بلاتفریق احتساب کیا جائے: پاکستان بار کونسل

  • منگل 18 / جون / 2019
  • 5950

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سید امجد شاہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قومی دولت لوٹنے والے تمام افراد کا بلا تفریق احتساب یقینی بنائیں۔ تاہم ایسا کرنے کے دوران قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے احتساب کے عمل کے دوران قانون کے بنیادی اصولوں کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس وقت جاری احتساب کے عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف جمہوریت کی بقا بلکہ ریاستی اداروں کی مضبوطی کے لیے بھی ضروری ہے۔

پی بی سی وائس چیئرمین کا بیان سپریم جوڈیشل کونسل میں اعلیٰ عدلیہ کے 2 ججز سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کےکے آغا کے خلاف حکومتی ریفرنس کے آغاز کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

سید امجد شاہ نے کہا کہ مخصوص احتساب، اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پراسیجرز کا منفی ہونا ریاست کے مختلف حصوں کے عام طریقہ کار کو بہت زیادہ نقصان پہنچائے گا اور یہ ملک میں افراتفری کا سبب اور ریاست کو کمزور کرسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز کی ابتدائی سماعت پر بریف کیا۔ 14 جون کو سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز کی ابتدائی سماعت کا بند کمرہ اجلاس ہوا تھا۔ جس میں اٹارنی جنرل نے ریفرنسز کی حمایت میں دلائل دیے۔ ان ریفرنسز میں دونوں ججز پر برطانیہ میں اپنی بیوی اور بچوں کی ملکیت کے اثاثے ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے۔

دوسری جانب ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے امجد شاہ نے بتایا کہ انہوں نے تمام بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کا اجلاس 30 جون کو کوئٹہ میں طلب کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اب بھی عدلیہ کی آزادی، آئین اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ریاست کے کسی ادارے کو دیگر اداروں کے ڈومین سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے‘۔