پرانی اینٹوں سے نئے پاکستان کی تعمیر

اہم لوگوں کی پکڑ دھکڑ تو ہو رہی ہے لیکن پیسہ نہیں مل رہا ۔ اب کمیشن بن رہا ہے جو کہ زرداری اور نواز شریف کے عہد حکومت میں لئے گئے قرضوں کے استعمال اور کرپشن کے بارے میں تحقیقات کرے گا۔

 اس سے قبل کئی کمیشن بنے ہیں مگر کیا فائدہ ہوا۔ احتساب کی بات درست ہے جس کا بنیادی مقصد کرپشن کے پیسے کی وصولی ہے۔ کیونکہ قومی خزانے میں اس کی ضرورت ہے کہ کچھ ریکوری کی جائے۔ مزید خرچوں کے بوجھ میں کمی کی جائے۔ سادگی کی دعوے دار حکومت کے اخراجات سب کے سامنے ہیں۔ حکومت کے کئی  ترجمان ہیں بالخصوص پنجاب میں لوگوں کی توجہ کاموں کے حوالے سے مسلم لیگ کی مقامی لیڈر شپ سے ہٹانا ہے۔ اور ان کے کام کروانا ہے۔ ہر ضلع میں تحریک انصاف کے پنجاب کے ہر ضلع میں تحریک انصاف کے منتخب اراکین  موجود نہیں اگر ہیں تو ان سے رابطہ کرنا خاصا مشکل ہے۔

 دوسرا ضلعی حکومتوں کی عدم موجودگی میں مقامی مسائل کے حل کے حوالہ سے عوام سے رابطے میں رہنا ہے۔ بجٹ نے بھی خسارے بڑھا دیے ہیں بیچاری قوم کے پاس ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد بنیادی ضروریات زندگی کی خرید کیلئے کچھ نہیں بچے گا۔  آئندہ بجٹ تک پیٹ پر پتھر باندھنے ہوں گے۔ معیشت کے امور سنجیدہ اور اعداد و شمار خاصے پچیدہ ہوتے ہیں۔ ملک کی اقتصادی بحالی کے بارے میں کوئی اچھی خبر نہیں سنا رہے ہیں۔ ان کے تبصرے بجٹ خساروں میں اضافے کی طرف لے جاتے ہیں۔

 معاشی مشکلات محض احتساب کے نعروں اور جذباتی لفاظی سے حل نہیں ہوتے۔ اداسی ہمارے شہروں کے مکانوں اور دیواروں پر بال بکھیرے سو رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے کئی محاذ ایک ساتھ کھول دیے ہیں۔ کیا حکومت اتنی مقبول ہے کہ تمام کھلواڑ کو سمیٹ لے گی۔ حکومتی پالیسیوں نے اس کی کارکردگی کا بھرم کھول دیا ہے۔ بجٹ کے حوالے سے تمام طبقات پریشان ہیں۔ صرف حکومت میں شامل لوگ اس بجٹ کو انقلابی قرار دے رہے ہیں اور نئے پاکستان کا بجٹ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی تجاویز سے ریاستی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ صورتحال یوں لگتی ہے کہ لوگ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جبکہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ملک میں معاشی استحکام آ گیا ہے۔ جبکہ ڈالر کی قیمت کہیں ٹکتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت کا تعین منڈی کی قوتوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا  بلکہ اس کی قیمت کے حوالے مرکزی بینک کو اقدامات کرنے ہوں گے۔

