مہا بلی کا طوطا
ہندوستان کے بڑے بادشاہوں میں ایک نام جلال الدین اکبر کا بھی ہے۔وہی دین الہٰی والے۔ مہا بلی کہلاتے تھے۔
ظل سبحانی کو چیتے پالنے کا شوق تھا۔مورخ بتاتے ہیں کہ حضور کے چیتا خانے میں کوئی نو سو نناوے چیتے تھے۔ہزار کبھی پورے نہ ہو پائے۔ہونے لگتے تو اتفاق سے ایک دو کی موت واقع ہو جاتی۔ مصاحب کان بھرتےکہ یہ حاسدوں کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا کسی سے بدلہ چکانا ہوتا تو اس پر چیتا کشی کا شبہ ظاہر کر دیتے اور یوں جلال الدین جلال میں آ کر اس کی گردن مروا دیتے۔ کچھ زیادہ ہی طیش میں ہوتے تو کسی دل پسند ہاتھی کے پاؤں تلے کچلوا دیتے۔ہاتھی پالنا بھی مہابلی کا محبوب مشغلہ تھا۔دیواریں چنوانے سے کبھی فرصت پاتے تو مست ہاتھیوں کی سواری کرتے دریا کی سیر کو نکل جاتے۔
ان دل پسند جانوروں کی دیکھ بھال اور خاطر تواضح کے انتظامات بھی کم و بیش کچھ ایسے ہی ہوتے تھےجیسے ان دنوں ہمارے محبوب حاکموں کے زیر کفالت چرند پرند کیلئے کئے جاتے ہیں۔یعنٰی اعلیٰ خوراکْ ۔اعلیٰ رہائش۔سرسبز ماحول۔مناسب درجہ حرارت۔خدمتگاروں کی فوج۔
ظاہر ہے یہ سب اخراجات آج کی طرح مہابلی کے شاہی خزانے سے پورے کئے جاتے تھے۔ شہنشاہ ہندسخی تو تھے ہی۔ اور بڑے دل کے بھی۔کبھی پلٹ کر حساب نہ مانگا۔
نازو نعم میں پلتے چرند پرند ان نوازشات پر طلوع سے غروب تک شاہ کے قصیدے پڑھتے۔ جو گا سکتے ،گاتے۔کچھ غٹر غوں کو ہی کافی جانتے۔
تاج محل، شاہی قلعے، اور بڑے بڑے مقبرے بنوانے والے مغل شہنشاہ تو رخصت ہوئے۔ ان کے نام نامی مٹ گئے پر روایات ابھی باقی ہیں۔ پر ایسا نہیں کہ ان روایات کو زندہ رکھنے اور آگے بڑھانے کا سہرا شاہان ہند کے ان جائز ناجائز وارث وارثوں کے سر بندھتا ہو جو گمنامی کے اندھیروں میں کھو جانے کے بعد اب شاید کہیں ٹھیلے لگاتے ہوں۔ اس کا سہرا ان نظام سقوں کے سر ہے جنہوں نے پہلے تو ہاتھ آئی نئی نئی ریاست کے مال غنیمت میں مغلوں سے بھی زیادہ سرعت سے عروج و دولت پائی اور پھر چہروں پر عظمت رفتہ کی سرجری کروا کر وہ شاہانہ شوق اور مشغلے بھی پال لئےجو رعایا پر اپنے جاہ وجلال کی دھاک بٹھانے کیلئے ضروری ہوتے تھے۔رعایا بیچاری کا کیا ہے۔ ان کی شان وشوکت دیکھی تو ان کے وسیع لنگر سے قیمے والے نان کھاتی انہیں کے گن گانے لگی۔کچھ نے غٹر غوں کو ہی کافی جانا۔
اب دیکھیئے سرکاری اور ذاتی شاہی محلات میں کیسے کیسے چرند پرند کو شرف نظارہ بخشا جا تارہا ہے۔کسی نے بھینسیں پالیں تو کسی نے گھوڑے۔شیر رکھنے کا شوق بھی رہا ۔چاہے بھس بھرے ہی کیوں نہ ہوں۔ باغوں میں ہرن چوکڑیاں بھرتے اور مور اپنے رقص کی بہار دکھاتے ہیں۔کسی کو ان مہا شیروں کی کچھار سے خالہ جان دبوچ کر لے اڑتی ہیں تو خدمتگاروں کی شامت آ جاتی ہے۔ہو سکتا ہے کسی نے اپنے پچھواڑے کے جوہڑ میں عیدی امین کی طرح مگر مچھ بھی پال رکھے ہوں جو دھوپ میں جبڑا کھولے دانتوں کی نمائش کرتے ہوں تو مسکراتے نظر آتے ہوں اور انہیں کٹکٹائیں تو اینٹوں سے اینٹوں کی طرح بجنے لگیں۔
صرف اسی پر بس نہیں۔ افواہیں تو یہ بھی ہیں کہ حاکم وقت کے محل میں ایک پورا چڑیا گھر موجود ہے جو ان کے پیش رو نے اپنے عہد مبارکہ میں تعمیر کروایا تھا جو ترک دنیا کے بعد اب زہد و عبادات میں مشغول ہیں اور ان دنوں جہاں ان کا قیام ہے وہ جگہ بھی پنجروں والے کسی چڑیا گھر سے کسی طور کم نہیں۔محل کے اندر بنائے گئے ان کے چڑیا گھر میں کچھ خوش الحان پر کٹے طوطے بھی موجود ہیں اور وہ بھی میکاؤ یعٰنی بڑے والے جو تصویروں میں عام طور سے بحری قزاقوں کے کاندھوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ویسے حق بات تو یہ کہ قزاق بیچارے تو بے وجہ ہی بدنام ہیں ۔ ان سے منسوب کر کے جس منہ پھٹ کا جو جی آئے کہہ دے۔کون پوچھتا ہے۔بات شاہی طوطوں کی ہو تو نمکخواروں کی ایک فوج ظفر موج رعایا کیلئے ان کی موجودگی کو سعد اور نیک فال ثابت کرنے کیلئے دفتر کے دفتر سیاہ کر نے لگتی ہے۔اب یہ محض اتفاق ہی ہو سکتا ہے کہ اگلے وقتوں کے قزاق بھی اپنے جہازوں پر ان کا ہونا نیک فال ہی جانتے تھے۔
اب جس ریاست پر لوگوں کو جان و مال کاتحفظ، روٹی کپڑا چھت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی لازم ہو وہ اگر دس بیس لاکھ روپےبے زبان شاہی طوطوں کو آوارہ بلیوں کے خوں آشام جبڑوں سے بچانے کیلئے ان کے پنجرے بنوانے پر خرچ کر دیتی ہے تو مفت کے قیمہ نان کھانے والے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔ایسی
تھڑ دلی بھی کیا۔
طوطا کسی غریب کے ڈربے میں رہے یا شاہی محل کے زریں پنجرے میں بیٹھا میٹھے بادام کھاتا ہو۔ کاٹنی تو اسے قید بے جا ہی ہے۔حیرت تو یہ ہے کہ سبھی تھڑ دلے حاسد سونے کے پنجروں کی بات تو کرتے ہیں۔ اس کی فریاد کوئی نہیں سنتا :
میں قید میں ہوں ’’ طوطا ‘‘ تو چھوڑ کر دعا لے۔۔