریں بلکہ اس سے زیادہ ضروری ہے کہ آپ اپنی سوچ پر قائم رہیں اور دوسروں کو بھی موقع دیں کہ وہ اپنی سوچ پر قائم رہے۔ اس میں ایک ہی پہلو ہے کہ ہم آپس میں سماجی رواداری کے کلچر کو عام کریں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نوجوان نسل کو ساری صورتحال کا ذمہ دار قرار دیں بلکہ یہ مسئلہ مجموعی طور پر پورے تعلیمی نظام اور تربیت کے عمل سے جڑا ہے جو اصلاحات چاہتا ہے۔یہ ہی نوجوان نسل جس پر ہم بہت زیادہ تنقید کرتے ہیں ان کو اگر سیکھنے سکھانے کا سازگار ماحول دیا جائے تو یہ ہی بچے او ربچیاں زیادہ سازگا رماحول پیدا کرسکتے ہیں۔ یہ روائتی سو چ او رفکر کے مقابلے میں ایک متبادل سوچ او رفکر کو سامنے لاکر ایک مہذب معاشرہ کی تشکیل میں کلیدی کردا ر ادا رکرسکتے ہیں۔ اس عمل میں اہم کام تعلیمی اداروں کی سطح پر موجود طلبہ وطالبات پر مشتمل مختلف سوسائٹیوں کا ہوتا ہے۔ سماجی کلچراور سماجی اہم اہنگی کو پیدا کرنے میں ڈرامہ،شاعری،تقریری،آرٹ اینڈ کلچر،میوزک،کھیل سمیت دیگر سوسائٹیوں کی مدد سے تعلیمی اداروں میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے جو سب میں ایک ایسا ماحول پید ا کرے جو سب کے لیے قابل قبول ہواور لوگ مل جل کر رہنے کا سلیقہ سیکھ سکیں۔
پچھلے چند ماہ سے مجھے ادارہ برائے جمہوری تعلیم اینڈ ایڈوکیسی)آیڈیا(کے زیر اہتمام یونیورسٹی آف پنجاب او ریونیورسٹی آف ایجوکیشن کے تعاون سے طلبہ و طالبات میں سماجی اہم اہنگی، رواداری او رمکالمہ کے کلچر کے فروغ کے لیے 30کے قریب پینل ڈسکشن کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ اس پینل ڈسکشن میں چار ہزار سے زیادہ طلبہ وطالبات نے شرکت کی اور تقریبا 100کے قریب مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے بچوں او ربچیوں سے مکالمہ کے انداز میں بات چیت کی۔ یہ دو طرفہ بات چیت کا عمل تھا جس میں ماہرین اور طلبہ وطالبات سب ہی مکالمہ کا حصہ بنے۔ ان پینل ڈسکشن میں جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید پرنسپل کالج آف ارتھ اینڈ انوائرمینٹل سائنسز CEESPU اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روف اے اعظم اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیرز ڈاکڑعمر سلیم،سلمان بھٹی، عمارہ رشید اور زہرہ عثمان کا کردار اہم تھا۔
مجھے احساس ہوا کہ حساس موضوعات پر بچوں کی اپنی فکر ہے او روہ کھل کر اپنا موقف پیش کررہے تھے جو ظاہر کرتا ہے کہ اگر ان کو موقع دیا جائے تو بھی اپنا مقدمہ بہتر انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول اصل مسئلہ تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کا خاتمہ ہے او رجو سوسائٹیاں موجود ہیں ان کی بھی فعالیت کا مسئلہ ہے۔ہم نوجوان نسل پر غصہ تو بہت نکالتے ہیں لیکن کیا واقعی ہم مواقعوں کی فراہمی میں ان سے انصاف بھی کرتے ہیں۔کیونکہ مواقعوں سمیت سازگار ماحول کی فراہمی کے بغیر ہم کسی بڑی تبدیلی کی خواہش نہ کریں۔ اس کے لیے ہمیں ایک بڑی انسانی او رمالی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جو ہمیں بہتر نتائج دے سکے۔
ان مکالمہ سیریز کے نتیجہ میں یہ با ت سامنے آئی ہے کہ ہمیں تعلیمی اداروں کو بنیاد بنا کر ایک بڑی جنگ لڑنی ہے۔ یہ جو جنگ محض انتہاپسندی یا دہشت گردی کے تناظر میں بیانیہ کی جنگ نہیں بلکہ اس بیانیہ کی جنگ میں سماجی انصاف، بنیادی حقوق کی پاسداری او رنئی نسل کو زیادہ سے زیادہ خود مختار بنانا او رمواقع فراہم کرنے کی جنگ بھی لڑنی ہوگی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ نئی نسل میں جو غصہ ہے یا ان کی کیفیت میں غیر یقینی صورتحال ہے تو اس پر بات چیت اور عملی اقدامات کے بغیر ہم سماجی اہم آہنگی اور رواداری کے کلچر کو فروغ نہیں دے سکتے۔ہمیں اپنا پورا تعلیمی نصاب،اساتذہ کی تربیت کا نظام سمیت تعلیم سے جڑے تمام مسائل کا حل نئی سوچ او رنئی فکر و جدیدیت کی بنیاد پر ہو تلاش کرنا چاہیے کیونکہ روائتی انداز میں اب کچھ نہیں ہوسکے گا۔
یہ بات بھی سمجھنے کو ملی کہ اساتذہ او ربچوں او ربچیوں کے درمیان بھی مکالمہ کے کلچر کا فقدان ہے۔یک طرف مکالمہ کی بنیا د پرکسی مثبت کام کی تعمیر ممکن نہیں ہوگی۔تعلیمی اداروں او ربالخصوص جامعات کی سطح پر وائس چانسلر کی قیادت اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ ایک اچھی او رموثر لیڈر شپ ہی اپنے ادارے میں تعلیمی ماحول کو مثبت فکر میں تبدیل کرسکتی ہے۔ خاص طور پر ضرورت اس امر کی ہے ہمیں بین الصوبائی اور بین اضلاع یا مختلف یونیورسٹیوں کے درمیان بھی طلبہ وطالبات اور خود اساتذہ کے درمیان مکالمہ کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ کیونکہ یہ عمل سب فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لائے گا او رایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے میں مدد کرے گا۔