وزیر اعظم کو تضاد سے باہر نکلنا ہوگا

وزیر اعظم عمران خان کی تقریر پر دو ردعمل سامنے آئے ہیں۔  پڑھی لکھی اشرافیہ سمیت سیاسی مخالفین میں ان کی تقریر پر کڑی تنقید سامنے آئی ہے۔

ان کے بقول وزیر اعظم عمران خان کی تقریر ان کی منصب کے برعکس تھی اوریہ تقریر پہلے سے جاری محاذ آرائی یاکشیدگی میں اور زیادہ اضافہ کرنے کا سبب بنے گی۔ بالخصوص ایک ایسے موقع پر جب ملک معاشی بدحالی کا شکار ہو اور ایک قومی اتفاق رائے پر مبنی سیاست درکار ہو،  وہاں وزیر اعظم کو ازخود تناو پر مبنی سیاست سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ دوئم تحریک انصاف اور ایک عام آدمی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عمران خان کی تقریر نے ان لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ کیونکہ عمران خان کی سیاست کا بنیادی نکتہ احتساب پر مبنی سیاست ہے اوراسی نکتہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے قومی سیاست میں اپنی کمٹمنٹ اورمقدمہ پیش کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کی سیاسی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے اورایک شاندار سیاسی حکمت عملی کا مظہر بھی ہے۔ کیونکہ بجٹ میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے وہ لوگوں کو فوری طور پر مطمن کرسکتے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان کو اس بات کا احساس بھی تھا کہ لوگوں میں معاشی تناظر میں کافی مایوسی بھی ہے اور بجٹ کی سیاست لوگوں میں اور زیادہ مایوسی پیدا کرے گی۔ ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی شارٹ نے بجٹ کی سیاست کو پس پشت اور احتساب کی سیاست کو بالادست کردیا ہے۔ ملک میں ایک بڑا طبقہ واقعی ایک کڑا احتساب چاہتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ احتساب کے حوالے سے اس وقت جو سیاسی ماحول موجود ہے اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ لیکن لوگ محض صرف حکومت مخالفین کا احتساب نہیں چاہتے بلکہ حکومت میں شامل سمیت دیگر فریقین کا بھی کڑا احتساب چاہتے ہیں۔

عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وزیر اعظم نے جو تقریر کی ہے وہ ان کے دل کی آواز تھی اور وہ واقعی احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں دیکھنا چاہتے اور اگر واقعی احتساب ہوسکا تو وہ عمران خان ہی کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی مقبولیت کی بھی ایک بڑی وجہ احتساب کا نعرہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس احتساب کے تناظر میں دو پہلو موجود ہیں۔ اول احتساب کا سست عمل اور اس میں موجود رکاوٹوں پر یہ رائے موجود ہے کہ کیا ہمارے ادارے واقعی کوئی بے لاگ احتساب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ احتساب کے عمل سے خوش بھی نہیں ہیں۔ دوئم لوگ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا احتساب محض حکومت کے مخالفین کا ہوگا یا خود حکومت میں شامل ان تمام کرپٹ افراد کو بھی اسی احتساب کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ کیونکہ حکومت مخالف جماعتوں کا یہ نقطہ نظر بھاری ہے کہ اس وقت محض حزب اختلاف نشانے پر ہے اور حکومت کے حامیوں کو سیاسی رعائتیں دی جارہی ہیں۔