دوسرا محاذ سیاستدانوں کے احتساب کی وجہ سے کھل گیا ہے۔ میاں نواز شریف پہلے سے جیل میں ہیں۔ اب آصف علی زرداری کے ساتھ ان کی بہن فریال تالپور کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حمزہ شہباز حراست میں ہے۔ احتساب بیورو کی طرف سے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایف بی آر بھی حرکت میں آ چکا ہے اور لوگوں کو نوٹس بھجوائے جا رہے ہیں۔ ایک حکومتی عہدیدارکے بقول 5ہزار افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ملک کی دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اس احتساب کو سیاسی انتقام قرار دے رہی ہیں۔ حالانکہ یہ مقدمات ان کے اقتدار کے دوران قائم ہوئے تھے۔ دیگر جماعتیں بھی اپوزیشن کے موقف کی حامی ہو رہی ہیں۔ گزشتہ روز رائے ونڈ میں مریم نواز کے ساتھ بلاول کی ہونے والی ملاقات سے اپوزیشن کے نئے اتحاد بنانے کا تاثر ابھرا ہے اور وہ جلد ہی حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ شائد اس کا اعلان آل پاکستان پارٹی کی کانفرنس کے بعد ہوگا جس کا اہتمام مولانا فضل الرحمان کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے احتساب کے نام پر ووٹ لیے تھے آج اقتدار میں آنے کے دس ماہ بعد بھی معاشی اور سیاسی ترقی کا کوئی روڈ میپ دینے میں ناکام ہے۔ وہ اب تک دو ضمنی اور ایک سالانہ بجٹ پیش کر چکی ہے۔ اس نے اپنی معاشی ٹیم کو باہر نکال دیا ہے۔ جبکہ غیر منتخب مشیروں اور عالمی اداروں کے عہدیداروں کی مدد حاصل کی ہے اس کا مقصد آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ تحریک انصاف مڈل کلاس کے ووٹوں کے ذریعے انتخابات میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس لئے وہ انہیں ہی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔  اس کا ملک کے غریب طبقات کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

 وہ معاشی اصلاحات کی بجائے احتساب کے ذریعے تبدیلی لانا چاہتی ہے جس کے تحت شریف برادران اور زرداری خاندان کا احتساب ہی ملک و ملت اور جمہوریت کیلئے کافی ہے۔ جبکہ عوام چاہتے ہیں ملک کے تمام طبقات جنہوں نے بد عنوانی کے ذریعے لوٹ مار کی اپنے اثاثے بنائے، کالا دھن کمایا،  ان کا احتساب کرنا چاہیے۔ تاکہ غیر جانبدارانہ احتساب کا تصور اجاگر ہو سکے۔ محض سیاست کو بد نام نہیں کرنا چاہیے دیگر خارجی، داخلی اور معاشی معاملات بھی قابل توجہ ہیں۔

 ایک وقت میں محب وطب اور غدار وطن کے شور مچائے گئے جس کی تان فاطمہ جناح پر ٹوٹی، پھر ایشیا سرخ کی ہوا چلی قائد عوام بنا اس کا کیا حشر ہوا پھر سیکیورٹی رسک اور میڈ اِن پاکستان کے نعرے وجود میں آئے۔ بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک قرار دیا گیا۔ دوسری قسط میں نواز شریف خاندان کا احتساب ہوا۔ زرداری د س سال تک جیل میں رہا۔ آج بھی سیاست کی تان اس پر ٹوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں ہر سطح پر انتشار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معیشت سنبھالی نہیں جا رہی۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف سے سیاسی اختلاف سے قطع نظر ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام لانے میں ان کا اہم کردار ہے۔ جس میں سی پیک کے تحت سڑکوں اور بجلی گھروں کی تعمیر، اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری کے مسائل کو حل کرنا شامل ہے۔  مگر اب ہمیں سی پیک کی پیش رفت میں کچھ نہیں بتایا جاتا۔

 اس افرا تفری  میں نئے پاکستان والے پرانی اینٹوں سے نئی تعمیر کر رہے ہیں۔ ان کے اقدامات سے صنعت کاری اور تجارتی عمل رک گیا ہے۔ محض خیالی پلاؤ پکانے سے پیٹ نہیں بھرا جا سکتا۔ آج عمران خان کو اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے اپنی کارکردگی کا لوہا منوانا ہوگا۔ ملک کی معاشی ترقی کیلئے سٹرکچرل اقتصادی معاشی اور انتظامی اصلاحات کریں۔ انصاف اداروں پر چھوڑ دیں۔ خود کام کریں محض سیاسی مخالف کی بنا پر دوسروں کی تذلیل نہ کریں۔ یوں محسوس ہوتا ہے یہ سب ڈرامہ زرداری اور نواز شریف سے شروع ہو کر محض افسانے اور قصے کہانیاں نہ بن جائے۔