طالبان کے ساتھ جامع امن منصوبے پر بات ہو رہی ہے: امریکہ
- بدھ 19 / جون / 2019
- 4880
امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ محض افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر بات چیت نہیں کر رہا بلکہ مذاکرات کا محور ایک جامع امن منصوبے پر اتفاقِ رائے ہے۔
امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ مجوزہ امن معاہدے کے چار حصے ہیں جو تمام ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ منگل کو ٹوئٹر پر اپنے بیان میں امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدہ جن نکات پر مشتمل ہوگا ان میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق یقین دہانی، غیر ملکی فوج کا انخلا، افغان فریقین کے مابین مذاکرات اور اس کے نتیجے میں کسی سیاسی سیٹ اپ پر اتفاقِ رائے اور ایک جامع اور مستقل جنگ بندی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے اس فریم ورک کو افغان طالبان بھی قبول کرچکے ہیں اور اسی پر فریقین کے درمیان بات چیت ہورہی ہے۔ زلمے خلیل زاد نے یہ وضاحت بظاہر افغان طالبان کے اس بیان کے ردِ عمل میں کی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات کے دوران امریکہ افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا اور مستقبل میں افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر راضی ہوگیا ہے۔
افغان طالبان کے قطر میں واقع سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے منگل کو ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے طالبان کا مرکزی مطالبہ مان لیا ہے اور افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے اور افغانستان کے امور میں مداخلت نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
سہیل شاہین کے اس ٹوئٹ کے چند گھنٹوں بعد طالبان سے مذاکرات کرنے والے امریکی وفد کے سربراہ زلمے خلیل زاد کی یہ وضاحت سامنے آئی کہ امریکہ طالبان کے ساتھ محض اپنی فوج کے افغانستان سے انخلا پر بات نہیں کر رہا بلکہ اس کی ترجیح ایک جامع امن منصوبے پر اتفاقِ رائے ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں خلیل زاد نے یہ بھی کہا ہے کہ "جب تک تمام باتوں پر اتفاق نہیں ہوجاتا ابھی تک کسی ایک بات پر بھی اتفاق نہیں ہوا ہے۔"
امریکہ اور افغان طالبان کی جانب سے یہ متضاد بیانات ایسے وقت آئے ہیں جب دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا نیا دور رواں ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہو رہا ہے۔ قطر میں دونوں فریقوں کے درمیان گزشتہ سال سے جاری مذاکرات کا یہ ساتواں دور ہوگا جسے مبصرین اور سفارت کار بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