وزیر اعظم جس شدت سے ملک میں تبدیلی کی باتیں کرتے ہیں، وہ ماضی میں حکمران طبقات سے بہت کم سننے اور دیکھنے کو ملی تھیں۔ لیکن عملی طور پر بولنے اور عمل کرنے کے درمیان واضح فرق ہوتا ہے۔ لوگ واقعی عمران خان سے اپنے سیاسی منشور پر عملدرآمد دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب خود وزیر اعظم بھی اپنی حکمرانی کے نظام میں موجود داخلی تضادات سے باہر نکلیں۔ کیونکہ یہ رائے بھی عمومی طور پر حکومت اورعمران خان کے بارے میں قائم ہورہی ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں بہت کچھ بدلنے کی بات بھی کرتے ہیں تو دوسرے ہی لمحہ ان پر سیاسی سمجھوتوں کی سیاست بھی غالب ہوجاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کے ارد گرد ایسا سیاسی جم غفیر ہے جو روائتی اور پرانے طرز کی سیاست سے حکمرانی کے نظام کو چلانا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وہ ٹکراؤ ہے جو عمران خان کی حکمرانی سے لوگوں کو مایوس بھی کرتا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سیاست انقلاب اور خواہشات سے زیادہ حقائق پر آگے بڑھتی ہے۔ ہمارے سیاسی حقائق بہت کڑوے اور تلخ ہیں اور  نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سے سیاسی سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ بالخصوص جب آپ کے پاس عددی اکثریت بھی نہ ہو اور آپ کو اتحادی جماعتوں کی مدد سے حکمرانی کرنی پڑتی ہو تو سمجھوتے بھی غالب نظر آتے ہیں۔ ایسے میں بہت زیادہ انقلابی اقدامات کی توقع کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر قیادت کے سامنے اہداف واضح ہوں اور ان کی سیاسی کمٹمنٹ بھی موجود ہوتو حکمران طبقہ ان ہی برے حالات میں سے اچھے حالات بھی پیدا کرتا ہے اور ان اقدامات کو بھی یقینی بناتا ہے جو اس کے انتخابی منشور یا سیاست کے اہم نکات ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک فائٹر ہیں اور واقعی حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کو اقتدار بھی ایسی ہی صورتحال میں ملا ہے جہاں بہت سی چیزیں بگاڑ کا شکار ہیں۔ ان حالات کو واقعی درست کرنا معمولی کام نہیں بلکہ یہ سب کام حکمرانی کے نظام میں غیر معمولی اقدامات چاہتا ہے۔ لیکن مسئلہ ہمارے اداروں کی حالت کا بھی ہے۔ اداروں کو جس بے دردی سے سیاسی مفادات کے تحت بے یارو مددگار کیا گیا ہے وہ خود اپنے اندر ایک بڑی تبدیلی چاہتا ہے۔ روائتی نظام کے حامی اور تبدیلی کے حامیوں کے درمیان جو جنگ ہے اسے لڑنے کے لیے محض جذبات کی نہیں بلکہ ایک درست اور شفاف سیاسی و انتظامی حکمت عملی بھی درکار ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے چناؤ میں زیادہ صلاحیت نہیں رکھتے۔ سیاسی، انتظامی، معاشی اور میڈیا کے محاذ پر جو بھی لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں ان پر وزیر اعظم کو ازسر نو جائزہ لینا چاہیے۔ وہ اپنے اندر بھی کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کے خلاف بھی اسی شدت سے کھڑے نظر آئیں جیسے وہ سیاسی مخالفین کے بارے میں لب ولہجہ رکھتے ہیں۔ پشاور میٹرو بس کے منصوبے میں ہونے والی کرپشن کے معاملے میں ان کی حکومت سمجھوتے کا شکار ہے۔ جن شاہانہ اخراجات پر وہ کھل کر تنقید کرتے تھے ان کے بعض وزرائے اعلی، وزیر، مشیر اور دیگر اہم عہدوں پر موجود لوگ پروٹوکول اور شاہانہ اخراجات اور گورنر ہاوسز، وزرائے اعلی او راہم عہدوں پر موجود افراد کی سرکاری رہائش گاہوں پر بھی وہی ہورہا ہے جو وہ دوسروں کے بارے میں  کہا کرتے تھے۔

پولیس ریفارمزاور مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے میں وزیر اعظم بہت پرجوش ہوتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر پولیس اصلاحات اور مقامی نظام حکومت کے بارے میں ان کی اپنی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا رویہ مایوس کن ہے۔ عدالتی اصلاحات پر بھی ہمیں کچھ دیکھنے کو نہیں مل رہا اور اگر واقعی ہم نے اصلاحات کی مدد سے آگے بڑھنا ہے تو اس کی جھلک ہمیں مختلف شعبوں اور مجموعی طو رپر حکمرانی کے نظام میں غالب نظر آنی چاہیے۔ وزیر اعظم عمران خان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ وہ جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں وہ روائتی فکر سے ممکن نہیں اور اس کے لیے کڑوی گولیاں ہضم کرنی ہوگی۔ ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج حزب اختلاف بھی ہے جو محض عمران خان دشمنی میں ایک ہے اور یہ لوگ حکومت کو کسی بھی صورت میں آسانی سے کام نہیں کرنے دیں گے۔ اسی طرح ان کا ایک چیلنج بیوروکریسی سمیت وہ روائتی اہل دانش ہیں جو خود تبدیلی کے عمل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان سے مقابلہ کرنا بھی ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

لوگوں کو واقعی عمران خان سے بہت سی توقعات ہیں اور لوگ چاہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت ماضی کی حکومتوں سے واقعی مختلف نظر آنی چاہیے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ خود حکمرانی کے نظام سے جڑا ہوا حکمران طبقہ اپنے اندر کی خامیوں کو بھی نہ صرف قبول کرے بلکہ ان کا فوری طور پر ادراک بھی کرے۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر موجود ان تمام لوگوں کو جن پر نیب میں مقدمات ہیں ان کو اہم عہدے دینے کی بجائے اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ پہلے خود کو قانون سے بے گناہ ثابت کریں پھر وہ ان اہم عہدوں کے مستحق ہوں گے اور یہ عمل ان کی حکمرانی کے نظام کی سیاسی ساکھ بھی قائم کرے گا۔

وزیر اعظم عمران خان کو چاربنیادی باتوں پر فوری توجہ دینی ہوگی۔ اول معاشی نظام کو مستحکم اور مربوط کرنا جو عام لوگوں کے مفاد میں ہو۔ دوئم بے لاگ اور کڑا احتساب جو بلاتفریق ہو، سوئم حکمرانی کے نظام کو موثر بنانا اور مقامی نظام حکومت کی مدد سے زیادہ بااختیار مقامی نظام کویقینی بنانا اور چہارم ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو خود بھی جوابدہ ہونا چاہیے او ردوسروں کو جوابدہ بنائے۔